امریکہ نے کرپٹ سیاستدانوں سے نرمتی برتنے اور داعش کیخلاف اتحاد کا حصہ بننے سمیت پاکستان سے 4 بڑے مطالبات کردئیے

امریکہ نے کرپٹ سیاستدانوں سے نرمتی برتنے اور داعش کیخلاف اتحاد کا حصہ بننے ...
امریکہ نے کرپٹ سیاستدانوں سے نرمتی برتنے اور داعش کیخلاف اتحاد کا حصہ بننے سمیت پاکستان سے 4 بڑے مطالبات کردئیے

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے طالبان سے مذاکرات کیلئے تعاون، لشکرطیبہ کے خلاف کارروائی، کرپٹ پاکستانی سیاستدانوں کے خلاف احتساب کا عمل روکنے ا ور داعش کیخلاف بننے والے عالمی اتحاد میں شمولیت کے مطالبات کردیے ہیں ، امریکی نائب وزیر خارجہ انتونی بلنکن کا دورہ پاکستان صرف ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کیلئے نہیں تھا بلکہ اس کے کئی مقاصد تھے۔ امریکہ نے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے ہی بھارت کو مذاکرات پر آمادہ کیا، تاکہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ تنازعات کے حل میں مدد کا لالچ دے کر اپنے مطالبات منظور کرائے جاسکیں۔

روزنامہ امت کے مطابق نائب امریکی وزیر خارجہ 6 دسمبر کو دہلی گئے اور دو روز وہاں رہنے کے بعد پاکستان آئے۔ بھارت میں ان کی مصروفیات میں مودی حکومت کو مذاکرات کی راہ اختیار کرنے پر قائل کرنا شامل تھا، بھارت کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے بعد امریکی نائب وزیر خارجہ پاکستان پہنچے، جہاں امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان رچرڈ اولسن بھی ان کے ہمراہ ہوگئے اور اس دو رکنی وفد نے صرف ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کی، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ کی 4 ملکی کانفرنس الگ بھی کی گئیں اور ان مذاکرات میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

بعدازاں امریکی نائب وزیر خارجہ نے وزیراعظم پاکستان، وزیر داخلہ اور سرتاج عزیز سمیت آرمی چیف سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اس سے قبل جرمن وزیر دفاع بھی دورے پر پاکستان آئیں اور انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف سے ملاقاتیں کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکی وفد کا ایجنڈا وسیع رہا۔ انہوں نے اپنی ملاقاتوں میں پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائیں اور افغانستان میں طالبان کے بڑے حملے رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا مطالبہ تھا کہ آرمی چیف جب یہ کہتے ہیں کہ پاکستان ہر طرح کے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کررہا ہے، تو پھر پاکستان کو تحریک طالبان اور لشکر طیبہ میں فرق نہیں کرنا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق حیرت انگیز طور پر اس بار لشکر طیبہ کا تذکرہ امریکیوں کی زبان پر زیادہ رہا اور ایسا محسوس ہوا کہ امریکیوں کے منہ میں بھارتی زبان آگئی ہو۔ پاکستان کا موقف یہ رہا کہ ایک طرف پاکستان سے ا فغانستان طالبان کے تمام دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے تو پھر پاکستان کو ان کے ساتھ ایک حد تک اعتماد بحال کرنا ہوگا لہٰذا اس معاملے پر دباﺅ نہ ڈالا جائے۔

’امت‘ کو معلوم ہوا ہے کہ ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ امریکی حکام پاکستان میں ایک اور معاملے میں مداخلت کررہے ہیں اور وہ ہے کہ کرپشن میں ملوث سیاست دانوں سے صرف نظر رکنا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس دورے میں بھی امریکیوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ کرپشن میں ملوث سیاستدانوں کے خلاف کارروائی سے سیاسی بحران پیدا ہوگا، لہٰذا اس سے احتراز کیا جائے۔ ذرائع کے بقول خدشہ ہے کہ ان کا یہ مطالبہ مان لیا جائے گا کیونکہ سول حکومت بھی ان کی ہم آواز دکھائی دے رہی ہے تاہم اطلاعات کے مطابق امریکیوں کا ایک مطالبہ یکسر مسترد کردیا گیا ہے جس کا تعلق داعش کے خلاف عالمی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی نائب وزیر خارجہ نے اس حوالے سے ہر سطح پر بات کی ہے اور نہ صرف یہ کہ ریجنل معاملات میں پاکستان کی مدد کرنے کی یقین دہانی کا لالچ دیا گیا، بلکہ امریکیوں نے پاکستان کو بھاری مالی مفادات کی بھی پیشکش کی ہے۔ مگر پاکستانی قیادت نے مزید کسی عالمی تنازع سے خود کو دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نہ صرف یہ کہ دورہ امریکہ میں پاکستانی حکام نے امریکہ کو صاف منع کردیا تھا اور اب پھر ان سے معذرت کرلی گئی ہے کہ پاکستان اپنے ملک کے اندر داعش سمیت کسی بھی شدت پسند تنظیم کو جڑ نہیں پکنے دے گا، مگر کسی دوسرے ملک میں جاکر اپنے لئے مسائل بھی پیدا نہیں کرے گا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جرمن وزیر دفاع کی پاکستان آمد کا مقصد بھی داعش کے خلاف عالمی اتحاد میں پاکستان کو گھسیٹنے کی کوشش ہے، حکومتی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ انٹیلی جنس کے تبادلے کے حوالے سے بھی پاکستان صرف انہی ممالک کے ساتھ عاون کرے گا، جو ملک پاکستان کے ساتھ برابری کی سطح پر تعاون کرے گا۔ذرائع کے مطابق دوسری جانب افغانستان کے حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور اس میں امریکی نائب وزیر خارجہ نے اہم کردار ادا کیا ہے کہ افغان حکومت کا ایک وفد صلاح الدین ربانی کی قیادت میں آئندہ چند روز میں پاکستان آئے گا، جو پاکستانی حکام سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے باقاعدہ بات چیت کرے گا۔ اس حوالے سے پاکستان نے مری مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں افغان حکومت کے منفی رویے کی شکایت کی اور مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ کیلئے افغان حکومت کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ امریکیوں نے سول اور عسکری قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں مگر چونکہ ہارٹ ایشیا کانفرنس سے پہلے وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات کے بعد دونوں طرف کی قیادت کے رمیان ہم آہنگی موجود تھی، اس لئے امریکیوں کو ایک ہی پیغام دیا گیا ہے جس کے باعث انہیں سیاسی کرپشن کے سوا کسی بھی معاملے میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

مزید :

کراچی -اہم خبریں -