تعلیمی بورڈز کا معاندانہ رویہ ، نویں جماعت میں داخلہ کے خواہش مند 12سال سے کم عمر طلباءعدالتوں میں خوار

تعلیمی بورڈز کا معاندانہ رویہ ، نویں جماعت میں داخلہ کے خواہش مند 12سال سے کم ...
تعلیمی بورڈز کا معاندانہ رویہ ، نویں جماعت میں داخلہ کے خواہش مند 12سال سے کم عمر طلباءعدالتوں میں خوار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )محکمہ ہائر ایجوکیشن اور تعلیمی بورڈز نے 12سال سے کم عمر طلباءکو نویں جماعت میں داخلہ دینے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے عبوری فیصلہ کو پالیسی حکم کے طور پر قبول کرنے سے انکار کردیا اور طلباءسے انفرادی احکامات کا مطالبہ کردیا جس کے باعث لاہور ہائیکورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر 6 سے 7ایسی درخواستیں دائر ہو رہی ہیں جن میں 12سال سے کم عمر کے طلبائ و طالبات متاثرہ فریق ہیں اور ان کا موقف ہے کہ تعلیمی بورڈز انہیں کم عمر ہونے کی وجہ سے نویں جماعت کے داخلے نہیں بھجوا رہا جبکہ ہائیکورٹ کی طرف سے بھی روزانہ کی بنیاد پر متاثرہ طلبہ و طالبات کے داخلوں کے احکامات جاری کئے جا رہے ہیں، گزشتہ روز بھیمسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے نویں جماعت میں داخلہ نہ دینے کے خلاف دائرایسی ہی ایک درخواست پرسیکرٹری سکولز پنجاب سے جواب طلب کر لیا۔درخواست گزار طالبہ ایشاءمنظور کی جانب سے بتایا گیا کہ عمر کم ہونے کی وجہ سے نویں جماعت میں داخلہ نہیں دیا جا رہا،تعلیم حاصل کرنا سب کا بنیادی حق ہے ۔طلباءاور ان کے والدین کا موقف ہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں اب تک اسی نوعیت کی 220سے زائد درخواستیں دائر ہو چکی ہیں اور لاہور ہائیکورٹ یہ عبوری فیصلہ دے چکی ہے کہ 12سال سے کم عمر طلبہ و طالبات نہم کلاس کا داخلہ بھجوانے کی اہل ہیں لیکن اس کے باوجود محکمہ ہائر ایجوکیشن اور لاہور بورڈ سمیت تمام تعلیمی بورڈز طلباءکے داخلے مسترد کر رہے ہیں اور طلبائ سے لاہور ہائیکورٹ کے چکر لگوا رہے ہیں، طلبہ کے مطابق تعلیمی بورڈز کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ہائیکورٹ سے امیدار طالب علم کے حق میں انفرادی طور جاری عبوری حکمنامے کے بغیر داخلہ نہیں بھجوایا جائے گا، طلبہ کا موقف ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف امتحانات کی تیاری متاثر ہو رہی بلکہ انہیں عدالت سے رجوع کرنے پر اضافی مالی بوجھ بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے، طلباءنے وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا انتظامی سطح پر نوٹس لیں اور تعلیمی بورڈز کو ایک پالیسی حکم جاری کیا جائے کہ 12سال سے کم عمر طلباءکو بھی نویں جماعت میںداخلہ دیا جائے۔

مزید : لاہور