میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں پر حملوں کے پیش نظر ایڈیٹرز فار سیفٹی تنظیم کا قیام

میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں پر حملوں کے پیش نظر ایڈیٹرز فار سیفٹی تنظیم کا قیام

  

کراچی(پ ر )نجی ٹی وی چینلز اور متعدد اخبارات کے ایڈیٹرز اور ڈائریکٹرز نیوز کا گذشتہ روز اجلاس ہوا جس میں میڈیا ہاؤسز اور میڈیا نمائندوں پر حملوں کے پیش نظر ’ایڈیٹرز فار سیفٹی ‘تنظیم کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ جبکہ روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس کو تنظیم کا پہلا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے ۔’ایڈیٹرز فار سیفٹی ‘تنظیم میڈیا کودرپیش خطرات اورمیڈیا کیخلاف رونما پُرتشدد کارروائیوں پر غورو فکر کرے گی۔بتایا گیا ہے کہ ’ایڈیٹرز فار سیفٹی ‘تنظیم پاکستان میں موجود میڈیا ہاؤسز اورپروفیشنلز کے لئے خطرناک سطح تک پائے جانے والے عدم تحفظ پر اپنی توجہ مرکوز کرے گی۔ ’ایڈیٹرز فار سیفٹی ‘کے قیام کا بنیادی فلسفہ کسی بھی صحافی یا میڈیا ہاؤس پر حملہ پوری صحافتی برادری پر حملہ تصور ہو گا ۔تنظیم کے ایسے ارکان جو ایسی کسی صورتحال کا جائزہ لیں گے یا مشترکہ طور پر میڈیا کیخلاف پُرتشدد کارروائی یا حملے کی صورت کوریج سے متعلق فیصلہ کرینگے وہ اسے ایسا ہی تصور کریں گے کہ جیسے یہ حملہ خود ان کیخلاف ہوا ہے۔اس کے علاوہ ’ایڈیٹرز فار سیفٹی مدد کے متلاشی صحافی اور میڈیا ہاؤس کو ایسی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے جن میں معلومات و مہارت کا تبادلہ یا معاملے کے لئے سٹیک ہولڈرز تک رسائی شامل ہو گی ۔ ’ایڈیٹرز فار سیفٹی ‘میڈیا پر حملوں اور لاحق خطرات کے پیش نظر متعدد نیوز پیپرز ایڈیٹرز اور ڈائریکٹرز ٹی وی نیوز کے درمیان قریبی اور بروقت تعاون یقینی بنا چکی ہے جبکہ ایسے حملوں کی صورت میڈیا کوریج کے معیار کو پہلے سے ہی بہتر بنا یا جا رہا ہے ۔ یہ فیصلہ اس لئے عمل میں لایا گیا ہے تاکہ میڈیا ہاؤسز صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز پر ملک بھر میں ہونے والے حملوں اور خطرات کیخلاف سزا سے مستشنیٰ رواج کے خلاف یک زبان ہو کر آواز بلند کر سکیں اور مجرمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام نیوز پیپرز کے ایڈیٹرزاور ٹیلی ویژنز نیوزکے ڈائریکٹرز کو ’ایڈیٹرز فار سیفٹی ‘میں شامل کرنے کے لئے ان تک رسائی کی جائے ۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی(اے پی این ایس )، پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشنز (پی بی اے)اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای )سے مشاورت کی جائے اور ان تمام کو ’ایڈیٹرز فار سیفٹی ‘تنظیم کے نمائندگان نامزد کرنے کے لئے مدعو کیا جائے۔ روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی ، بزنس ریکارڈر کے وامق زبیری،کے ٹی این اور کاوش کے علی قاضی، ایکسپریس نیوز کے فہد حسین ،جیو نیوز کے اظہر عباس ، جنگ گروپ کے شاہ رخ حسن ’ایڈیٹرز فار سیفٹی ‘کی تشکیل اور اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں شامل تھے۔ آن لائن نیوز ایجنسی کی جانب سے عبدالخالق ، روزنامہ انتخاب کی جانب سے سے انور ساجدی،آج ٹی وی کی جانب سے عامر احمد خان ، روزنامہ ایکسپریس کی جانب سے طاہر نجمی ، عوامی آواز کی جانب سے جبار خٹک، ڈان نیوز کی جانب سے زاہد مظہر، ڈان ڈاٹ کام ویب سائٹ کی جانب سے جہانزیب حق ، ایکسپریس ٹریبون کی جانب سے نوید حسن ،اے آر وائے نیوز کے فرحان رضا،اے وی ٹی کے عمران سلیم ڈار، ڈان کے ظفر عباس اور پی پی ایف کے اویس اسلم علی نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔ نیوز پیپرز اور ٹی وی چینلز کی جانب سے جو عہدیدار شرکت نہ کرسکے تاہم ’ایڈیٹرز فار سیفٹی ‘پر مشاورت کا حصہ رہے اور تنظیم کے لئے اپنی رضامندی دی ان میں ’پاکستان ٹو ڈے اور چینل 24‘کے عارف نظامی ،’نوائے وقت اور دی نیشن گروپ‘کی جانب سے رمیضہ نظامی ، دنیا نیوز کی جانب سے کامران خان ، ’عبرت‘کی جانب سے قاضی عابدجبکہ بلوچستان ایکسپریس کی جانب سے صدیق بلوچ شامل ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف )’ایڈیٹرز فار سیفٹی ‘ تنظیم کا سیکرٹریٹ ہو گا۔

مزید :

صفحہ آخر -