پاکستان کے ہونہار سپوت

پاکستان کے ہونہار سپوت
پاکستان کے ہونہار سپوت

  

تحریر : اظہر فاروق

شام کے بڑھتے ہوئے سائے اور ہوا میں موجود خنکی نے چائے پینے کے لئے مجبور کردیا تھا۔ سارے دن کی تھکن کے بعد چائے پینے کا اپنا ہی لطف ہوتا ہے۔ میں نے یہ خیال اپنے دوست کو بتایا تو موصوف کہنے لگے کہ آج آپ کو ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے والے پاکستانی کے ہاتھ سے بنی ہوئی چائے پلاتے ہیں۔میں بے اختیار پوچھ بیٹھا کہ کیا یہ ریکارڈ چائے بنانے کا ہے؟ وہ مایوس سے ہنسی ہنسے اور کہنے لگے ’’ نہیں در اصل ان محترم کو ایک گھنٹے میں 2175ڈنڈ نکالنے کا عالمی ااعززا حاصل ہے لیکن دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کے کارنامے کے باوجود لوگ قابل افرادکی قدر نہیں کرتے اور ایک خوش شکل عام چائے والے کو راتوں رات سٹار بنا دیتے ہیں۔‘‘پاکستان میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے اس ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کیالیکن ان لوگوں میں سے اکثر گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان کا جب بھی نام لیا جاتا ہے تو ہمارے ذہن میں فوراً سڑکوں پرپھنسی ٹریفک، ہسپتالوں میں لگی لمبی لائنیں ، سرکاری اداروں کی بد حالی ، حکمرانوں کی نا اہلی ،غربت کے ہاتھوں مجبور لوگ،انتظامیہ کے ستائے ہوے بیچارے عوام ، لوڈ شیڈنگ ،خود کش حملے اور توندیں نکالے کرپٹ سرکاری افسران کا خیال آتا ہے۔ عموماً لوگ محفلوں میں گلہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ پاکستان بے ایمانی کا دوسرا نام ہے ۔ ادھر تو نا انصافی ہی نا انصافی ہے۔۔ کو ئی کسی کا ہمدرد نہیں ۔ سب کے سب نا اہل اور سست ہیں۔ اس ملک کی قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ یہ تمام وہ قیاس آرائیا ں ہیں جوایک عام آدمی اپنے محدود تجربے کی بنیاد پر کرتا ہے۔ ا س قوم میں لاکھ خرابیاں سہی لیکن اس کے باوجود اقبال کے شاہینوں میں ابھی بھی امنگ باقی ہے۔ ضروررت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ہنر کو پہچانیں اور ایسے لوگوں کی قدر کریں جنہوں نے دطن عزیز کا نام پوری دنیا میں روشن کیا ہے ۔

گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا آغاز ۱۹۵۵ میں امریکہ میں کیا گیا۔ اس کتاب میں دنیا بھر میں ریکارڈ قائم کرنے والے افراد کا نام درج کیا جاتا ہے نیزقائم کئے جانے والے ریکارڈ کی بابت بھی تفصیل موجود ہوتی ہے۔ یہ کتاب ۲۳ مختلف زبانوں میں ۱۰۰ سے زائد ممالک میں شائع کی جارہی ہے، بذات خود بھی دنیا میں سب سے زائد شائع ہونے والی کتاب کے ریکارڈ کا اعزاز رکھتی ہے۔

پاکستان کے بہت سے لوگوں نے اس کتاب میں اپنی جگہ بنا کر ملک کا نا م روشن کیا ہے۔ لیکن ہماری اکثریت ان کی خدمات سے نا واقف ہے۔

۲۲ اکتوبر ۲۰۱۲ بروز پیر کو لاہور میں ۲۴ہزار پاکستانیوں نے پاکستان کاجھنڈا بنا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ ہانگ کانگ میں قائم کیا گیا تھا جس میں۲۱۷۲۶ افراد نے ہانگ کانگ کا جھنڈا بنایا تھا۔

۴۲۸۱۳پاکستانیوں نے قومی ہاکی سٹیڈیم لاہور میں ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھ کر عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ دنیا میں اب تک کا یہ سب سے بڑا مجمع تھا جس میں لوگوں نے ایک ساتھ قومی ترانہ گنگنایا۔

عبدالستار ایدھی سے تقریباً ہر پاکستانی واقف ہے لیکن یہ بات بہت ہی کم لوگوں کو معلوم ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی مفت ایمبولنس سروس کا آغاز کرنے کااعززا ایدھی صاحب کو حاصل ہے۔اس وقت کل ۵۰۰ ایمبولنسز لوگوں کی خدمت میں سرگرم ہیں۔ یہ ایمبولینس ریڈیو سے رابطے میں ہوتی ہیں جن کا تعلق ایدھی سنٹر سے ہوتا ہے۔ لوگ ریڈیو اور ہیلپ لائن کا استعمال کرتے ہوئے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایدھی سنٹر ہر سال ۵۰۰ملین امریکی ڈالر کی خطیر رقم بطور فنڈ اکٹھا کرتا ہے جس کے ذریعے نادر لوگوں کی مدد کی جاتی ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا لباس بنانے کا ااعزاز بھی پاکستان کو حاصل ہے۔ یہ کرتہ ۱۰۱ فٹ لمبا اور ۸۰۰ کلو گرام وزنی ہے۔ یہ کرتا ۵۰ ماہرین کی توسط سے ۳۰ دنوں میں تیا ر کیاگیا۔

موزیک خصوصیت سے بنائے جانے والی دنیا کی سب سے بڑی تصویر پاکستان نے بنائی ۔ یہ تصویر لاہور قلعہ کی تھی جسے ۱۹۳۶ پاکستانی بچوں نے مل کربنایا ۔

محمد الیاس دنیا کے اب تک کہ سب سے کم عمر میں بننے والے سول جج ہیں۔ الیاس نے ۱۹۵۲میں ۲۰سال۹ ماہ کی عمر میں دنیا کا سب سے نو عمر سول جج بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

روشنیوں کے شہر کراچی میں ۱۸ اے لیولز کی طالبات نے دو دروازاں والی منی کار میں ایک ساتھ بیٹھ کر ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ آسٹریلیامیں قائم کیا گیا تھا جس میں ۱۸ لوگوں نے مناسب سائز کی کار میں بیٹھ کر ریکارڈ قائم کیا تھا۔

ارفع کریم رندھاوا دنیا کی سب سے کم عمر مائکروسوفٹ سرٹیفائڈپروفییشنل کے طور پر جانی جاتی ہیں ۔ پاکستان کی اس بیٹی نے یہ اعزاز صرف نو سال کی عمر میں۲۰۰۴ حاصل کیا جو کہ ۲۰۰۸ تک برقرار رہا۔

علی معین نوازش نے اے لیولز کے امتحانات میں ایک ساتھ ۲۲ ایز، ایک بی اور ایک سی گریڈ لے کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ یہ دنیا میں اب تک ہونے والے اے لیولز کے امتحانات میں سب سے زیادہ حاصل کیے جانے والے گریڈز ہیں۔

پاکستان دریائے سندھ کا آبپاشی کا نظام دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی کا نظام ہے جو کہ تین بڑے ڈیمز، ۸۵چھوٹے ڈیمز، ۱۹ بیراج، ۱۲ لنک کینالز،۴۵ کینال کمانڈز اور ۷.۰ ملین ٹیوب ویلز پر مشتمل ہے۔

حسن رضا کا نام گنیز بک میں دنیا کے سب سے کم عمر کرکٹر کے طور درج ہے۔ حسن رضا نے ۱۹۶۶ میں زمباوے کے خلاف اپنی زندگی کا پہلا بین الاقوامی میچ کھیلا ۔ اس وقت ان کی عمر صرف ۱۴ سال اور ۲۳۳ دن تھی۔

گنیز بک کے مطابق نصرت فتح علی خان دنیا کے پہلے قوال ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ البم نکالے اور تمام کے تمام کامیاب رہے۔۔ انہوں نے کل ۱۲۵ البمز نکالے جو آج بھی دنیا بھر میں مقبول ہیں۔

ڈاکٹر نعیم تاج کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ۱۰۷ سالہ عورت کے پتے سے ۳۰ پتھریاں نکالی ۔ اس سے پہلے اسی طرز کا آپریشن ڈاکٹر ڈیوڈ نے کیا تھا۔

گنیز بک میں جہانگیر خان کو سکوائش میں دنیا میں سب سے زیادہ سٹریک جیتنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے پانچ سال کے مختصرعرصے میں بغیر ہارے ۵۵۵ میچ جیتے۔

مہر گل کو بارہ سال کی عمر میں شطرنج کے سیٹ کو صرف ۴۸.۴۵ سیکنڈزمیں ترتیب دینے کا اعزاز حاصل ہے۔

ظفر گل کا نام کان سے سب سے زیادہ وزن اٹھانے والے آدمی کے طور پر گنیز بک آف وررلڈ ریکارڈ میں درج ہے۔ ظفر گل نے اپنے کانوں سے ۶۵کلو وزن زمین سے ۱۰ سینٹی میٹر فاصلے پر سات سیکنڈز تک اٹھا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

مونچھوں سے سب سے زیادہ وزن اٹھا نے والے شخص کا تعلق بھی پاکستان سے ہی ہے۔ محمد ہادی نے اپنی مونچھوں سے ۱۷۰۰ کلو وزنی ٹرک کو ۶۳میٹر تک کھینچ کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

محمد منشا نے جو کہ پاکستان ہاکی سٹیڈیم میں باورچی ہیں صرف تین منٹ۹۸.۱۴ سیکنڈز میں تین چپاتیاں بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

گنیز بک میں شعیب اختر کا نام دنیا کے سب سے تیز باؤلر کے طور پر درج ہے۔ شعیب اختر ۳.۱۶۱ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی کرتے ہیں۔

ملالہ یوسف زئی دنیا کی سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ خاتون کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ملالہ نے یہ اعزاز ۱۷ سال ۲مہینے اور ۲۳ دن کی عمر میں حاصل کیا۔

؎

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

مزید : بلاگ