فاٹا اصلاحات۔۔۔مزید فکرو تدبّر کی ضرورت

فاٹا اصلاحات۔۔۔مزید فکرو تدبّر کی ضرورت

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا اصلاحات کا بِل مزید مشاورت کے بعد دوبارہ ایوان میں لایا جائے گا۔ وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل(ریٹائرڈ) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ بِل کو زیادہ وقت کے لئے موخر نہیں کیا گیا، ڈپٹی سپیکر نے بتایا کہ وزیر پارلیمانی امور نے وضاحت کر دی ہے کہ تکنیکی وجوہ کی بنا پر بِل چند روز کے لئے واپس لیا گیا ہے، قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی فاٹا اصلاحات کی حمایت کرتی ہے، بِل ایجنڈے پر لا کر پھر نکال دیا گیا یہ افسوسناک اقدام ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ غلطی ہو گئی ہے تو ازالہ ہونا چاہئے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فاٹا اصلاحات پر سب کا اتفاق ہے حکومت ایک یا دو شخصیات کی خاطر پورے مُلک کا ماحول خراب کرنا چاہتی ہے، اپوزیشن جماعتوں نے ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا اور اِسے اُس وقت تک جاری رکھنے کا اعلان کیا جب تک بِل دوبارہ ایجنڈے پر نہیں آتا، واک آؤٹ کے بعد کورم کی نشاندہی پر کورم پورا نہ نکلا تو اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

ایوان سے باہر بھی بعض جماعتوں نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے معاملے پر احتجاج شروع کر رکھا ہے، اور جلسے جلوس اور احتجاجی مارچ جاری ہیں، تاہم کچھ جماعتیں اِس انضمام کے خلاف ہیں،فاٹا کے علاقے قیام پاکستان سے لے کر آج تک وفاقی حکومت کے زیر انتظام رہے ہیں، صوبائی گورنر وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے ان علاقوں کے امور نپٹاتے رہے ہیںیہ درست ہے کہ فاٹا میں بہت سے ایسے قوانین اب تک نافذ چلے آ رہے ہیں جو غیر ملکی حکمرانوں نے اِس علاقے کے جسور و غیوّر عوام کو قابو میں رکھنے کے لئے خصوصی طور پر رائج کئے تھے ان میں فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن جیسا بدنام زمانہ قانون بھی شامل ہے۔یہ علاقے اعلیٰ عدالتوں کی عمل داری سے بھی باہر چلے آ رہے ہیں یہاں مقامی رسم و رواج کے تحت جرگوں کا نظام چلا آ رہا ہے، جس کے تحت ایسی سزائیں بھی دی جاتی ہیں، جو آج کے جدید دور میں بڑی سخت،بلکہ بعض صورتوں میں مضحکہ خیز بھی لگتی ہیں، صاف نظر آتا ہے کہ ایسے جابرانہ قوانین کا مقصد عوام کو دباؤ میں رکھنا ہے، پولیٹیکل ایجنٹ کے اختیارات اِن علاقوں میں لامحدود ہیں اُنہی کا فرمودہ حرفِ آخر ہے، وہ جسے چاہیں جیل میں ڈال دیں کوئی داد فریاد سننے والا نہیں، اِلاّ یہ کہ ایجنٹ صاحب کو خود ہی اپنے حکم کو بدلنے کی ضرورت پیش آ جائے۔

فاٹا میں اصلاحات کی ضرورت تو عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی، فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن جیسے ظالمانہ قوانین کے خاتمے کے مطالبات بھی طویل عرصے سے کئے جا رہے ہیں،لیکن اِس جانب تھوڑی بہت پیش رفت مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے ہی کی ہے، جو جماعتیں اس علاقے کا صوبے میں فوری انضمام چاہتی ہیں اُن کے پاس بھی اپنے حق میں دلائل ہیں اور جو اِس سلسلے میں تدریجی عمل اختیار کرنے کی حامی ہیں اُن کے پاس بھی معقول وجوہ موجود ہوں گی یہ نقطہ نظر کا اختلاف ہے جو اپنے اپنے سیاسی مفادات کی روشنی میں آگے بڑھایا جاتا ہے،جن جماعتوں کو انضمام کی بہت جلدی ہے اور جن کا رویہ یہ ہے کہ وہ رات کو سو کر اُٹھیں تو صبح فاٹا کے علاقے صوبے کا حصہ بن چکے ہوں اور یہ چشم زدن میں صوبے کے اندر رچ بس جائیں، وہ اتنا عرصہ کیوں خاموش رہیں؟ جبکہ بعض دوسروں کا خیال ہے کہ جو علاقے طویل عرصے سے صوبے کے انتظامی امور سے الگ تھلگ رہے ہیں اُنہیں اگر جلد بازی میں مدغم کیا گیا تو انتظامی مشکلات بھی پیدا ہوں گی اور ثقافتی مسائل بھی پیدا ہوں گے، کیونکہ اِس علاقے کے لوگ ایک خاص قسم کے کلچر میں اب تک زندگی گزار رہے ہیں اُن کا صوبے کے اندر پوری طرح جذب ہونا تدریجی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے،ایک رائے یہ بھی ہے کہ فاٹا کے تمام علاقوں کو مِلا کر ایک نیا صوبہ بنا دیا جائے۔

فاٹا کے مستقبل کے بارے میں حکومت، سیاسی جماعتوں، قبائلی ملکوں اور دوسرے لوگوں کی جو بھی رائے ہے وہ کسی بھی لحاظ سے حرفِ آخر قرار نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی پورے وثوق سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ قبائلی عوام جو اصل سٹیک ہولڈر ہیں، دراصل کیا چاہتے ہیں، بہتر طریقہ تو یہ تھا کہ اِس ضمن میں عوام کی رائے لی جاتی، جس کا ایک جدید جمہوری طریقہ ریفرنڈم بھی ہے، مثال کے طور پر ان سے یہ سوال براہِ راست پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا وہ صوبے میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا نہیں، اس کا جو جواب بھی ملے اس کی روشنی میں فیصلہ کر لیا جائے۔ اس سے ایک تو عوام کی رائے جاننے میں مدد ملے گی اور پتہ چل سکے گا کہ قبائلی عوام کی سوچ کیا ہے؟ عوام کی رائے سے جو فیصلہ ہوگا، وہی ان کے لئے باعث اطمینان ہوگا۔ اب تک جو بھی اقدام کئے جا رہے ہیں یا جو بھی اصلاحات کرنے کا پروگرام ہے وہ حکومت یا چند لوگوں کی اپنی سوچ ہو سکتی ہے، کوئی بھی انسان یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کی سوچ ہی درست ہے اور دوسرے سب لوگ غلط ہیں۔ عین ممکن ہے اُن لوگوں کی رائے بھی وزنی ہو جو الگ صوبہ چاہتے ہیں اِس لئے یہ کیوں ضروری ہے کہ جن سیاسی جماعتوں کو فاٹا کو صوبے کا حصہ بنانے کی بڑی جلدی ہے وہی درست ہوں یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ اُنہیں ایسی صورت میں بعض مفادات نظر آتے ہوں، جن کی تکمیل کے لئے وہ جلد از جلد ادغام چاہتے ہیں۔

چونکہ فاٹا کے عوام کی اپنی رائے اب تک آزادانہ طور پر سامنے نہیں آ سکی اور اگرکوئی رائے موجود ہے تو وہ بھی بالواسطہ طور پر قائم کی گئی ہے،اِس لئے جو لوگ فاٹا کی قسمت کا فیصلے کرنے کا کام کر رہے ہیں بہتر ہے وہ اِس پر ذرا سنجیدگی سے غور کر لیں جو عوامی نمائندے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ایوان میں بکھیر دینے کو ہی حقِ نمائندگی کا مترادف سمجھتے ہیں اُن سے کوئی کیا امید رکھ سکتا ہے کہ انہوں نے لاکھوں انسانوں کی قسمت کا فیصلہ کرتے وقت کوئی ذہنی مشقت ہی کی ہو گی اِس لئے فاٹا اصلاحات میں جلدی اور جلد بازی کی بجائے فکر و تدبر سے کام لے کر آگے بڑھنا چاہئے۔ اگر حکومت نے اصلاحات کا بِل چند روز کے لئے موخر کر دیا ہے یا اس میں مزید مشاورت کی ضرورت کا احساس اُجاگر ہوا ہے تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ جو لوگ فاٹا کے خود ساختہ ترجمان بنے ہوئے ہیں وہ اپنی اداؤں پر بھی غور کریں اگر ماضی کی تمام حکومتیں اب تک فاٹا کو صوبے کا حصہ نہیں بنا سکیں تو کیا وہ جواب دہ نہیں، جو لوگ ماضی میں یہ سب نہ کر سکے اب اگر وہ چند روز صبر کر لیں تو کیا آسمان گر پڑے گا۔

مزید : اداریہ