نئے آئی ایس آئی چیف کی تقرری ,نواز شریف اب بھارت اور افغانستان کے حوالے سے فوجی مداخلت کے بغیر اپنی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے قابل ہو گئے:انڈین ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

نئے آئی ایس آئی چیف کی تقرری ,نواز شریف اب بھارت اور افغانستان کے حوالے سے ...
نئے آئی ایس آئی چیف کی تقرری ,نواز شریف اب بھارت اور افغانستان کے حوالے سے فوجی مداخلت کے بغیر اپنی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے قابل ہو گئے:انڈین ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

  

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستانی حساس ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی ) کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کی تعیناتی اور سابق چیف لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی سبکدوشی کو بھارت کے بڑے نجی ٹی وی چینل نے اپنی خصوصی رپورٹ میں پاکستانی سیاست اور خارجہ امور پر اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے لئے فوجی مداخلت کے بغیر آزادانہ ماحول میں کام کرنے اور خارجی امور سرانجام دینے کے لئے آئیڈیل اور مثالی تعلقات سے جوڑ دیا ، آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کے والد بریگیڈئیر (ر) مختار وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز کی بیٹی کے سسر کے بزنس پارٹنراور نواز شریف کے انتہائی قریبی مانے جاتے ہیں ،آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تعیناتی سے نواز شریف آزادانہ طور پر بھارت اور افغانستان کے حوالے سے فوجی مداخلت کے بغیر اپنی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے قابل ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ہندوستانی نجی چینل ”این ڈی ٹی وی “ نے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کی روٹین کی تعیناتی پر بھی” روائتی ہٹ دھرمی ، بھڑک بازی اور مضحکہ خیز ی “کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی ”نام نہاد سرجیکل سٹرائیک “ کا اثر اب پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت کی تبدیلی کے طور پر سامنے آیا ہے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے طاقتور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کو تبدیل کرتے ہوئے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے انتہائی قریبی سمجھے جانے والے لیفٹیننٹ جنرل نوید مختارکو نیا سربراہ مقرر کر کے مقتدر حلقوں کو پیغام دے دیا ہے کہ وہ اب افغانستان اور بھارت کے معاملے میں خارجی امور طے کرنے میں کسی دباﺅ کا شکار نہیں ہو ں گے اور آزادانہ طور پر کام کریں گے ۔بھارت کے سب سے بڑے نجی چینل نے من گھڑت ، بوگس تبصرے نگاری اور معلومات کی عدم فراہمی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے پاکستانی خفیہ ادارے کے نئے سربراہ کے والد کو مریم نواز شریف کے سسر کا بزنس پارٹنر قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کے والد ریٹائرڈ بریگیڈیئر اور چودھری منیر کے بزنس پارٹنر ہیں، جبکہ چودھری منیر کے بیٹے کی شادی نواز شریف کی بیٹی مریم نواز سے ہوئی ہے(حالانکہ شادی مریم نواز کی بیٹی کی ہوئی ہے ناکہ مریم نواز کی اپنی )

بھارتی ٹی وی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نواز حکومت کے لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر اور 29 نومبر کو ریٹائر ہونے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ خوشگوار تعلقات نہیں تھے،جس پر نواز شریف نے اپنے قابل اعتماد جنرل اور جمہوریت کے حامی سمجھے جانے والے جنرل قمر جاوید باجوہ کو نیا فوجی سربراہ مقررکیا جنہوں نے فوری طور پر جنرل رضوان اختر کو بھی تبدیل کر کے نواز شریف کے انتہائی قریبی سمجھے جانے والے لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کو پاکستانی خفیہ ادارے کا نیا سربراہ مقرر کردیا ہے جس کے بععد پاکستانی وزیر اعظم اب کسی بھی طرح امور مملکت میں فوجی مداخلت کے خوف کے بغیر خارجہ امور میں بھارت اور ہندوستان کے ساتھ معاملات طے کریں گے ۔

بھارتی ٹی وی چینل نے پاکستان کی جمہوری حکومت اور فوج میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی غرض سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر)راحیل شریف اور لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کے دور میں نواز شریف خارجہ پالیسی کے محاذ پر زیادہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے،رواں سال ستمبر میں مقبوضہ کشمیر کے اوڑی فوجی کیمپ پر ہونے والے حملے کے جواب میں بھارت نے ایل او سی کے پار پاکستانی حدود میں سرجیکل سٹرائیک کی تھی اور پاکستانی نجی انگریزی اخبار” ڈان“کی ایک رپورٹ کے مطابق جائزہ اجلاس میں آرمی اور سول قیادت کے درمیان تلخی بھی ہو گئی تھی، اس رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ میں نواز شریف کے بھائی اور پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف اور آئی ایس آئی چیف رضوان اختر کے درمیان جھڑپ ہو گئی تھی، اب ان کو ہٹائے جانے کو انٹیلی جنس ناکامی اور حکومت کے ساتھ تلخ تعلقات کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں