یمنی فوج کا الحدیدہ میں3علاقوں8 پر قبضہ ، ایران نے 40مشیر واپس بلا لیے

یمنی فوج کا الحدیدہ میں3علاقوں8 پر قبضہ ، ایران نے 40مشیر واپس بلا لیے

 صنعاء(این این آئی)یمنی فوج نے عوامی مزاحمتی تحریک کے ساتھ مل کر الحدیدہ میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی میں پیش رفت جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ ایران نے الحدیدہ کی بندرگاہ پر موجود اپنے چالیس فوجی مشیروں کو واپس بلا لیا ہے۔ان کے ساتھ وہاں موجود اقوام متحدہ کے ورکر بھی واپس چلے گئے ہیں۔قبل ازیں ایران نے یمنی دارالحکومت صنعاء میں حوثی ملیشیا اور مقتول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کی وفادار فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد اپنا بیشتر سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے۔ادھر یمن کے مغربی ساحلی علاقے میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی فوج نے عرب اتحاد کی مدد سے حوثی ملیشیا کا تعاقب جاری رکھا ہوا ہے اور وہ تیزی سے الحدیدہ شہر کی جانب پیش قدمی کررہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یمنی فوج کے ذرائع نے بتایاکہ حوثی ملیشیا کے کنٹرول میں حدیدہ کی بندر گاہ سے تین روز قبل ایرانی مشیروں کو انخلا ہوا ہے۔ان کے ساتھ اقوام متحدہ کے ورکروں کو بھی وہاں سے واپس بلا لیا گیا ہے۔ان ذرائع کا کہنا تھا کہ ایرانی مشیروں کو واپس بلانے کی کارروائی بڑے خفیہ طریقے سے انجام پائی ہے تاکہ انھیں دوسروں کی نظروں سے بچایا جاسکے۔انھیں ایران کے میزائل بنانے کے ایک ماہر حسین خسروی کی ہفتے کے روز عرب اتحاد کے ایک فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد واپس بلایا گیا ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق ایرانی سفارتی خانے کے ملازمین کو صنعاء سے مسقط منتقل کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ حوثیوں اور مقتول صدر علی صالح کی وفادار فورسز کے درمیان لڑائی کے دوران کیاگیا۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...