135 ارب کی بجلی چوری

135 ارب کی بجلی چوری

وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس لغاری نے بتایا ہے کہ پشاور، کوئٹہ، سکھر اور حیدر آباد میں بجلی کمپنیوں کی پیداوار سے سالانہ 135ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے۔جبکہ ہر تقسیم کار کمپنی اپنے منافع کو بحال رکھنے کے لئے سالانہ 18سے 20ارب کی اووربلنگ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ صارفین کو بجلی کے بل پندرہ دن پہلے ملا کریں گے۔ہر صارف کو فون پر بجلی کے بل کی تفصیل سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اویس لغاری نے یہ باتیں سی پی این ای کے پروگرام’’میٹ دی پریس‘‘ میں بتائیں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی پیداوار سے 135 ارب روپے کی چوری سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی کرتے ہوئے صارفین شور کیوں مچاتے ہیں اور ان کے مسلسل احتجاج کی کیا وجہ ہے۔ ایک تو بجلی حاصل کرنے کے چکر میں ایسے پیداواری منصوبے مکمل کئے گئے ہیں، جن سے مہنگی بجلی تیار ہوتی ہے۔ چنانچہ صارفین کو مہنگے داموں بجلی فروخت کی جاتی ہے۔ عموماً غریب اور متوسط گھرانوں کی طرف سے اووربلنگ کی شکایت سننے کو ملتی ہے۔ اُدھر میٹر ریڈرز اور ایس ڈی او صاحبان برملا یہ کہتے ہیں کہ بجلی چوری پر قابو نہیں پایا جا سکا اور انہیں ’’اوپر‘ سے کہا جاتا ہے کہ وہ چوری ہونے والی بجلی کا نقصان پورا کرنے کے لئے اوور بلنگ کا نسخہ استعمال کریں۔تاہم بعض میٹر ریڈر صارفین سے ’’مک مکا‘‘ کر کے انہیں کم یونٹ کا بل بھیجتے ہیں اور دیگر صارفین کے بلوں میں زائد یونٹ شامل کر دیئے جاتے ہیں۔ ایسے میٹر ریڈروں کو رشوت اور بد عنوانی سے روکنے کے لئے حکومت نے نیا قانون تیار کیا ہے، جس پر اوور بلنگ کے ذمے دار میٹر ریڈر کو تین سال سزا بھگتنا ہو گی۔ اس پر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین کی طرف سے احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔ یہ کارروائی تو چھوٹی سطح پر ہو گی جبکہ حکومت نے تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے اوور بلنگ کرنے کی شکایت پر کارروائی کے لئے نیپرا کو ذمے داری سونپی ہے نیپرا شکایات سن کر کمپنیوں کو سزا دیا کرے گی۔ بجلی کی پیداوار میں معقول اضافے کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا اعلان قبل از وقت ہی کر دیا گیا ہے ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 2018ء میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اب صرف ان علاقوں میں ہی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے، جہاں بجلی چوری کی شکایات ختم نہیں ہوئی ہیں اس کے ساتھ ساتھ صارفین کو صحیح بل بھجوانے کا بندوبست بھی کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجودجو میٹر ریڈر اپنے مفاد کے تحت زائد بل بھیجیں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ درست ہے۔ صرف چار شہروں میں چار تقسیم کار کمپنیوں کی بجلی چوری کی رقم 135 ارب بتائی گئی ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پورے ملک میں بجلی چوری کی کیفیت کیا ہوگی۔ ظاہر ہے، تقسیم کار کمپنیاں نقصان کو خاموشی سے برداشت نہیں کرتی ہیں، وفاقی وزیر توانائی نے بتا دیا ہے کہ ہر تقسیم کار کمپنی سالانہ 18سے20 ارب کی اوور بلنگ کرتی ہے۔ پہلے تو کمپنیوں کو اس طریق کار سے روکا جائے ۔ اوور بلنگ نہ ہونے کے بعد ہی صارفین کی پریشانی اور احتجاج کا خاتمہ ہو گا۔ بجلی چوری ہونے سے روکنے کے لئے سخت پالیسی اختیار کی جائے۔ بجلی چوروں کو مثالی سزائیں دینے سے ہی یہ مسئلہ حل ہو سکے گا۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...