بچہ بڑا ہوکر کیا بنے گا؟ سائنسدانوں نے ایسا طریقہ متعارف کروادیا کہ جان کر کوئی بھی دنگ رہ جائے

بچہ بڑا ہوکر کیا بنے گا؟ سائنسدانوں نے ایسا طریقہ متعارف کروادیا کہ جان کر ...
بچہ بڑا ہوکر کیا بنے گا؟ سائنسدانوں نے ایسا طریقہ متعارف کروادیا کہ جان کر کوئی بھی دنگ رہ جائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن (نیوز ڈیسک) آج کے بچے کل بڑے ہوں گے تو معاشرے کا بوجھ اٹھائیں گے یا خود اس کا بوجھ بن جائیں گے، سائنسدان ایک عرصے سے کوشاں تھے کہ بچوں کی کمسنی میں ہی اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے، اور اب کنگز کالج آف لندن کے تحقیق کاروں نے بالآخر اس سوال کا جواب ڈھونڈ لیا ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے 1972 اور 1973ءمیں پیدا ہونے والے ایک ہزار بچوں کے حالات زندگی کا مطالعہ 38 سال تک جاری رکھا۔ ان بچوں کے دماغ کا سکین اس وقت کیا گیا جب یہ محض تین سال کے تھے اور بعدازاں ان کی تعلیمی قابلیت اور معاشرے میں کردار کے بارے میں معلومات جمع کی گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محض تین سال کی عمر میں کئے گئے ٹیسٹ بڑی حد تک درستی کے ساتھ یہ پیشگوئی کرتے ہیں کہ ان بچوں کا مستقبل کیسا ہوگا۔

حکومت نے 40 لاکھ کھلونے معروف سٹور سے اٹھا کر ایسا کام شروع کردیا کہ آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

اس تحقیق کے کئے گئے ٹیسٹوں میں بچوں کی زبان دانی کی صلاحیت، موٹر سکلز، جذبات پر کنٹرول و اظہار اور درست طور پر چلنے اور کھڑے ہونے کی استعداد جیسی باتوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن بچوں کی کارکردگی ان ٹیسٹوں میں اچھی نہیں تھی وہ مستقبل میں تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے پیچھے رہ گئے، ان میں معاشرتی مطابقت کی صلاحیت بھی کم تھی اور جرائم کا ارتکاب بھی انہوں نے نسبتاً زیادہ کیا۔ دماغ کے سکین میں کم سکور حاصل کرنے والے بچوں میں سے تقریباً 81 فیصد مختلف قسم کے جرائم میں ملوث پائے گئے، ان میں سے تقریباً دو تہائی سرکاری امداد کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں، اور تقریباً 22 فیصد اپنی اولاد کی پرورش کے فرائض سرانجام دینے سے قاصر ہیں۔ ان میں سے تقریباً 25 فیصد سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہوئے جبکہ موٹاپے کی شرح بھی ان میں 15فیصد زیادہ پائی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم ذہنی صلاحیت والے افراد کل آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں لیکن سماجی تحفظ اور سرکاری امداد کی تقریباً 80 فیصد خدمات ان پر صرف ہورہی ہیں۔

اس تحقیق کی بنا پر سائنسدانوںنے توقع ظاہر کی ہے کہ کم عمری میں دماغ کے ٹیسٹ سے ان بچوں کا پتہ چلایا جاسکتا ہے جنہیں مستقبل میں معاشرے کی زیادہ توجہ کی ضرورت ہوگی۔ یوں ان بچوں کی اصلاح اور بہتر پرورش کے لئے ضروری اقدامات بھی ممکن ہوسکتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس