پاک بھارت کرکٹ سیر یز بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی کی نذر

پاک بھارت کرکٹ سیر یز بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی کی نذر

  

پی سی بی کی بے پناہ کوششیں رائیگاں،پاکستان کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑیگا

وزیراعظم اور بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات میں بھی کرکٹ پر بات نہ ہوسکی

سپر لیگ کی تیاریاں عروج،ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں کی بولیوں کا عمل جاری

کھیل اور سیاست دونوں الگ الگ شعبہ ہیں اگر کھیلوں میں سیاست کا عمل دخل شروع ہوجائے تو اس طرح کھیل بھی پھر کھیل نہیں رہتے اور بات حکومتوں تک پہنچ جاتی ہے اور پھر معاملات سنبھلنے کے بجائے مزید بگڑجاتے ہیں حکومتوں کے آپس کے اپنے مسائل ہوتے ہیں اور ان مسائل کو کسی بھی صورت کھیلوں میں شامل نہیں کرنا چاہئیے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک طویل عرصہ سے کھیلوں کے مقابلے توہ منعقد ہورہے ہیں لیکن ان میں اب حکومتوں کی مرضی بھی شامل ہوگئی ہے آئی سی سی کرکٹ کا ایک خود مختار ادارہ ہے اور اس کو چاہئیے کہ وہ کسی ملک کی حکومت کو کھیلوں میں مداخلت سے منع کرے تاکہ کھیل متاثر نہ ہو پاکستان اور بھارت کے درمیان سیریز کا معاملہ کھٹائی میں پڑا ہوا ہے پاکستان کی حکومت اور بورڈ نے تو اس حوالے سے مثبت کردار ادا کیا اور بھرپور کوشش کی کہ یہ مسئلہ حل ہو اور دونوں ٹیمیں سیاست سے بالا تر ہوکر کھیل کے میدان میں اتریں لیکن افسوس کی بات ہے کہ بھارتی حکومت نے سیریز کے انعقاد کی اجازت نہیں دی اور اس طرح دونوں ملک جو کرکٹ کے کھیل کے ذریعہ ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں وہ موقع بھی ان کو نہیں مل سکتا پاک بھارت تعلقات دوبارہ شروع ہوئے ہیں اور ایسے موقع پر کرکٹ کو نظر انداز کرنا کسی بھی صورت درست نہیں ہے ایسے موقع پر تو کرکٹ سیریز کا انعقاد ضرور ہونا چاہئیے تاکہ دونوں ممالک کو قریب آنے میں مدد مل سکے یہ سیریز پاکستان کی سیریزہے اور پی سی بی جس طرح شروع دن سے اس کے لئے کوششیں کررہا ہے یہ آئی سی سی کو بھی نظر آرہا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ وہ اس معاملہ میں خاموش تماشائی بنا ہو ا ہے اور بھارتی بورڈ سے اس حوالے سے خود کوئی بات نہیں کررہا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس میں دلچسپی نہیں لے رہا پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس سیریز کے انعقاد سے ایک بہت بڑا مالی فائدہ حاصل ہوگا جو ملک میں کھیل کی ترقی کیلئے مفید ثابت ہوگا اس لئے اس کو اس سیریز کی بہت زیادہ فکر ہے اور یہ سیریز دونوں ملکوں کے ساتھ ساتھ شائقین کرکٹ کے لئے بھی بہت اچھی ہے جس کا وہ شدت سے انتظار کررہے ہیں بھارتی حکومت کو اس حوالے سے اپنا بھرپور کردارادا کرنے کی ضرورت ہے اگر اس نے اب اس حوالے سے کو ئی اقدام نہ کیا تو پھر اس سے کرکٹ کے کھیل کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا ابھی بھی وقت ہے دیرتو ہوچکی ہے لیکن ابھی بھی معاملات طے کئے جاسکتے ہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان کی کوششوں کی تعریف کی جانی چاہئیے انہوں نے اپنا کردار بہت اچھے طریقہ سے سر انجام دیا ہے اور بہت کوشش کی ہے اب تو سابق کرکٹرز بھی ان کے اس اقدام پر برہم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اب بہت ہوگیا ہے او ر ہمیں بھارت کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے او ربھارت جب خود اس حوالے سے کوئی خیال نہیں کررہا تو پھر ہمیں کیا ضرورت ہے اس کی منت سماجت کرنے کی اور ہماری ایسی کیا مجبوری ہے جس کے لئے ہم اس سیریز کے لئے اتنا کچھ کررہے ہیں اس سے اگر ہمیں نقصان ہے تو بھارتی بورڈ کوبھی بہت نقصان ہے کرکٹ کے کھیل کی ترقی کے لئے مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے او رمعاملات کو احسن طریقہ سے حل کیا جانا چاہئیے امید ہے کہ اس حوالے سے بہتر ہی ہوگا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی محنت ضرور رنگ لیکر آئے گی سابق کرکٹرز کے مطابق اس سیریز کے انعقادنہ ہونے کی بڑی وجہ بھارت حکومت ہے او راس نے اگر اجازت دیدی ہوتی تو یہ معاملہ اتنا آگے تک نہیں جاتا اس لئے اب ضروری ہے کہ بھارت جو پاکستان سے مذاکرات کے بلند و بانگ تو دعوے کرتا ہے زبانی کلامی تو بہت بات ہوتی ہے لیکن اب اس کو عملی طور پر بھی کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان ہمیشہ ان کے اچھے برتا ؤکا خیر مقدم ہی کرے گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ ذکاء اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کو سیریز کیلئے بھارت سمیت کسی سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کے دیگر ملکوں کے ساتھ کرکٹ پر سمجھوتے برقرار ہیں لہٰذا پاکستان کو کسی سے بھی سیریز کی بھیک مانگنے کی ضرور نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے بھی یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ بھارت کو اب پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوئی ضرورت نہیں رہی اور اب وہ بگ تھری حمایت کا ووٹ لینے کے بعد طاقتور بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا وہ پہلے ہی کہتے تھے کہ بھارت معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا اور اس نے اپنے عمل سے یہ بات ثابت کر دی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان نے کہا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کو ابھی تک اپنی حکومت سے پاک بھارت باہمی سیریز کے انعقاد کے لئے اجازت نہیں ملی تاہم پی سی بی مذید تین سے چار دن تک بی سی سی آئی کے جواب کا انتظار کرے گا ۔غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کہاکہ بھارت نے یو اے ای میں باہمی سیریز کھیلنے سے انکار کیا تھا تو پھر دونوں ملکوں کی ٹیموں کا سری لنکا میں کھیلنے کا فارمولہ طے پایا تھا اور بھارتی بورڈ نے اس سلسلہ میں اپنی حکومت سے اجازت مانگی ہے جو کہ ابھی تک نہیں ملی ہے ۔پاکستانی حکومت نے پی سی بی کو سیریز کے انعقاد کے لئے اجازت دیدی ہے لیکن بھارتی بورڈ اپنی حکومت سے اجازت کا انتظار کررہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پی سی بی نے بی سی سی آئی کو سیریز کے انعقاد کے معاملہ میں جواب کے لئے ڈید لائن دی تھی لیکن اگر مذید تین چار دن تک انتظار کرنے کے بعد بی سی سی کی طرف سے جواب آتا ہے تو دیر آید درست آید کے مصداق سیریز کے انتظامات کی مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ بی سی سی آئی کی طرف سے جواب میں ہونے والی تاخیر سے لمحہ بہ لمحہ سیریز کا انعقاد مشکل ہورہا ہے ۔شہر یار خان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کے حکام کے مابین ہونے والی حالیہ ملاقات سے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں بہتری آئے گی ۔دوسری جانب پاکستان سپر لیگ کی تیاریاں عروج پر ہیں اور اس میں ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں کی ایک بہت بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے اور اس سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بہت مالی فائدہ ہونے کی امید ہے ۔پاکستان کر کٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کیلئے 308 کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کردیا۔پہلی سپر لیگ میں 138پاکستانی کھلاڑی شرکت کریں گے، سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ محمد عامر کانا م شامل کرلیا گیا، ایونٹ میں شامل پانچوں ٹیمیں ڈرافٹنگ کے ذریعے کھلاڑیوں کا انتخاب کریں گی۔ پاکستان کر کٹ بورڈ کے مطابق پی ایس ایل کیلئے کھلاڑیوں کی ڈرافٹنگ21 اور 22 دسمبر کو ہوگی جس میں پی ایس ایل کی پانچوں ٹیمیں کھلاڑیوں کا انتخاب کرسکیں گی۔پی ایس ایل ڈرافٹنگ میں سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ محمد عامر کانا م شامل کرلیا گیا ہے جبکہ محمد آصف اور سلمان بٹ کو شامل نہیں کیا گیا۔لیگ میں کرس گیل ،کیون پیٹرسن،شین واٹسن،شاہد آفریدی ،جے وردنے ،سنگا کارا،کیون پولارڈ،ڈیرن سمی سمیت کئی نامور کھلاڑی شر کٹ کریں گے۔ پی ایس ایل کیلئے کھلاڑیوں کو 5 کیٹگریزمیں تقسیم کیا گیا ہے۔ 308کھلاڑیوں میں پاکستان کے138 کھلاڑی شامل ہیں ۔پاکستان کے بعد سب سے زیادہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے جن کی تعداد 59 ہے۔ اس کے علاوہ ویسٹ انڈیزکے 38، سری لنکا کے 22اور آسٹریلیاکے 10 کھلاڑیوں کے نام پی ایس ایل میں شامل کیے گئے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 2 -