سٹریٹ فائٹر،نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔چوتھی قسط

سٹریٹ فائٹر،نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔چوتھی قسط
سٹریٹ فائٹر،نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔چوتھی قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تحریر۔شاہدنذیرچودھری

وسیم کی والدہ جب ماڈل ٹاؤن جانے کے لئے اپنی والدہ کے گھر سے نکل رہی تھیں تو وسیم اکرم نیٹ پریکٹس کے بعد نانی کے گھر آرہا تھا۔ وہ کٹ میں ملبوس تھا اور ہاتھ میں عمدہ قسم کا ہیٹ تھام رکھا تھا۔ وہ اپنی دھن میں گنگناتا ہوا دہلیز پار کرنے لگا تو والدہ کو دیکھتے ہی اس کی جان نکل گئی۔

’’دیدی۔۔۔آپ۔۔۔‘‘۔وہ ہکلایا۔

’’تم نے ہم سے جھوٹ بولا ہے وسیم‘‘۔والدہ اسے دیکھتے ہی مصنوعی خفگی سے بولیں لیکن بیٹے کو کرکٹ کی یونیفارم میں دیکھتے ہی ان کا دل بلیوں اچھلنے لگا مگر انہوں نے اپنی خوشی اس پر ظاہر ہونے نہ دی اور اسے اس کے ابا کے رویہ کے بارے میں بتایا۔

وسیم کے لئے ماں باپ کی ناراضی بہت بڑا صدمہ تھی مگر اس وقت وہ بہت خوش تھا۔لہٰذا اس نے اپنی ماں کے گلے میں بانہیں ڈالیں اور انہیں پیار سے دوبارہ اندر لے گیا۔ انہیں چار پائی پر بٹھایا پھر ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔وسیم اپنی ماں کو دیدی کہہ کر پکارتا تھا۔بولا:

’’دیدی !میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ ناراض ہوں گے مگر مجھے یقین ہے کہ آپ یہ سن کر یقیناً خوش ہوں گی کہ مجھے پاکستانی ٹیم میں شامل کرلیا گیا ہے‘‘۔

نانی نے جونہی یہ بات سنی بے تابی سے آگے بڑھیں اور اپنی ماں کے قدموں سے لپٹے اپنے نواسے کا سر چوم کر بولیں۔

’’سچ سچ بتا تو جھوٹ تو نہیں بول رہا‘‘۔

’’نہیں نانی ماں میں سچ کہہ رہا ہوں۔نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان آرہی ہے اور مجھے راولپنڈی میں ہونے والے تین روزہ فرسٹ کلاس میچ کے لئے پاکستانی ٹیم میں شامل کرلیا گیا ہے۔مجھے ٓج ہی خان محمد صاحب نے بتایا ہے۔وہ بے حد خوش ہیں۔کل میں سپورٹس بورڈ جارہا ہوں‘‘۔

جونہی یہ خبر ماڈل ٹاؤن پہنچی۔ اس کے ناراض والد کا غصہ کافور ہوگیا اور وہ اپنی چھوٹی صاحبزادی صوفیہ کو بلا کر کہنے لگے۔

’’جاؤ اپنے لاڈلے کو فون کرکے کہہ دو کہ اپنے باپ سے تو آکر مل لے‘‘۔صوفیہ اپنے باپ کے چہرے کی بشاشت اور خوشیوں کے پھوٹتے فوارے دیکھ کر تیزی سے بھائی کو یہ خبر سنانے کے لئے فون کرنے چلی گئی۔

وسیم اکرم کو اس روز دوہری خوشی نصیب ہوئی۔ ایک تو قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کی اور دوسری اپنے اس باپ سے گلے ملنے کی جس کا غصہ ہر وقت انتہا کو چھو رہا ہوتا تھا۔

تیسری قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

راولپنڈی کے اسٹیڈیم میں دس ہزار تماشائی موجود تھے۔ پاکستانی ٹیم ہوم لینڈ میں کھیل رہی تھی۔ ٹیم سکواڈ جاوید میاں داد، سلیم ملک، شعیب محمد، راشد خان اور طاہر نقاش جیسے بیٹسمینوں اور باؤلروں پر مشتمل تھی۔ اس میچ کے لئے جاوید میاں داد کو کپتان بنایا گیا تھا۔نیوزی لینڈ نے بیٹنگ کی تو جاوید میاں داد نے نہ جانے کیوں ایک نیا فیصلہ کیا اور اس نے طاہر نقاش کی بجائے وسیم اکرم کو باؤلنگ کے لئے بلایا۔ وسیم اکرم تو اس امید میں تھا کہ اسے سارے کھیل کے دوران درمیانی اوورز میں باؤلنگ دی جائے گی مگر اٹیک باؤلنگ کا فیصلہ اس کے لئے حیرانی کا باعث بن گیا۔ وہ بے حد نروس ہو گیا کہ اپنے پہلے ہی فرسٹ کلاس میچ میں بین الاقوامی ٹیم کو اٹیک کرانا تھا۔ بہرحال اس نے اپنی قوتوں کو مجتمع کیا اور اللہ کا نام لے باؤلنگ شروع کر دی۔ پہلے اوور میں وہ نروس ہی رہا اور شارٹ پچ بال کراتا رہا مگر جب اس کی ایک خوبصورت گیند کھیلتے ہوئے نیوزی لینڈ کا مرد آہن بیٹس مین جان رائٹ سلپ میں کیچ ہو گیا تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔وسیم نے اپنے طور پر بال نہایت بے تکے انداز میں کرائی تھی اور بال پھینکتے ہی اسے احساس ہو گیا تھا کہ جان رائٹ اس پر چوکا لگائے گا مگر جب وہ کیچ آؤٹ ہو گیا تو وسیم بے اختیار سجدے میں گر گیا۔ پوری ٹیم مسرت کے ساتھ اس پر جھپٹ پڑی اور اس کو شاباش دینے لگی۔میاں داد نے اس لمحے وسیم کو ایک گُر کی بات بتائی کہ وہ اب آؤٹ سوئنگ بال ہی کرائے۔وسیم نے میاں داد کی ہدایت پر عمل کیا اور پھر تو نیوزی لینڈ والوں کے لئے وسیم اکرم سراپا قیامت ثابت ہوا۔ نیوزی لینڈ والے وسیم کی آؤٹ سوئنگ بال کو کھیل نہ پائے اور یوں وسیم نے وکٹوں کا ڈھیر لگا دیا۔ اس نے52سکور دے کر7کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس میچ میں مجموعی طور پر اس نے9وکٹیں لی تھیں۔

سہ روزہ فرسٹ کلاس میں9وکٹیں ناقابل فراموش ہوتی ہیں۔لہٰذا پریس نے وسیم اکرم کو ہیرو بنا دیا اورتوقع ظاہر کی کہ اب پاکستان کو عمران خان کا متبادل مل گیا ہے۔

ماڈل ٹاؤن اور مزنگ میں وسیم اکرم کی اس شاندار کارکردگی پر جشن کا سماں تھا۔مزنگ کی گلیوں میں بچے اس کے نعرے لگا رہے تھے اور ملک چائے والا اور کالا دودھ والا اس روز اپنے گاہکوں کو پکڑ پکڑ کر مفت میں چائے اور دودھ پلا رہے تھے اور کہہ رہے تھے:

’’ہمارے شہزادے نے آج کمال ہی کر دکھایا ہے ہم نہ کہتے تھے کہ یہ ایک روز کھڑاک کرے گا۔ کوئی جائے اور اسے بلا کر لائے،خدا کی قسم اب وہ جیتنے چاہئے برتن توڑ ڈالے ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے‘‘۔

واہ ری قسمت جب کسی کو شہرت ملتی ہے تو ساری نفرتیں اور کدورتیں رشک و محبت میں بدل جاتی ہیں۔وسیم کے بھائیوں نے اس روز9قسم کی دیگیں چڑھائی تھیں۔ انہوں نے پہلے ہی یہ طے کیا ہوا تھا کہ وسیم جتنی وکٹیں لے گا ہم اتنی قسم کی دیگیں پکائیں گے۔اہل مزنگ کو آج بھی وہ وقت یاد ہے جب وسیم کی نانی کے گھر پر بریانی، پلاؤ،زردہ اور بہت سے رنگوں والی چاولوں کی دیگیں چڑھائی گئی تھیں اور وسیم کی درازی عمر اور کامیابیوں کے لئے گھر گھر میں دعائیں کی گئیں۔

(جاری ہے, اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

(دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے بائیں بازو کے باؤلروسیم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھیل کر اسے خیرباد کہا مگرکرکٹ کے میدان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائیک کے شہہ سوار ہیں۔وسیم اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حیثیت میں لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کیا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا ۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہیں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ میں عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لیکن دنیائے کرکٹ میں ان کی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے۔روزنامہ پاکستان اس فسوں کار کرکٹر کی ابتدائی اور مشقت آمیز زندگی کی ان کہی داستان کو یہاں پیش کررہا ہے)۔

مزید : کھیل