شمالی وزیر ستان کے متاثرین کا ڈھول کی تھاپ پر احتجاجی مظاہرہ

شمالی وزیر ستان کے متاثرین کا ڈھول کی تھاپ پر احتجاجی مظاہرہ

  

بنوں(نمائندہ پاکستان )متاثرین شمالی وزیرستان کے سینکڑوں قبائلیوں نے واپسی اور دیگر مسائل کے حل کیلئے یوتھ آف شمالی وزیرستان کی نگرانی میں ڈھول کی تھاپ پر احتجاجی مظاہرہ کیا ،مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ ز اور بینرز اُٹھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے مظاہرہ میلاد پارک بنوں سے ہوتا ہُوا بنوں پریس کلب پہنچا ۔ جہاں پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہُوئے یوتھ آف شمالی وزیرستان کے صدر نو ر اسلام ، جنرل سیکرٹری گلزار داؤڑ ،چیئرمین سورج داؤڑ ،کوثر داؤڑ ،ملک کلیم اللہ ،تحسین داؤڑ،امین اللہ ،نسیم خان ا وردیگر نے کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان متاثرین شمالی وزیرستان کیساتھ ظم اور زیادتی بند کرے پاکستان افغانستان کیساتھ معاملہ سفارتی سطح پر اُٹھائیں دوسری جانب ہم اپنے ہی ملک میں ظلم کا شکار ہیں وزیرستان میں ٹھیکداروں نے کباڑ کی آڑ میں ہمارے صحیح سالم گھروں کو مسمارکرکے قیمتی سامان لوٹ کر ملک کے مختلف حصوں میں نیلام کر رہے ہیں مظاہرین نے کہاکہ بنوں پولیس نے متاثرین کی گاڑیوں کی پکڑ دکڑ شروع کی ہے جسے بھاری رشوت دے کر آزاد کرتے ہیں حالانکہ ہمیں وزیرستان سے نقل مکانی کرتے وقت آرمی اور پولیٹیکل انتظامیہ کی جانب سے رجسٹریشن جاری کی گئی اور ہماری گاڑیاں اضلا میں آزاد ہیں ۔مظاہرین نے کہا کہ ہم نے امن کی خاطر وزیرستان سے نقل مکانی کی ہے اب حکومت کے اعلانات کہ وزیرستان کا 95فیصد علاقہ کلیئر کر دیا گیا کلیئر کردہ علاقوں کو متاثرین کی واپسی جلد ممکن بنائی جائے واپسی کے موجودہ عمل سے ہم مطمئن نہیں روزانہ کی بنیاد 5ہزار خاندان واپس بھیجے جائے اگر انتظامیہ کو عملے کے طور پر ہماری ضرورت پیش ہو تو ہم رضا کارانہ ڈیوٹی سرانجام دینے کو تیار ہیں اُنہوں نے کہا کہ غیر سرکاری تنظیموں میں بھرتی کیلئے وزارت سیفران کے احکامات کے باوجود وزیرستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے ایک فیصد کوٹہ بھی مختص نہیں کیا گیاا ور رشتہ دار اور دیگر اضلاع کے لوگ بھرتی کئے گئے جو کہ ہمیں کسی صورت قبول نہیں اس کیساتھ ساتھ فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں بھی ہمارا حق ہے ہمارے نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے۔تاجر برادری سمیت وزیرستان کے تمام قبائل کے مسمار شدہ مکانات کا مکمل معاضہ دیا جائے بیرون ممالک سے آنے والے متاثرین کو قومی شناختی کارڈ پر وزیرستان جانے کی اجازت دی جائے آج ہمارے سینکڑوں تارکین وطن بنوں میں موجود ہیں اور ان کے خاندان واپس جا چکے ہیں اُنہوں نے کہا کہ متاثرین کے ماہوار امدادی پیکج جوکہ ضائع ہونے کی صورت میں ایف ڈی ایم اے کو واپس کرا دی گئی ہے انکو فوراً بحال کیا جائے اور آئندہ کیلئے اس اقدام سے گریز کیا جائے کیونکہ اگر ہمیں اس حق سے محروم کیا گیا تو ہمارے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ آتھارٹی کو متاثرین کی تقریباً 7800بلاک رجسٹریشن پرچی جمع کروا گئے ہیں لیکن وہاں ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے اور جواب ملتا ہے کہ ڈی آئی جی ایف ڈی ایم اے نے دسمبر 2014میں رجسٹریشن بند کر دیا ہے۔مظاہرین نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں موجود تما اقوام کے مسائل و مشکلات کو برابری کی بنیاد پر ہنگامی طور پر حل کئے جائیں۔مظاہرین نے دھمکی دیتے ہُوئے کہا کہ ماہ کے اندر ہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھرتی نہیں کیا گیا تو راشن پوائنٹ کا گھیراو کریں گے۔مظاہرین نے کہا کہ اگر ان کے مذکوہ مسائل حل نہیں کئے تو پشاور اور اسلام آباد سمیت سفارتحانوں کے سامنے احتجاج کریں گے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -