بُک شیف

بُک شیف
بُک شیف

نام: المسعود(علمی و ادبی مجلہ)

کالج:گورنمنٹ فریدیہ پوسٹ گریجوایٹ کالج پاکپتن

سرپرست: رانا طارق عزیز ناصر (پرنسپل)

نگران: بشیر احمد بھٹی(وائس پرنسپل)

ایڈیٹرز:نوید عاجز۔ ذوالفقار احمد

یہ تازہ کالج میگزین گزشتہ برس (2016ء) کا ہے جو کچھ عرصہ پہلے مجھے موصول ہوا تھا۔ہر کالج/ یونیورسٹی، میگزین کی طرح اس کے بھی دو حصے ہیں۔

اردو کا حصہ166 صفحات اور انگریزی کا40صفحات پر مشتمل ہے۔ انگریزی حصے کے ایڈیٹر ذوالفقار احمد صاحب اور اُردو حصے کے ایڈیٹر نوید عاجز ہیں۔۔۔۔ میگزین کے ہمراہ سال2017-18ء کا پراسپکٹس بھی ہے جس میں رنگین تصاویر سے مزین100صفحات سے زیادہ پر پھیلی ہوئی وہ معلومات ہیں جو کسی بھی طالب علم کے والدین کو اپنے بیٹوں، بیٹیوں کے کسی پوسٹ گریجوایٹ تدریسی ادارے میں داخلے کے لئے مطلوب ہوتی ہیں۔ ایک سی ڈی(CD) بھی اس کے ساتھ ملی جس میں کالج کی مختلف نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کی بڑے عمدہ طریقے سے رونمائی اور عکاسی کی گئی ہے۔

رانا طارق عزیز پرنسپل کالج ہذا کی شخصیت ضلع پاکپتن کے تعلیمی اور تدریسی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ان کے والد گرامی رانا نواب علی خان مرحوم، گورنمنٹ ہائی سکول پاکپتن میں میرے اساتذہ میں سے تھے۔

انہوں نے اپنی ہر دم فعال شخصیت کا ثبوت اس طرح فراہم کیا تھا کہ میرے سکول کی غیر نصابی سرگرمیوں کا سارا نقشہ بدل کر رکھ دیا تھا۔ ان کے دور میں جو نئے بوٹے کاشت کئے گئے تھے، آنے والوں نے ان کی آبیاری کی اور آج یہ ہائی سکول ڈویژن بھر میں ایک ممتاز تعلیمی مقام کا حامل ہے۔

رانا طارق عزیز ناصر ان کے نہ صرف وراثتی فرزندِ ارجمند ہیں بلکہ معنوی لحاظ سے بھی انہوں نے اپنے پدری ورثے کی جدید اور بلند تر خطوط پر صورت گری کی ہے۔فارسی کا یہ محاورہ کہ ’’اگر پدر نتو اند پسر تمام کنند‘‘ رانا طارق پر اپنی پوری معنویت سے صادق آتا ہے۔

ان کو خدا نے موقع دیا کہ وہ ایک پوسٹ گریجوایٹ لیول کے تدریسی ادارے کے فکرو فن کو نکھار بخشیں۔مجھے یہ لکھتے ہوئے انتہائی مسرت ہو رہی ہے کہ پاکپتن جیسے نسبتاً کم ترقی یافتہ ضلع میں رانا صاحب نے اس کالج میں نہ صرف نصابی سطح پر اپنی ہمہ جہت شخصیت کا نقش ثبت کیا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ امسال تعلیمی بورڈ ساہیوال میں اس کالج کے ایک طالب علم اسامہ جنید نے اول پوزیشن حاصل کی ہے، بلکہ غیر نصابی لیول پر بھی کالج کی اتھلیٹکس ٹیم نے مسلسل پانچویں بار رنر اپ ٹرافی اٹھائی ہے۔

پاکپتن نہ تو ریلوے کی مین لائن(Main Line) پر واقع شہر ہے اور نہ ہی جی ٹی روڈ کی زمینی قربت اسے حاصل ہے، لیکن اس بات کے باوجود جب ہم دیکھتے ہیں کہ شہر کے کسی تعلیمی ادارے نے ڈویژنل سطح پر کوئی اختصاص حاصل کیا ہے تو اس ادارے کے اساتذہ اور انتظامیہ مبارک باد کی مستحق ٹھہرتی ہے۔

کسی بھی مکان کو اس کے مکین، شرف و اعزاز سے سرفراز کرتے ہیں اس لئے جنگل اگر اداس نہیں اور قیس کے بغیر بھی پُررونق ہے تو اس کے مکین باعثِ تکریم ٹھہرتے ہیں۔

اس میگزین کے اُردو والے حصے میں اساتذہ اور طلبا کی مشترک اور بھرپور کاوشیں نظر آتی ہیں اور نظم کے حصے میں حمد، نعت اور غزل کے قابلِ تحسین نمونے ملتے ہیں۔مثلاً:

لطف تیرا ہی یم بہ یم لکھوں

فیض تیرا ہی جُو بہ جُو لکھوں

(جمشید کمبوہ)

اک پیڑ ہے پیپل سا

اور آپ کی یادوں سے

دل کل سے ہے بیکل سا

(نوید عاجز)

دِل تو اشکوں میں بہہ گیا تھا اسد

’’یہ دھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے؟‘‘

اسد کمبوہ(سال چہارم)

دِل میں چاہے واہموں کے لاکھ طوفاں تھے مگر

صائمہ ہر آن ہی ہنستی نظر آئی مجھے

(صائمہ یوسف، ایم اے انگریزی سال اول)

یہ امر بھی باعثِ طمانیت ہے کہ ہماری نژادِ نو میں ایک ایسا سیاسی اور سماجی شعور بھی پرورش پا رہا ہے جو قوم کے روشن مستقبل کا عکاس کہا جا سکتا ہے۔ مثلاً ایم اے انگریزی سال اول کے طالب علم منظور جمشید کے یہ دو اشعار دیکھئے:

قوم کے اُجلے افق پر بددیانت چھا گئے

دیکھ کر ان کی خیات غیر بھی شرما گئے

چھین لیں ان رہزنوں نے کسب کی آزادیاں

بے کسوں کو بے بسی کی بیڑیاں پہنا گئے

اگر کوئی تعلیمی ادارہ پنجاب میں ہے تو اس کو پنجابی زبان و ادب اور ثقافت کی ترویج میں بھی کسی بخل سے کام نہیں لینا چاہئے۔نسلِ نو کی بدقسمتی ہے کہ وہ انگریزی سے زیادہ قریب اور اپنی مادری زبان (پنجابی) سے زیادہ دور ہوتی جا رہی ہے،جبکہ پنجابی ایک ایسی زبان ہے جس کی ثروت مندی کے سامنے برصغیر یا دُنیا کی کوئی بھی دوسری زبان (عربی زبان کے علاوہ) نہیں ٹھہر سکتی۔ بھارتی پنجاب کے سکھوں نے نہ صرف ہریانہ اور چندی گڑھ میں بلکہ کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی جا کر پنجابی زبان کے فروغ میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔

انڈیا کی پنجابی زبان کی فلمیں دیکھیں تو آپ کو پنجاب کی دیہی ثقافت اور پنجابی شعرو سخن کا ایک نیا ’’امتزاج اور انگ‘‘ دیکھنے کو ملے گا۔ اس میگزین میں پنجابی اشعار کا حصہ اس حوالے سے قابلِ قدر ہے۔

کالج کے پرنسپل نے کالج کے پراسپکٹس میں بھی جن سپورٹس کو غیر نصابی سرگرمیوں کا باقاعدہ حصہ بنایا ہے ان میں کبڈی، پٹھو گرم، وانجو، گلی ڈنڈا وغیرہ جیسے وہ پرانے روایتی اور دیہی کھیل بھی شامل ہیں جن کو جدید رنگ میں رنگا جا سکتا ہے۔

یہ کرکٹ بھی تو کبھی ایک گلی ڈنڈا ہی ہوا کرتی تھی جو آج باقاعدہ ایک مضبوط اور پیچیدہ سپورٹس انسائیکلو پیڈیا بن چکی ہے۔ رانا طارق نے نہ صرف پنجابی دیہی کھیلوں کو کالج میں متعارف کروایا، بلکہ پنجابی زبان کے نئے اور پرانے ادبی ورثے کی ترویج و اشاعت میں بھی ایک بڑا رول ادا کیا ہے۔

انہوں نے اس مجلے کے ہمراہ جوCD ارسال کی ہے اس میں کالج کی ڈرامیٹک کلب میں پنجاب کے روایتی سازوں (ہارموینم، ڈھولک اور طبلہ وغیرہ) کو بھی کالج کی کئی تقربات میں موضوعِ مظاہرہ بنایا ہے۔

اردو اور انگریزی زبانوں کے تقریری مقابلے تو کالج کی غیر نصابی سرگرمیوں کا ایک لازمی حصہ شمار ہوتے ہیں۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ گورنمنٹ فریدیہ کالج پاکپتن میں ان مقابلوں کا بطریقِ احسن اور ریگولر بنیادوں پر اہتمام کیا جا رہا ہے۔

میگزین کے اُردو حصہء نثر میں بھی اساتذہ اور طلبا نے مل کر جن موضوعات پر اظہارِ خیال کیا ہے وہ بھی قابل خواندگی ہیں۔ان مضامین میں یعقوب چشتی کا مضمون،’’تعلیماتِ گنج شکر‘‘ ،فیض احمد فیض کی‘‘ حیات و تخلیقات‘‘، نوید عاجز کا ’’لطیف ادیب کا جہانِ شاعری‘‘ ،مستنصر حمید(سالِ چہارم) کا ’’اشفاق احمد کا اسلوبیاتی مطالعہ‘‘، عبدالرزاق ظہیر (سال دوم) کا ’’پاکستان ایک نعمت، ایک امانت‘‘ ،محسن علی تبسم ( سال دوم) کا ’’دہشت گردی کا خاتمہ‘‘، ثنا احمد کانجو(ایم اے انگریزی کی طالبہ) کا افسانہ ’’شکوۂ دل‘‘ قابلِ تعریف نثری کاوشیں ہیں۔

علاوہ ازیں انٹرویوز کے حصے میں پرنسپل اور جاوید اختر محمود(ڈی سی او پاکپتن) کے انٹرویوز خاصے معلوماتی اور طلباء کی آئندہ عملی زندگی کے لئے باعثِ تشویق (Motivation) ہیں۔

انگریزی مضامینِ نظم و نثر کا حصہ اُردو کے مقابلے میں حجم کے اعتبار سے ایک چوتھائی ہے جو بُری طرح کھٹکتا ہے۔ کالج کے اساتذہ کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔کالج کے معاملاتِ درس و تدریس میں ’’کالج ، نصاب اور اساتذہ‘‘ کی مثلث میں سب سے اہم کردار اساتذہ کا ہوتا ہے۔

اس کالج کی بلڈنگ بھی بہت شاندار(Imposing) ہے، مسجد کی تعمیر بھی لائق ستاش ہے، طلبا و طالبات کے لئے فراہم کردہ سہولیات بھی قابلِ ذکر ہیں لیکن یہ سنگ و خشت کی عمارتیں اور نصاب کی پُرکشش تفصیلات و ترغیبات اُس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھتیں جب تک اس مثلث کا تیسرا ضلع یعنی اساتذہ سربر آوردہ اور اپنے اپنے ڈسپلن میں یدِ طولیٰ نہ رکھتے ہوں۔

گئے وقتوں میں پٹ سن کے ٹاٹوں پر بیٹھ کر اور درختوں کی چھاؤں میں اکٹھے ہو کر جو کلاسیں لگا کرتی تھیں، ان کی پروڈکشن آج بھی پاکستان کا ایک گرانقدر سرمایہ ہے۔پوسٹ گریجوایٹ لیول کے تعلیمی اداروں کے لئے ماہرین درس و تدریس کو اکٹھا کرنا، پرنسپل اور محکمہ تعلیم کے اربابِ اختیار کی سب سے زیادہ مشکل لیکن اولین ذمہ داری ہے۔

ایک مخلص، باخبر، قابلِ اور محنتی استاد کسی بھی تعلیمی ادارے میں اُس ابرِ رحمت کی طرح ہوتا ہے جس کا اظہار و اقرار حضرت علامہ اقبالؒ نے اپنے استاد پروفیسر آرنلڈ کے لاہور سے لندن چلے جانے کے بعد ان پر لکھی گئی ایک نظم(نالہۂ فراق) میں کیا تھا۔پروفیسر آرنلڈ کو یاد کر کے کہتے ہیں:

ابرِ رحمت دامن از گلزارِمن بر چید و رفت

اند کے برغنچہ ہائے آرزو بار ید و رفت

]پروفیسر آرنلڈ کا لاہور سے چلے جانا ایسا ہی ہے جیسا کہ ابرِ رحمت نے میرے باغ سے رختِ سفر باندھ لیا ہو اور مجھے اکیلا چھوڑ دیا ہو اور جو میری آرزوؤں کے غنچوں پر تھوڑی دیر کے لئے برسا ہو اور جلد چلا گیا ہو![

ہمارے تعلیمی اداروں کے اساتذہ گویا ابرِ رحمت ہیں،لیکن ان کو اسم بامسمیٰ بننے کے لئے آج جو چیلنج درپیش ہیں ان سے عہدہ برآ ہونا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

میگزین کے انگریزی حصے میں جناب احمد نعیم چشتی کا بُک ریویو جو انہوں نے ایک برازیل نژاد مصنف پالو کولہو(Paulo Coelho) پر لکھا ہے، خوب ہے۔

تاہم انہوں نے پالو کے جن ارشادات کا ذکر کیا ہے، وہ ناکافی ہیں۔ انٹرنیٹ پر جائیں تو اس موضوع کا پورا ایک دبستان کھل جاتا ہے۔۔۔۔ جناب ملک افتخار احمد کا مضمون ’’مذہبی اقدار پر جدیدیت کے اثرات‘‘ بھی گویا تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے۔۔۔ پروفیسر محمد ندیم ذوالفقار کا آرٹیکل:’’تعلیمی اداروں میں یکساں نظامِ تعلیم کے لئے چند تجاویز‘‘ طلبا سے زیادہ محکمہ تعلیم کے لئے باعثِ توجہ ہونی چاہئیں۔ انگریزی کے نثری حصے کے یہ تمام مضامین ایک تو نہایت مختصر ہیں اور دوسرے ان کے عنوانات روائتی نہیں،جدید تر اور تازہ تر ہیں اور یہ بات انگریزی حصے کے اساتذہ اور طلباء کے لئے مفید اور قابلِ تقلید بھی ہے۔

انگریزی زبان کے حصۂ نظم میں ساری منظومات قابلِ تحسین ہیں۔وجہ یہ ہے کہ انگریزی زبان کا مزاج اور خمیر غزل (Lyrical Poetry) سے نہیں، نظم (General Poetry) سے اٹھا ہے۔ انگریزی ادب میں عاشقانہ غزلیں اور حسن و عشق کے موضوعات پر لکھے جانے والے اشعار نہ ہونے کے برابر ہیں۔جبکہ اُردو اور فارسی زبانوں میں یہ مساوات البتہ الٹی ہو گئی ہے۔۔۔۔شاید یہی وجہ ہو کہ رڈ یارڈکپلنگ نے کہا تھا:’’مشرق،مشرق ہے اور مغرب، مغرب ہے۔ یہ دونوں کبھی بھی آپس میں نہیں مل سکتے‘‘۔

بلال صابر کی نظم(I am here) ، منظور جمشید کی(She is my Mother)، حبیبہ کوثر کی پنج سطری نظم (Happiness) ، صائمہ خادم کی (Sad Man) اور اسد کمبوہ کی(My Destiny is Lonliness) اچھی شعری کاوشیں ہیں۔ اسد کمبوہ کی نظم کے یہ پہلے تین مصرعے تنہائی کے عذاب کی آمد آمد کی ’’نوید‘‘ ہیں اور خوب ہیں:

Whenever I feel alone

Under the shadow of a tree

Everthing looks to be gone.

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...