شام ، جونیئر روسی فوجی اہلکار نے صدر بشار کو صدر پیوٹن کے ہمراہ چلنے سے روک دیا

شام ، جونیئر روسی فوجی اہلکار نے صدر بشار کو صدر پیوٹن کے ہمراہ چلنے سے روک ...

 دمشق(این این آئی)روس اور شام کی اسد رجیم کا باہمی اتحاد اپنی جگہ مگربعض اوقات روسی تکبر کی ایسی مثالیں سامنے آتی ہیں جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ بشارالاسد جیسے لوگ روسیوں کے زرخرید غلام ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق ایک ایسا ہی توہین آمیز واقعہ حالیہ دنوں کے دوران سوشل میڈیا پر سامنے آیا۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک فوٹیج دکھایا گیا کہ فوجی اڈے پر روسی صدر ولادی میرپوتین کی آمد کے وقت روایتی پروٹو کول کے خلاف ایک روسی فوجی اہلکار صدر اسد کو صدر پوتین کے ساتھ چلنے سے روک رہا ہے۔یہ واقعہ اللاذقیہ شہر کے فوجی اڈے حمیحیم پر پیش آیا۔ فوٹیج میں صاف دیکھا جا رہا ہے کہ صدرولادی میر پوتین تیز قدم چلتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں کہ جب ایک معمولی فوجی اہلکار صدر بشارالاسد کا ہاتھ پکڑ کرانہیں پوٹن کے ساتھ چلنے سے روک رہا ہے۔سوشل میڈیا پر اس فوٹیج کے پوسٹ کیے جانے کے بعد عوامی اور سماجی حلقوں کا شدید رد عمل سامنے آیا ہے اور اس واقعے کو بشارالاسد کی ایک معمولی روسی فوجی اہلکار کے ہاتھوں توہین آمیز قرار دیا ہے۔

مزید : عالمی منظر