نجی یونیورسٹی کے ہوسٹل سے نوجوان کی لاش برآمد

نجی یونیورسٹی کے ہوسٹل سے نوجوان کی لاش برآمد
نجی یونیورسٹی کے ہوسٹل سے نوجوان کی لاش برآمد

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پوش علاقوں میں موجود تعلیمی اداروں میں نشے کی لت زور پکڑنے لگی اور مبینہ طورپر ایک اور جان لے گئی۔ صوبائی دارلحکومت کے پوش علاقے ڈیفنس بی میں موجود  نجی یونیورسٹی کے ہوسٹل سے لاش برآمد ہوئی ہے جس کی شناخت کراچی کے شاہ میرآصف باجوہ کے نام سے ہوئی ہے جس کی تصدیق انتظامیہ  نے بھی کردی۔

پولیس نے لاش تحویل میں لے کر تفتیش شروع کردی، یونیورسٹی انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ میرآصف دل کا مریض تھا جبکہ مرحوم کے دوستوں نے انکشاف کیاکہ میرآصف منشیات کا عادی تھی ۔ میرآصف لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز (لمز) میں بی ایس سی آنرز پانچویں سمسٹر کا   طالبعلم تھا۔ایس پی کینٹ طاہر رحمان نے بتایاکہ  موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی یا منشیات کی زیادتی سے ، پوسٹمارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ سامنے آجائے گی ، پولیس نے شواہد بھی اکٹھے کرلیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پیر کو شاہ میر اپنے کمرے میں بے حس و حرکت پایاگیا جس پر اسے ڈیفنس کے ہی ایک نجی ہسپتال منتقل کیاگیاجہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کردی۔ذرائع نے بتایاکہ موسم کی خرابی کی وجہ سے منگل کی صبح تک شاہ میر کی فیملی لاہور نہیں پہنچ سکی ۔

مزید : لاہور