ہائی کورٹ نے ایچ ای سی میں پروفیسر ذوالفقار بوہرہ کے خلاف جعل سازی کی تحقیقات روکنے سے انکار کردیا

ہائی کورٹ نے ایچ ای سی میں پروفیسر ذوالفقار بوہرہ کے خلاف جعل سازی کی تحقیقات ...
ہائی کورٹ نے ایچ ای سی میں پروفیسر ذوالفقار بوہرہ کے خلاف جعل سازی کی تحقیقات روکنے سے انکار کردیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے پنجاب یونیورسٹٰی کے اسسٹنٹ پروفیسر ذوالفقار احمد بوہرہ کے جعلی ریسرچ کی تحقیقات روکنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے ذوالفقار احمد بوہرہ کی متفرق درخواست پر سماعت کی، ذوالفقار بوہرہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عمران سعید نے جعلی ریسرچ پیپرز کی بنیاد پر ذوالفقار بوہرہ کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، ہائیکورٹ نے ایچ ای سی کو جعلی ریسرچ پیپرز کی تحقیقات کا حکم دیا، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ ایچ ای سی کو جعلی ریسرچ پیپرز کی تحقیقات کا اختیار نہیں ہے، رولز کے مطابق صرف پنجاب یونیورسٹی ہی جعلی ریسرچ پیپرز کی تحقیقات کر سکتی ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ذوالفقار بوہرہ ایچ ای سی کے سامنے پیش ہونے سے کیوں ڈر رہے ہیں، جس پر ذوالفقار بوہرہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وہ ڈر نہیں رہے کیونکہ پنجاب یونیورسٹی نے پہلے تحقیقات شروع کر دی تھیں، عمران سعید کے وکیل سعد رسول نے موقف اختیار کیا کہ عمران سعید کی درخواست پر قانون کے مطابق حکم جاری کیا گیا، قانون کے مطابق ایچ ای سی یا متعلقہ یونیورسٹی تحقیقات کر سکتی ہے، اسسٹنٹ پروفیسر ذوالفقار احمد بوہرہ پر جعلی ریسرچ پیپرز کا سنگین الزام ہے، ذوالفقار بوہرہ پنجاب یونیورسٹی سے اس لئے تحقیقات کرانے چاہتے ہیں کیونکہ پنجاب یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام کی ملی بھگت سے یہ ریسرچ پیپرز منظور ہوئی جن کی بنیاد پر ذوالفقار بوہرہ کو جعلی ڈگری اور پروفیسرشپ دی گئی، عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد ایچ ای سی کی طرف سے جعلی ریسرچ پیپرز کی تحقیقات روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ ایچ ای سی اس معاملے کی تحقیقات جاری رکھے اور یہ بھی فیصلہ کرے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے رولز کے مطابق جعلی ریسرچ پیپرز کی تحقیقات کرنا کس کا اختیار ہے۔

مزید : لاہور