ہم سے بہتر طوائفیں

ہم سے بہتر طوائفیں
ہم سے بہتر طوائفیں

  

تحریر: سیدبلال قطب 

اس وقت حالات یہ ہیں کہ ہم ذہنی طور پر بدل گئے ہیں۔پستی میں  گرگئے ہیں اور اسکو بلندی سمجھ رہے ہیں۔قومیں معیار اور اصول فکر سے بنتی ہیں ۔ میں یہ حلفاََ کہہ رہا ہوں اس ملک کے بیس کروڑ عوام الناس مرے ہوئے ، مسخ شدہ لاشوں سے بھی زیادہ،مرے ہوئے غلیظ لوگ ہیں۔ یہ میں بڑی ایمانداری سے کہہ رہا ہوں، اس وقت سب سے زیادہ اچھا ریٹنگ(Rating) پتا ہے کس چیز کا آتاہے، آٹھ سال کی بچی کو اس کے باپ نے ریپ (Rape)کیا،ہم سب اس کے گھر کا ماتم دیکھتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا اگر باپ یہ کر رہا تھا تو آپ کیا کر رہی تھیں؟ سارا پاکستان چینلز پر یہ شرمناک مناظر دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ہمیں لوگوں کی بیٹیوں کی عزتیں لوٹنے کے بعد ان کے گھروں کے اندرماتم دیکھنے کا شوق ہے۔ آپ اس قوم کو زندہ کہتے ہیں؟ آپ کو Mind change کرنے کا مسئلہ ہے، ارے بھائی یہ مر چکی ہے قوم، آپ عشقِ رسولﷺ کی باتیں کرتے ہیں، آپ تو اپنی پانچ پانچ سال کی بیٹیوں کو ان کی عزتیں لٹا کر، ان کے ماتم پہ بیٹھتے ہیں، بین کرتے ہیں ، کہتے ہیں اچھا یہ کر رہا تھا اس وقت اس کا باپ، سسر نے بہو کی عزت کیسے لوٹی ؟واقعہ ہوتا تواسے سکرین پر لایا جاتا ہے ،وہ بتاتی ہے کہ سسر نے اسکے ساتھ کیا کیا،کیاآپ اس قوم کو دین کی تبلیغ دینا چاہتے ہیں، آپ یہ چاہتے ہیں کہ یہ مری ہوئی لاشیں جو ہیں یہ ڈی۔ ایچ۔ اے گروپ میں نہ جائیں، تبلیغ میں جائیں، ایم ۔بی۔بی۔ایس کریں لیکن اس کے ساتھ یہ ماسٹر ان ایجوکیشن(Master in Education)اور اسلامک اسٹڈیز (Islamic Studies) بھی کریں اور فرنٹ فٹ (Front foot)پہ جا کر دعویٰ کریں۔ اسے کہتے ہیں Insists معاشرہ، Insists معاشرے سے خدا کی قسم صرف طارق کی دعا کی جا سکتی ہے، آپ کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ اس معاشرے میں کیا غلاظت آ چکی ہے، وہ لوگ جنہیں ہم سب غلیظ کہا کرتے تھے، اب وہ عزت دار ہیں، ہم کن کو غلیظ سمجھتے تھے؟ امراء جان ادا کو، وہ تو بڑی عزت والی عورت تھی، زبان ، لہجہ سلجھا ہوا تھا، غیرت مند تھی، لباس ٹھیک تھا، ہم کیا لوگ ہیں، ہم تو طوائفوں کے معیار پہ بھی اب پورے نہیں اترتے، اس لئے اتنی اتنی بڑی باتیں نہیں کرنی چاہئیں، میرا دل چھلنی ہو چکا ہوا ہے ریٹنگ شو دیکھ کر۔ خدا کی قسم یہ کتنی عجیب بات ہے، کتنی عجیب بات ہے کہ ہم نے اپنے دین کو گروی رکھ دیا ہوا ہے ۔ایک نالائق بندہ مجھے بتاتا ہے کہ میری زندگی کا محورِ دین کیا ہو گا، یہ میری اور آپ کی غلطی ہے، آج یہ فیصلہ کر لو کہ ہم نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے دِین کا ذِمہ لینا ہے۔جب آپ اسے دوسروں کے سپرد کریں گے تو اسکی سوچ نہیں بدلے گی۔ میری بیٹی کو کوئی سکول میں بتائے گا کہ سیکس ایجوکیشن (Sex Education) کیا ہوتی ہے، میں مر نہ جاؤں ۔ویسے میں مرہی چکا ہوں، میں ڈرامے دیکھ دیکھ کر مر چکا ہوں۔ اس لئے اندراگاندھی نے کیا خوبصورت بات کی تھی اوریہ1983-1984کی بات ہے، اس نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کی ضرورت ہے ہی نہیں، بھائی میں جب اس عمر میں تھا نا، تو دو دفعہ گیا تھامیں اُس محلے میں ، دونوں دفعہ میں گیا تھا سری پائے(پھجے) کھانے اورکمبل لپیٹ کر گیا تھا گرمیوں میں،کہ کوئی ہمارا معصوم چہرہ نا دیکھ لے اور تین دن بخار رہا تھا کہ کسی نے دیکھ نالیا ہو، کھانے کیا گیا تھا دو کلچے اور ایک پلیٹ، یار میں اب اس وقت پہ نادم ہوں کہ وہی چیز اب میں اپنے گھر میں، ڈرائنگ روم میں اپنی ماں ، بہن، بیٹی، بہوکے ساتھ بیٹھ کردیکھ کر(Enjoy) کر رہا ہوں تو مجھے موت پڑی تھی کہ مجھے تین دن بخار رہا، اب وہ جو حرام زدگی تھی نا اب وہ حلال زدگی بن کرہمارے گھروں میں موجود ہے تو مریں گے نہیں تو کیا ہو گا،آپ ان لوگوں کے بارے میں بات نہیں کر رہے جو زندہ ہیں، ہم سانس لے رہے ہیں لیکن ہم مر چکے ہیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

مزید : بلاگ