پاکستان اور بھارت کے قانون سازوں اور سرکاری حکام کا تعلقات بہتر بنانے پر اتفاق

پاکستان اور بھارت کے قانون سازوں اور سرکاری حکام کا تعلقات بہتر بنانے پر ...
پاکستان اور بھارت کے قانون سازوں اور سرکاری حکام کا تعلقات بہتر بنانے پر اتفاق

  

دبئی (این این آئی) پاکستان اوربھارت کے قانون سازوں اور سرکاری حکام نے اتفاق کیا ہے کہ دونوں ملکوںکے درمیان تعلقات کو بہتر بنایا جائے تاکہ وہ آزادانہ طورپر مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں ۔یہ اتفاق رائے گزشتہ روز یہاں پلڈاٹ کے زیر اہتمام ڈائیلاگ میں کیاگیا ۔ڈائیلاگ میں پاکستان سے پیپلز پارٹی کے رہنما رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر اور بھارت سے رکن راجیہ سبھامانی شنکر آئر کی سربراہی میں وفود نے شرکت کی ۔شرکاءنے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے مختلف امورپر تجربات کے تبادلے کےلئے بھی اجلاس تیسرے ملک میں ہورہے ہیں انہوںنے پاکستان اور بھارت کے شہریوں کے درمیان تجربات کے تبادلے اور آزادانہ تبادلہ خیال کےلئے تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔شرکاءنے اس مقصد کےلئے پلڈاٹ کی کوششوں کو سراہا ۔اس موقع پر مقامی حکومت کے بارے میں دونوں ملکوں کے نظام کا جائزہ لیا گیا ۔شرکاءنے کہاکہ اس حوالے سے بھی دونوں ملکوں کو مشترکہ چیلنجوں کا سامنا ہے اور مقامی حکومت نظام کو مستحکم بنانے کےلئے مضبوط قانون سازی کی ضرورت ہے ۔بھارتی آئین میں بلدیاتی نظام کے تسلسل کو یقینی بنانے کی ضمانت دی گئی ہے ۔شرکاءنے کہاکہ با مقصد انداز میں اختیارات نچلی سطح پر دیئے جانے چاہئیں اور ریاستی و صوبائی مالیاتی کمیشن مقامی حکومتوں کو وسائل بھی فراہم کرے ۔عوام کی بنیادی ضروریات اور جمہوری ڈھانچے کو مضبوط بنانے کےلئے مقامی حکومت نظام کا تسلسل ناگزیر ہے ۔اس موقع پر بھارت کی طرف سے بعض ریاستوں میں بلدیاتی انتخابات کے امیدواروں کےلئے کم از کم تعلیمی قابلیت کے بارے میں قوانین پر تشویش کا اظہار کیاگیا اور کہا گیا کہ اس سے بڑی تعداد میں خواتین اور پسماندہ طبقے اس عمل سے شرکت سے رہ جاتے ہیں تاہم اس امر کو بھی تسلیم کیا گیا کہ تعلیم یافتہ نمائندے مقامی حکومت کا اثاثہ ہوسکتے ہیں ۔دونوں ملکوں میں انتخابی اخراجات کو بڑا چیلنج قرار دیا گیا جس کی وجہ سے معاشرے کا بڑا طبقہ اس امر میں حصہ نہیں لے سکتا ۔ڈائیلاگ میں پاکستان میں بلدیاتی نظام کے تحت خواتین کےلئے 33فیصد نشستیں مختص کر نے کے اقدام کو سراہا گیا تاہم کہا گیا کہ خواتین کی را ہ میں حائل سماجی و ثقافتی رکاوٹوں کو دور ہوناچاہیے ۔انسداد بدعنوانی کےلئے بھی دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیا گیا اور شرکاءنے اتفاق کیا کہ کرپشن کے خاتمے کےلئے موثر ادارے اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے ۔اس مقصد کےلئے شرکاءنے شہریوں کو اطلاعات کا حق دینے پر زور دیا جس سے شفافیت یقینی بنائی جاسکتی ہے ۔شرکاءنے کہاکہ پاکستان نے اطلاعا تک رسائی کے حق کے بارے میں قانون جلد پارلیمنٹ میں لایا جاناچاہیے جبکہ سندھ اور بلوچستان کو بھی ہنگامی بنیادوں پر قانون سازی کر نی چاہیے شرکاءنے اتفاق کیا کہ سیاسی جماعتیں بھی خود کو عوام کے سامنے احتساب کےلئے پیش کریں ان میں بھی کرپشن ہر گز نہیں ہونی چاہیے اور امیدواروں کے انتخاب میں بھی اس چیز کو مد نظر رکھنا چاہیے ۔شفافیت کےلئے فعال سول سوسائٹی جدید ٹیکنالوجی اور میڈیا کو استعمال کیا جاسکتا ہے ڈائیلاگ میں پاکستان کی طرف سے شریک ہونے والے دیگر ارکان میں پشاور کے ضلعی ناظم ارباب محمد عاصم خان رکن سندھ اسمبلی بیگم مہتاب اکبر راشدی رکن پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید رکن پنجاب اسمبلی انجینئر قمر الاسلام راجہ ڈائریکٹر لوکل گور ننس سکول پشاور سعید رحمن ڈائریکٹر جنرل نیب پنجاب میجر ریٹائر ڈ سید برہان علی اور سینیٹر تاج محمد آفریدی شامل تھے جبکہ بھارت سے سابق پنچائت صدر اریادن شوکت عام آدمی پارٹی کے ترجمان اشتوش سابق وزیر اعلیٰ ہر یانہ بھبھندر سنگھ ہودا رکن قانون ساز اسمبلی ڈاکٹر شرن پر کاش پٹیل راجستھان سے رکن اسمبلی مہندرا جیت سنگھ مغربی بنگال سے رکن اسمبلی ڈاکٹر سکھ بلاس برما وی ڈی ستیسن ڈاکٹر نوپر ٹواری اور نندانہ ریڈی نے شرکت کی ۔ماہرین کے طورپر سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سابق گور نر پنجاب شاہد حامد نئی دہلی سے انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے چیئر مین پروفیسر جارج میتھیو جبکہ پلڈاٹ کی طرف سے صدر احمد بلال محبوب ¾ جوائنٹ ڈائریکٹر آسیہ ریاض پراجیکٹ آفیسر شاہراہ خان اور ریسرچ آفسر نتین مہتا نے شرکت کی ۔

مزید :

بین الاقوامی -