چینی اخبار نے ٹرمپ کی تشبیہہ ایک ایسی چیز سے دے دی کہ سن کر آپ بھی ہنسنے لگیں گے

چینی اخبار نے ٹرمپ کی تشبیہہ ایک ایسی چیز سے دے دی کہ سن کر آپ بھی ہنسنے لگیں ...
چینی اخبار نے ٹرمپ کی تشبیہہ ایک ایسی چیز سے دے دی کہ سن کر آپ بھی ہنسنے لگیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بیجنگ (نیوز ڈیسک) نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر تائیوان کے متعلق اپنے متنازعہ خیالات کا اظہار کررہے ہیں، اور چین اس پر بالکل بھی خوش نہیں ہے۔ اتوار کے روز فوکس نیوز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا امریکہ ”ون چائنہ“ پالیسی کا پابند نہیں ہے، جو کہ کئی دہائیوں سے واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات کا بنیادی محور رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا ”مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم ’ون چائنہ‘ پالیسی کے پابند کیوں ہوں، جب تک کہ ہم چین کے ساتھ دیگر معاملات جیسا کہ تجارت وغیرہ کے متعلق معاہدے نہیں کرتے۔“

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر چین نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے کیونکہ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور ساری دنیا اس پالیسی کو ”ون چائنہ“کے نام سے جانتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تائیوان کو ایک علیحدہ سیاسی حیثیت دینے پر چین نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

بوئنگ کمپنی کو ایک ارب ڈالر کا نقصان پہنچانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے ایف 35 پروگرام کے پیچھے پڑ گئے

چینی حکومت کے ترجمان اخبار گلوبل ٹائمز نے چینی ردعمل کی ترجمانی کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو ”لاعلم بچہ“ قرار دے ڈالا ہے۔ اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو چین امریکہ تعلقات پر کچھ کتب پڑھنے کی ضرورت ہے۔ا خبار نے غیر متوقع طور پر سخت زبان استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ اگر امریکہ ”ون چائنہ“ پالیسی کا احترام نہیں کرے گا تو بیجنگ بھی امن کی بات کو ایک طرف رکھتے ہوئے بزور طاقت تائیوان کو واپس لے لے گا۔

اخبار نے لکھا کہ نئے امریکی صدر پوری طرح سے ایک بزنس مین ہیں لیکن سفارتکاری کے میدان میں وہ کسی بچے کی طرح لاعلم ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ گلوبل ٹائمز کے اداریے کو چینی حکومت کا سرکاری بیان نہیں کہا جاسکتا لیکن یہ بیجنگ کے سخت ردعمل کا واضح اشارہ ضرور ہے۔

مزید : بین الاقوامی