بسم اللہ والے بابا جی

بسم اللہ والے بابا جی
بسم اللہ والے بابا جی

  

(وقاص احمد)

میں جب بھی لائبریری جاتا ہوں تو مرکزی دروازے پر محمد افضل جنّ کو جسے سارے پیار سے چچا سائیں کہہ کر پکارتے ہیں منہ پر مسکراہٹ سجائے ہمیشہ یہ ضرور پوچھتے ہیں کہ بیٹا تم خوش تو ہو نا؟ اور جب ہم ان کو سلام کرتے ہیں تو وہ سلام کا جواب دینے سے پہلے بڑے سلیقے سے بسم اللہ پڑھتے ہیں اور پھر و علیکم السلام کہتے ہوئے اپنا دائیاں ہاتھ سینے پر رکھ دیتے ہیں۔ میں اکثر ان سے پوچھنا چاہتا ہوں’’چاچا آپ بسم اللہ پڑھ کر ہی کیوں سلام کا جواب دیتے ہیں؟ ‘‘

وہ الٹا مجھ سے کہتے ’’ تم خود ہی بتا دو‘‘ میں بھی ہنس کر اندر چلا جاتا۔

لیکن ایک روزرات کو جب میں لائبریری سے باہر نکلا تو چچا سائیں کوریڈور میں ٹہل رہے تھے۔ میں ان کے پاس چلا گیا اور اپنا سوال دہرایا تو میری بات سننے کے بعد وہ مسکرانے لگے اور دیوار کے پاس میز پر بیٹھ گئے اور مجھے بھی بیٹھنے کا کہنا۔

کہنے لگے ’’یار تم بڑے ضدی ہو ‘‘میں ہنسنے لگا تووہ اپنے خیالوں میں گم ہوگئے پھر بولے’’ میں جب چھوٹا تھا تو بڑا شرارتی تھا۔ ہر وقت الٹے سیدھے کام کرتا رہتا تھا بلکہ بعض اوقات ایسی اسی حماقتیں مجھ سے سرزد ہو جاتیں کہ بال بال بچتا۔ میں جب پندرہ سال کو ہوگیا تو میرے گھر والے میری حرکات سے پریشان رہنے لگے۔ ابا جی محمد بشیر اللہ ان کی مغفرت فرمائے ایک دن مجھے ساتھ والے گاؤں کے ایک امام مسجد کے پاس لے گئے۔ جب ہم ان کے گھر پہنچے تو وہ باریش بزرگ زمین پر بچھی چٹائی پر بیٹھے کچھ پڑھ رہے تھے ۔ اباجی نے ان کو سلام کیا اور ہم بیٹھ گئے۔ تھوڑے توقف سے انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کتاب کو دیوار میں بنی الماری میں رکھ کر ہماری طرف متوجہ ہوئے۔

اباجی نے ان کو میرے بارے میں بتانا شروع کیا کہ میرا یہ بیٹا پندرہ سال کا ہونے کو ہے لیکن اکثر گھر سے بھاگ جاتا ہے ا ور پھر جب چند گھنٹوں کے بعد واپس آتا ہے تو اس کے کپڑے بری طرح غبار آلود ہو چکے ہوتے ہیں اور جب ہم اس سے یہ پوچھتے ہیں کہ تم کہاں گئے تھے؟ تو اونچی اونچی آواز میں قہقہے لگانے لگتا ہے۔ ہم اس کی وجہ سے بہت پریشان ہیں بلکہ اب تو اہل محلہ بھی اس کی ان حرکات کی وجہ سے ہم سے قطع تعلق ہونے لگے ہیں‘‘

میں خاموش ان کی یہ باتیں سن رہا تھا جب وہ رک گئے تو میں ان کی طرف دیکھنے لگا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو رواں تھے میں نے ان کا بازو ہلایا لیکن انہوں نے بولے بغیر میرے سر پر ہاتھ پھیر دیا۔ اتنے میں سامنے بیٹھے وہ بزرگ مجھ سے مخاطب ہوئے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ بیٹا تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے اپنا نام بتا دیا پھر انہوں نے چند اور سوال کیے میں جواب دیتا رہا۔ وہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگئے پھر بولے اس بچے کو سایہ ہے کیونکہ مافوق الفطرت اشیاء کی وجہ سے ہمارا یہ بیٹا ایسی حرکتیں کرتا ہے۔ ورنہ یہ بڑا اچھا اور سمجھ دار بچہ ہے۔ مجھے جیسے ان کے الفاظ سے ہمت سی مل گئی تھی کیونکہ میں بھی اکثر اپنے گھر والوں کو یہ بات بتانے کی کوشش کرتا تو وہ اسے میرا وہم سمجھ کر ڈاکٹروں کے پاس لیے پھرتے رہتے‘‘

میں نے درمیان میں چچا سائیں کی بات کو کاٹ کر پوچھا

’’آپ کو ایسا کیوں لگتا تھا کہ آپ پر جنوں کا سایہ ہے؟ ‘‘ وہ کہنے لگے ’’ اکثر میرے ساتھ ایسا ہوتا کہ کوئی چیز مجھ پر طاری ہو جاتی اور میرا منہ جس سمت ہوتا میں اسی طرف بھاگنا شروع کر دیتا۔ راستے میں چاہے کیسی بھی رکاوٹ آجاتی میں بڑی پھرتی سے اسے عبور کر لیتا۔ میری حرکتوں کی وجہ سے لوگ ڈرنے لگے تھے۔

میں نے بابا جی کو بتایا کہ وہ اکثر مجھے بری طرح نڈھال کر دیتی ہیں۔ قریب ہی پڑے مٹی کے گھڑے میں سے ایک گلاس پانی نکال کر انہوں نے میری طرف بڑھا دیا میں نے پانی پی کر وہ مٹی کا گلاس ایک طرف چٹائی پر ہی رکھ دیا۔

لیکن اس سے پہلے کہ میں ان کی طرف پلٹتا وہ بزرگ بولے ’’پی لیا ہے پانی بیٹا؟‘‘ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

انہوں نے دوبارہ پوچھا’’ بسم اللہ بھی پڑھی تھی؟ ‘‘میں بڑے تعجب سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔ کیونکہ یہ میرے لیے نئی بات تھی کہ کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ بھی پڑھنی پڑتی ہے۔ میں نے پھر نفی میں سر ہلا دیا۔

اب وہ میرے ابا جی کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے ’’ افسوس کہ آج ہم مسلمانوں نے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنے روز مرہ کے معاملات سے نکال دیا ہے جو نہ صرف ہمیں ان اشیاء کے سحر سے محفوظ رکھتی ہیں بلکہ ان سے ہمارے عمل میں برکت بھی پیدا ہوتی ہے۔‘‘

پھر وہ میری طرف دیکھنے لگے تو میں اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر ان کو ترکرنے لگا جو ان کی باتیں سن کر خشک ہونے لگے تھے۔

انہوں نے مجھے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا تو میں جلدی سے اٹھ کر ان کے پاس جا کر دو زانوں بیٹھ گیا۔ وہ بولے ’’بیٹے آئندہ تم نے ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ ضرور پڑھنی ہے۔ دیکھنا پھر یہ چیزیں تمہیں کبھی تنگ نہیں کریں گی‘‘

وہ بولتے بولتے رک گئے تو میں نے ان سے پوچھا ’’کیا اس کے بعد آپ کو کچھ ہوا؟ ‘‘

چاچا ہنسنے لگے اور بولے’’ نہیں کبھی نہیں۔ جب سے میں نے بسم اللہ کو اپنا معمول بنا رکھا ہے تب سے میں ان چیزوں سے محفوظ بھی ہوں اور اب میری زندگی زیادہ آسان بھی ہوگئی ہے‘‘

اب چونکہ کافی رات ہوگئی تھی لہٰذا میں نے چچا سائیں کو سلام کیا اور کھڑا ہوگیا۔ انہوں نے بسم اللہ پڑھ کر سلام کا جواب دیا اور میں چلا گیا۔اس روز سے میں نے بھی وتیرہ اپنا لیا۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

مزید : مافوق الفطرت