ترکی نے طیب اردگان کو ’ضیاءالحق‘ بنانے کی تیاری مکمل کرلی، دنیا میں ہنگامہ

ترکی نے طیب اردگان کو ’ضیاءالحق‘ بنانے کی تیاری مکمل کرلی، دنیا میں ہنگامہ
ترکی نے طیب اردگان کو ’ضیاءالحق‘ بنانے کی تیاری مکمل کرلی، دنیا میں ہنگامہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردوان کے خلاف بغاوت کی ناکامی کے بعد ان کی طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ اضافہ صرف سیاسی ہی نہیں بلکہ اسے قانونی و آئینی شکل بھی دی جا رہی ہے۔ ایک جانب بغاوت میں ملوث ہزاروں افراد کو قانونی کارروائی کا سامنا ہے تو دریں اثناءترک صدر کو مزید مضبوط کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کردیا گیا ہے، جس کی منظوری کے بعد ناصرف صدر کے اختیارات میں غیر معمولی اضافہ ہوجائے گا بلکہ وزارت عظمیٰ کے اختیارات بھی ان کے پاس آ جائیں گے۔

نیوز چینل الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 21 شقوں پر مشتمل آئینی ترمیم کا بل حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔ا گر یہ بل منظور ہوگیا تو ترکی کا موجودہ آئینی ڈھانچہ ہی تبدیل ہوجائے گا اور صدر کے پاس ایگزیکٹو اختیارات بھی آجائیں گے۔ پارلیمنٹ میں بحث سے پہلے یہ بل متعلقہ پارلیمانی کمیشن میں زیر بحث لایا جائے گا ۔ پارلیمنٹ میں بحث کے بعد منظوری کی صورت میں اس پر ریفرنڈم کروایا جائے گا۔ یہ ریفرنڈم بہار 2017ءمیں متوقع ہے۔

حلف اٹھانے سے قبل ہی ٹرمپ نے سعودی عرب کے خلاف بڑا قدم اٹھالیا

واضح رہے کہ رجب طیب اردوان اس سے پہلے تین دفعہ ترکی کے وزیراعظم کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ 2014ءمیں مقبول ووٹ سے منتخب ہونے والے ملک کے پہلے صدر بھی ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ 2007ءاور 2010 ءکی آئینی ترمیم کے بعد ترکی صدارتی نظام کی جانب بڑھ چکا ہے، جس کے پیش نظر صدر کے اختیارات میں اضافے کا موجودہ بل ضروری تھا۔ اس آئینی ترمیم کو ترک جمہوریت کی تاریخ میں ایک انقلابی قدم قرار دیا جارہا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں اسے ترک جمہوریت کے لئے خطرہ قرار دے رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایک ہی شخص کے پاس تمام اختیارات جمع کرنا جمہوریت کی روح کے منافی ہے اور اسے جمہوریت کی بجائے آمریت کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اپوزیشن جماعتیں پارلیمانی بحث کے دوران اس بل کو چیلنج کرنے کی تیاری کررہی ہیں۔

واضح رہے کہ نئی آئینی ترمیم کے نتیجے میں صدر کو اجازت ہوگی کہ وہ کسی سیاسی جماعت کا حصہ ہوتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دے سکے۔ وزارت عظمیٰ کے تمام اختیارات بھی اس کے پاس ہوں گے اور اعلیٰ ترین عدالتی بورڈ کے 12 میں سے 6 ارکان کی تقرری کا بھی اختیار اس کے پاس ہوگا۔ مجوزہ قانون کے مطابق صدر دو بار پانچ سال کے عرصے کے لئے منتخب ہوسکے گا، جس میں رجب طیب اردوان کا موجودہ دور صدارت شمار نہیں ہوگا۔

مزید : بین الاقوامی