شہباز شریف اور شاعرانہ تعلّی

شہباز شریف اور شاعرانہ تعلّی
 شہباز شریف اور شاعرانہ تعلّی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اُردو زبان میں ایک ترکیب استعمال ہوتی ہے، شاعرانہ تعلّی،اس کا مطلب یہ ہے کہ جب شاعر اپنی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے اور مبالغے کی حد تک چلا جائے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے شاعرانہ تعلّی سے کام لیا ہے۔

ہماری سیاست میں بھی شاعرانہ تعلّی کا استعمال بہت ہوتا ہے، بلکہ جب تک اسے استعمال نہ کیا جائے کسی لیڈر کی دھاک ہی نہیں بیٹھتی تاہم آج مَیں ذکر کرنا چاہ رہا ہوں، پنجاب کے ہر دلعزیز خادم اعلیٰ شہباز شریف کا، آج کل ان کے استعفے کا مطالبہ زوروں پر ہے، یہ بھی شاید پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے کہ کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کو ہٹانے کے لئے مُلک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں زور لگا رہی ہیں، حالانکہ ماضی میں تو صرف وزیراعظم کے خلاف ایسی تحریکیں چلتی تھیں۔

خادم اعلیٰ شہباز شریف کو ہٹانا تو رہا ایک طرف، پورا زور لگانے کے باوجود صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ استعفا نہیں دے رہے۔ ان کے خلاف تو سیالوی گروپ بھی متحرک ہے، مگر نجانے ان کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے کہ وہ اپنی طرف آنے والے تمام جلسوں کو بے اثر کر دیتے ہیں۔

شہباز شریف کے استعفے کی تحریک نہ بن رہی ہوتی اور وہ اپنی زبان سے یہ کہتے کہ آصف علی زرداری، عمران خان، طاہر القادری، چودھری برادران سب اکٹھے بھی ہو جائیں تو ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، تو یہ ضرور کہا جاتا کہ شہباز شریف خوامخواہ مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہیں۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے خلاف اتنا بڑا اتحاد بن جائے اور وزیراعلیٰ برقرار رہ سکیں، مگر اب جبکہ ان کے خلاف یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ وہ بے فکری کے ساتھ وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر بیٹھے ہیں اور اب اپوزیشن پر زیادہ حملے بھی کر رہے ہیں۔

البتہ ان کی یہ بات تھوڑی سی مبالغے سے آگے تلک جاتی ہے کہ ان کے تمام منصوبے شفاف ہیں پنجاب میں ان کی بنائی گئی کمپنیوں میں بے ضابطگیاں سامنے آ چکی ہیں، ملتان میٹرو بس منصوبے میں بھی کک بیکس کے حوالے سے نیب تحقیق کر رہی ہے۔

شاید وزیر اعلیٰ شہباز شریف اپنی ذات کی حد تک یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی۔ چلیں ان کے اس دعوے کو اِس لئے مان لیتے ہیں کہ ابھی تک کوئی چیز ثابت نہیں ہوئی، مگر اس کے ساتھ ہی جب وہ یہ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی ان کے خلاف ایک روپے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو میری لاش قبر سے نکال کر اسے بیچ چوراہے کے ٹانگ دیا جائے تو مبالغہ آرائی کی حد کر دیتے ہیں، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ شاعرانہ تعلّی کی حد سے بھی گزر جاتے ہیں۔۔۔ جس ملک میں زندوں کا احتساب نہ ہو سکتا ہو، وہاں مردوں کا احتساب کون کرے گا۔؟

پھر شہباز شریف کی لاش کو قبر سے نکالنے کا حکم کون دے گا۔؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان کی لاش کو قبر سے نکال کے بیچ چوراہے میں لٹکایا جائے؟ اس کی تو اسلام میں گنجائش ہے اور نہ ہی ملکی قانون میں، پھر شہباز شریف دعویٰ کیوں کرتے ہیں مَیں تو جب بھی ان کی زبان سے یہ سنتا ہوں، مجھے ہنسی آنے لگتی ہے۔

مجھے یوں لگتا ہے جیسے شہباز شریف ایک زبردست لطیفہ سنا رہے ہوں۔ ممکن ہے وہ یہ بات اس نقطہ نظر سے کرتے ہوں کہ وہ مرنے کے بعد بھی اپنے اعمال کے ذمہ دار ہوں گے، لیکن وہ یہ بھی کیسے کہہ سکتے ہیں، مرنے کے بعد تو معاملہ اللہ کے پاس چلا جاتا ہے۔ وہ جیسے چاہے اس کی اخروی زندگی کا فیصلہ کرے۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ اکثر نماز جنازہ کے وقت ورثا یہ پوچھتے ہیں کہ کسی نے مرحوم سے کچھ لینا دینا ہو تو ہم اس کے لئے تیار ہیں، براہِ کرم اِس وقت اسے معاف کر دیا جائے۔ شہباز شریف کو اللہ لمبی زندگی دے، تاہم بعد کا معاملہ ان کے ورثا بھگتیں گے،ان کی لاش کی بے حرمتی کوئی نہیں کر سکے گا۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ شہباز شریف کے قریب ہیں، وہ ان سے گزارش کریں کہ ایسے دعوے نہ کیا کریں جو صریحاً شاعرانہ تعلّی کے زمرے میں آتے ہیں اور جن کا حقیقی زندگی سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ جس شہباز شریف کی صلاحیتو ں کا پورا زمانہ اعتراف کرتا ہے، اس کی اپنی سیاسی جماعت اس پر اعتبار نہیں کرتی۔ ہر ایک کی زبان پر یہ بات رہتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو اصل طاقت شہباز شریف نے دی ہے، اگر مسلم لیگ (ن) کا پنجاب مضبوط نہ ہوتا تو شاید جتنے ہچکولے اس نے کھائے ہیں، کب کی قصہ ماضی بن گئی ہوتی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد شہباز شریف کو پارٹی کی صدارت اور وزارتِ عظمیٰ نہیں دی گئی۔؟

نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کا دوبارہ صدر بنانے کے لئے پارٹی کو کتنی تنقید برداشت کرنا پڑی، پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی چلا گیا، ادھر اس فیصلے کی تائید کے لئے اسمبلی میں حمایت کرنے والے کئی مسلم لیگی ارکان غائب ہو گئے۔

کئی ایک نے تو واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ سپریم کورٹ سے نا اہل ہونے والے شخص کو پارٹی کا صدر تسلیم نہیں کر سکتے۔ چلیں یہ تو ہو گیا، مگر آگے کیا ہو گا۔؟ جب انتخابات قریب آئیں گے تو قائد ایوان کے لئے کس کا چہرہ سامنے لایا جائے گا۔

ابھی سے یہ آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ مریم نواز کو پارٹی کی قیادت دی گئی تو اکثر پارٹی رہنما اسے قبول نہیں کریں گے۔ آپ شہباز شریف کی پارٹی پر مضبوط گرفت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ حمید الدین سیالوی نے فیصل آباد کے جلسے میں اٹھارہ ارکان اسمبلی کے مستعفی ہونے کا اعلان کر رکھا تھا۔

مگر وہاں صرف پانچ ارکان نے اپنے استعفے حمید الدین سیالوی کو پیش کئے۔ ان کا بھی ابھی یقین نہیں کہ اسپیکر کے پاس بھیجے جائیں گے یا نہیں۔ شہباز شریف کی سیاسی طاقت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سے نکالنے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کو کمزور کرنے کے لئے اپوزیشن یہ ضروری سمجھتی ہے کہ شہباز شریف کو اقتدار سے ہٹایا جائے اب ایک ایسے مضبوط لیڈر کی موجودگی میں مسلم لیگ(ن) اگر ان کی بجائے کسی اور کی طرف دیکھتی ہے تو یہ کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں۔

پاکستان میں سیاسی جماعتیں چاہے کتنی ہی خاندانی سیاست کے زیر اثر ہوں، ہم پھر بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہاں بادشاہت ہے۔پاکستان میں ایک جمہوریت رائج ہے اور سیاسی جماعتوں کو مینڈیٹ لینے کے لئے بہرطور عوام کے پاس جانا پڑتا ہے

۔یہاں انتخابات سے پہلے سب کو علم ہو جاتا ہے کہ کس جماعت کا کون سا رہنما وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار ہے۔میرے نزدیک مسلم لیگ(ن) نے اگر یہ ابہام دور کر لیا کہ اُس کا آئندہ وزیراعظم کون ہو گا تو وہ زیادہ بہتر پوزیشن میں ہو گی، خاص طور پر اگر قرعہ فال شہباز شریف کے نام نکلتا ہے تو پارٹی متحد بھی رہے گی اور جم کر مقابلہ بھی کرے گی۔ اب اگر میری اِن سطور پر کوئی یہ کہتا ہے کہ مَیں خود شاعرانہ تعلّی سے کام لے رہا ہوں اور حقیقت میں مسلم لیگ(ن) کا آئندہ انتخابات میں تو کوئی چانس ہی نہیں، تو وہ بھی غلط نہیں کہے گا۔

اِس وقت ملکی سیاست کی جو صورتِ حال ہے اُس میں کوئی بھی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ ابھی تو یہ پیش گوئی بھی نہیں کی جا سکتی کہ انتخابات وقت پر ہوں گے بھی یا نہیں۔ شہباز شریف کی ترجیحات سے مجھے بھی بہت سے اختلافات ہیں، خاص طور پر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے منصوبوں کو نظر انداز کر کے میٹرو بسوں جیسے میگا پراجیکٹس پر اربوں روپے صرف کر دینا میرے لئے ہضم ہونے والی چیز نہیں، مگر جہاں تک ملکی سیاست کو سمجھنے اور تمام طاقتوں کے لئے خود کو قابلِ قبول رکھنے کا تعلق ہے تو اُس کا مقابلہ کوئی دوسرا سیاست دان نہیں کر سکتا، شہباز شریف نے ججوں اور فوج کے خلاف کبھی بڑھک نہیں ماری،حالانکہ آصف علی زرداری، نواز شریف اور بہت پہلے عمران خان بھی یہ غلطی کر چکے ہیں۔

کامیاب سیاست دان تو وہی ہے، جو دستیاب صورتِ حال میں اپنی جگہ نکالے وگرنہ وہ نواز شریف کی طرح یہی کہتا رہ جاتا ہے کہ ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘پس شہباز شریف سے گزارش صرف اتنی ہے کہ وہ شاعرانہ تعلّی کا مظاہرہ ذرا کم کریں اُن کی یہ بھی شاعرانہ تعلّی تھی کہ وہ آصف علی زرداری کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی دولت نکالیں گے اور یہ بھی شاعرانہ تعلّی ہے کہ کرپشن ثابت ہونے پر اُن کی لاش کو قبر سے نکال کر لٹکا دیں۔

وہ ایسے دعوے نہ کریں جو پاکستان میں بڑے سے بڑے پارسا نہیں کر سکتے۔البتہ وہ یہ دعویٰ ضرور کر سکتے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی سیاست کی نبض پر ہاتھ رکھا ہوا ہے اور دورِ موجود میں اس کا اُن سے بڑا کوئی نبض شناس نہیں ہے۔

مزید : کالم