اسلحہ بردار مغربی طاقتوں کی کٹھ پتلیوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے: بشارالاسد

اسلحہ بردار مغربی طاقتوں کی کٹھ پتلیوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے: بشارالاسد

  

دمشق (آئی این پی ) شامی صدر بشارالاسد نے مسلح باغی گروہوں کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں دہشت گرد اور مغربی طاقتوں کی کٹھ پتلیاں قرار دیدیا اور کہا ہے کہ شام میں جس کے ہاتھ میں بھی مشین گن ہے وہ دہشت گرد ہے۔ صدر بشار الاسد نے ہسپانوی خبررساں ادارے ای ایف ای کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کے لیے آج ہی تیار ہے تاہم وہ مسلح گروہوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔ خیال رہے کہ جمعرات کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں حزب مخالف جماعتوں اور باغیوں میں ان اصولوں پر سمجھوتہ طے پایا تھا جن کے تحت شامی حکومت سے امن مذاکرات ہونے تھے۔ اس اجلاس کا واشنگٹن نے خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امن مذاکرات کی جانب اہم قدم قرار دیا تھا۔ ریاض میں منعقدہ حزب اختلاف اور باغی گروہوں کے اس اجلاس میں آزاد ارکان اور سیاسی تنظیموں کے سو سے زیادہ نمائندوں نے شرکت کی جن میں 16 مسلح گروہوں کے نمائندے بھی شامل تھے۔صدر کہتے ہیں کہ ابھی تک ہم دیکھ رہے ہیں کہ سعودی عرب ، امریکا اور کچھ مغربی ممالک کچھ دہشت گرد گروہوں کی ان مذاکرات میں شمولت چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ شامی حکومت سے چاہتے ہیں کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کیے جائیں ، میرا نہیں خیال کہ ملک میں کوئی بھی اس کو قبول کرے گا۔

مزید :

عالمی منظر -