سوڈانی صدر کو گرفتار کیوں نہیں کیا تھا ؟ آئی سی سی کا ارد ن سے سوال

سوڈانی صدر کو گرفتار کیوں نہیں کیا تھا ؟ آئی سی سی کا ارد ن سے سوال

ایمسٹرڈیم (این این آئی)ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر کو مارچ میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے موقع پر گرفتار نہ کرنے کی پاداش میں اردان کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے کا ا علان کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق آئی سی سی نے 2009 اور2010 میں صدر عمر حسن البشیر کے خلاف سوڈان کے صوبے دارفور میں جنگی جرائم ، انسانیت مخالف جرائم اور نسل کشی کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔اردن آئی سی سی کا رکن ملک ہے اور وہ اس تعلق سے صدر عمر البشیر کو گرفتار کرنے کا پابند تھا۔سوڈان آئی سی سی کا رکن نہیں ہے ۔اس لیے یہ عدالت اس ملک میں از خود جنگی جرائم کی تحقیقات نہیں کرسکتی ہے۔اردن سے قبل 2015? میں جنوبی افریقا نے بھی سوڈانی صدر کو ان کے دورے کے موقع پر گرفتار نہیں کیا تھا اور اس کی حکومت نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اگر صدر بشیر کو گرفتار کیا جاتا تو یہ اقدام انھیں سربراہ ریاست کی حیثیت سے حاصل استثنا کی خلاف ورزی ہوتا ۔ اس دلیل کو جنوبی افریقا کی عدالتوں اور آئی سی سی نے مسترد کردیا تھا۔مگر اس کے باوجود آئی سی سی نے جنوبی افریقا کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو کوئی شکایت نہیں کی تھی۔کینیا اور جنوبی افریقا افریقی ممالک کے خلاف آئی سی سی کے مبینہ متعصبانہ طرز عمل کے خلاف اس عالمی عدالت کو خیر باد کہنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔واضح رہے کہ سوڈان نے 2009ء میں آئی سی سی کی جانب سے صدر عمر حسن البشیر کے خلاف دارفور میں انسانیت مخالف جرائم کے الزام میں وارنٹ گرفتاری کے اجراء کے بعد متعدد غیرملکی امدادی ایجنسیوں کو بے دخل کردیا تھا۔سوڈان نے ان تنظیموں پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے صدر بشر کے خلاف فرد جرم کی تیاری میں آئی سی سی کی معاونت کی تھی۔

مزید : عالمی منظر