خود کش جیکٹ والوں نے موسیقی، شاعری اور مصوری سے دورکیا، پرویز رشید

خود کش جیکٹ والوں نے موسیقی، شاعری اور مصوری سے دورکیا، پرویز رشید

  

لاہور (جنرل رپورٹر، فلم رپورٹر ) وفاقی وزیربرائے اطلاعات ونشریات اورسینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ لاہور نے ایک ایسا زمانہ بھی دیکھا ہے کہ یہاں پرمصورکواپنی تصویر کی نمائش کیلئے جگہ فراہم نہیں ہوتی تھی اوراگرکوئی اپنے فن کی نمائش کرنا چاہتا یا اظہارکرتا تواس کوڈنڈوں سے مارا جاتا تھا ۔ پھرخود کش جیکٹ کا زمانہ آگیا ۔ جس نے ہمیں موسیقی، رقص، شاعری، مصوری اور علم سے دورکیا۔ لیکن پاکستان کے بہادرجوانوں، سیاستدانوں نے مل کرفیصلہ کیا کہ ہمیں خود کش جیکٹ سے جان چھڑانی ہے اوردوبارہ اپنے بچوں کو کتاب کے قریب کرنا ہے۔ ہم نے یہ مقاصد بھی حاصل کئے ہیں اور اپنا لاہورواپس لیا ہے اور اب یہاں پرہر طرح کی ثقافتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں جبکہ حکومت اورسول سوسائٹی ان میں شامل ہوتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہاروفاقی وزیرنے گزشتہ روزالحمراء انٹرنیشنل لٹریری اینڈ کلچرل فیسٹیول میں منعقدہ سیشن ’’صحافت یاادب‘‘ سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پرروزنامہ پاکستان کے مدیر اعلیٰ ممتاز صحافی مجیب الرحمن شامی، سینئرصحافی جاوید چوہدری، لطیف چوہدری، عارف نظامی، منصورآفاق، نویدچوہدری، عطاء الرحمان، افضل بٹ، چوہدری غلام حسین، اورعطاء الحق قاسمی سمیت دیگرموجود تھے۔ اس موقع پرپرویزرشید نے کہا کہ ادب کے بغیرصحافت نا مکمل ہے اور صحافت کے بنا ادب۔ دونوں شعبوں کا بہت گہرا رشتہ ہے۔ پاکستان میں جب سے ادیب اورصحافیوں کوایک ساتھ بیٹھنے سے دورکیا گیا ہے،تب سے حالات میں خرابی پیدا ہورہی ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -