ِ’’ سیاچن پر اب تک 869بھارتی فوجی ہلاک ، ہزاروں اپاہج ہو چکے‘‘

ِ’’ سیاچن پر اب تک 869بھارتی فوجی ہلاک ، ہزاروں اپاہج ہو چکے‘‘

  

سری نگر/ نئی دہلی ( اے این این ) دنیا کے بلند ترین میدان جنگ سیاچن پر اب تک 869 بھارتی فوجی ہلاک ٗہزاروں اپاہج ہوچکے ہیں ٗ ہلاک ہونے والوں میں 33 اعلی افسران ٗ54 جونیئر کمیشنڈ آفیسرز بھی شامل ٗ فوجی اہلکاروں کیلئے سپیشل وردی اور کوہ پیمائی میں کام آنے والے آلات خریدنے پر 7500 کروڑ روپے کی رقم صرف کی گئی ٗلوک سبھا میں وزیر مملکت برائے امور دفاع کا تحریری جواب ٗ جبکہ ایڈیشنل ڈی جی سی آر پی ایف ایس کے بھگت نے کا کہنا ہے کہ کشمیری نوجوانوں کا مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونا باعث تشویش ہے ۔ تفصیلات کے مطابق لوک سبھا میں ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے امور دفاع کے مرکزی وزیر مملکت را اندرجیت سنگھ نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کے لداخ خطے میں واقع سیاچن گلیشیر پر1984سے 869 فوجی اہلکار مارے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن میگھ دوت کے تحت سیاچن گلیشیر پر 1984 سے اب تک موسمی و ماحولیاتی حالات اور دیگر وجوہات سے ہلاک ہونے والے فوجی افسران کی تعداد33ہے۔اس کے علاوہ گلیشیر پر تعینات فوج کے54جونیئر کمیشنڈ آفیسراور 782دیگر اہلکار بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔را اندر جیت سنگھ نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران فوجی اہلکاروں کیلئے کپڑے اور دیگر ضروری سازوسامان کی خریداری پر مجموعی طور7500کروڑ روپے کی رقم صرف کی گئی ہے۔انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ سیاچن میں فوج کو درکار55اقسام کے کپڑوں اور کوہ پیمائی کے آلات میں سے صرف 20 اشیابیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مدپر2012-13کے دوران2280.5430کروڑ روپے جبکہ2013-14کے دوران 1919.3100کروڑ روپے کی رقم خرچ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سال2014-15میں2366.5943کروڑ جبکہ رواں سال کے دوران30نومبر تک 938.5400کروڑ روپے صرف ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ایڈیشنل ڈی جی سی آر پی ایف ایس کے بھگت نے کہا ہے کہ ریاست میں مجموئی طور پر ابھی بھی 200 مجاہد سرگرم ہیں تاہم ہم اعداد وشمار پر یقین نہیں رکھتے اور عمومی طور پر ماحول کو دیکھتے ہیں۔ وادی کے نوجوانوں کا مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور فوج نوجوانوں کو ایسا کرنے سے روکنے کیلئے اقدمات کر رہی ہے ۔ سرینگر میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقعہ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وادی میں مقامی اور غیر ملکی مجاہدین کی تعداد 200 کے قریب ہے ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک برس کے دوران سی آر پی ایف نے 40 مجاہدین کو شہید کیا اور اس دوران سی آر پی ایف کے اہلکار بھی کافی تعداد میں زخمی ہوئے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقامی نوجوان جو مجاہدین کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں یہ ایک سنگین معاملہ ہے تاہم فورسز ایسے نوجوانوں کو ایسا کرنے سے روکنے کیلئے ہر طرح کے اقدمات کرے گئی ۔انہوں نے کہا کہ سی آر پی ایف کی جانب سے وادی بھر میں نوجوانوں کیلئے کھیل کود کے پروگراموں کا انعقاد کر رہی ہے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کیلئے ہر قسم کے اقدمات کئے جا رہے ہیں۔لیکن جو لوگ نوجوانوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں وہ امن وامان کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -