بنے کی قمیت مقرر نہ کرنے پر کاشتکاروں کا احتجاج ، پولیس کا لاٹھی چارج

بنے کی قمیت مقرر نہ کرنے پر کاشتکاروں کا احتجاج ، پولیس کا لاٹھی چارج

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ کے کاشت کاروں کی جانب سے گنے کی قیمت مقرر نہ کرنے کے خلاف ریڈ زون کا علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ کے باعث 2 پولیس اہلکاروں سمیت کئی مظاہرین معمولی زخمی ہوگئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے بچاؤ کے لئے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ مظاہرین رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے آرٹس کونسل چورنگی تک پہنچ گئے اور وہاں دھرنا دیدیا۔ آباد کاروں کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت سندھ گنے کی 185 روپے من مقرر نہیں کرے گی ہمارا احتجاج جاری رہے گا اور اگر ہمارے مطالبات نہیں مانے گئے تو پھر سندھ کی قومی شاہراؤں پر دھرنے دیئے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ آباد گار بورڈ اور سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کے تحت ہفتہ کو گنے کے کاشت کاروں کی بڑی تعداد کراچی پریس کلب پہنچ گئی۔ کاشت کاروں نے پہلے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر گنے کی قیمت مقرر کرنے کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے بینرز پر گنے کی فصلیں اور وزیراعلیٰ سندھ سے کئے جانے والے مطالبات درج تھے۔ کاشت کاروں کا کہنا تھا کہ گنے کی قیمت مقرر نہ کرنے کی وجہ سے ان کے اہل خانہ فاقہ کشی کا شکار ہوگئے ہیں۔ یہ صورت حال خطرناک ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سندھ آباد گار بورڈ اور سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کے رہنماؤں مجید نظامانی، لعل بخش، محفوظ ،سرتاج سرہیو اور دیگر نے کہا کہ ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گنے کی قیمت 200 روپے فی من مقرر کی جائے لیکن حکومت سندھ نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ گنے کی قیمت 185 روپے فی من مقرر کی جائے گی لیکن حکومت نے اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا۔ مل مالکان 160 روپے فی من گنا خرید رہے ہیں اور صوبے میں غیر قانونی طور پر گنے کی کرشنگ کا آغاز کردیا گیا ہے یہ صورتحال خطرناک ہے۔ گنے کی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کی وجہ سے آباد گار اور کاشت کار شدید مالی پریشانی کا شکار ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ گنے کی قیمت فوری مقرر کی جائے۔ بعد ازاں مظاہرین کراچی پریس کلب سے ریلی کی صورت میں وزیراعلیٰ ہاؤس روانہ ہوئے تاہم پولیس نے انہیں ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین میں تلخ کلامی ہوگئی جو بعد میں جھڑپ میں تبدیل ہوگئی۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی اور رکاوٹوں کو ہٹادیا جس پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے شیلنگ کی اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ سے مظاہرین اور کئی پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ مظاہرین رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے آرٹس کونسل چورنگی سے ہوتے ہوئے سندھ اسمبلی کے قریب پہنچ گئے اور وہاں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے لئے مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما جام مدد علی اور تحریک انصاف کے مقامی رہنما بھی پہنچے۔ مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما جام مدد علی بھی واٹر کینن کی زد میں آگئے اور پانی لگنے کے سبب ان کے کپڑے بھی گیلے ہوگئے تاہم بعد ازاں وہ سندھ اسمبلی کے باہر دیئے جانے والے دھرنے میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت گنے کے کاشت کاروں کے مسائل حل نہیں کررہی ہے۔ گنے کی امدادی قیمت مقرر نہ کرنا افسوسناک عمل ہے۔ ہم کاشت کاروں کے ساتھ ہیں اور ان کے مطالبات کے حل کے لئے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔ گنے کے آباد گاروں اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جائے گا ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔ اگلے مرحلے میں سندھ کی قومی شاہراؤں پر دھرنے دیئے جائیں گے۔ احتجاج کے سبب پریس کلب، فوارہ چوک، آئی آئی چندریگر روڈ اور اطراف کی شاہراؤں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔ لوگ اپنی گاڑیوں میں پھنسے رہے۔ پولیس نے مظاہرین کو وزیراعلیٰ ہاؤس جانے سے روکنے کے لئے ایک شاہراہ پر بڑی تعداد میں رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں اور سی ایم ہاؤس کی طرف جانے والی سڑک کو بند کردیا تھا۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -