نہتے فلسطینیوں کو تخریب کار قرار دینے کا صہیونی ڈرامہ بے نقاب

نہتے فلسطینیوں کو تخریب کار قرار دینے کا صہیونی ڈرامہ بے نقاب

 رام اللہ(آن لائن)قابض اسرائیلی کی طرف سے فلسطینی شہریوں کے خلاف اشتعال انگیزی روز کا معمول ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایمبولینسوں، رضاکاروں اور طبی عملے کو نشانہ بنانے کے لیے صہیونی فوج کی طرف سے کئی طرح کے بہانے تراشے جا رہے ہیں۔ ایمبولینسوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کے لیے یہ الزام عاید کیا جا رہا ہے کہ نقاب پوش فلسطین مظاہرین ایمبولینسوں کو اپنی سواریوں کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ وہ ایمبولینسوں کے ذریعے اسرائیلی فوج پر دھاوے بولتے، سنگ باری کرتے، پٹرول بم پھینکتے، ٹائر جلاتے اور اسرائیل کیقریب پہنچنے پر ایمبولینسوں پر سوار کوبھاگ جاتے ہیں۔اسرائیلی فوج کی طرف سے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں کچھ فلسطینیوں کو ایمبولینسوں سے اترتے کر اسرائیلی فوج پر سنگ باری کرتیدکھایا گیا ہے۔ صہیونی فوج نے اس واقعے کو ایمبولینسوں کے خلاف کارروائی کے لیے جواز کے طور پرپیش کیا ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی درعی نے سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج پوسٹ کی ہے۔ اس میں فلسطینی ہلال احمر کی ایک ایمبولینس کو فوکس کیا گیا ہے جس سے فلسطینی نقاب پوشوں ایک گروپ اترتا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’ہم اس طرح جرائم بے نقاب کرت ہیں، اس کے بعد ہم کیسے ہلال احمر کی طرف سے زخمیوں کی بیان کردہ تعداد کی تصدیق کرسکتے ہیں۔دوسری طرف العربیہ چینل کی جانب سے بھی اسی واقعے کی فوٹیج حاصل کی ہے۔ اس فوٹیج میں اسرائیلی فوج کے دھاوے کا بھانڈہ پھوٹ گیاہے۔ العربیہ کی طرف سے حاصل کی گئی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے اسرائیلی فوجی ترجمان نے جس ایمبولینس کو فلسطینی مزاحمت کاروں کو لانے کا دعویٰ کیا ہے وہ قابض فوج کی کارروائیوں میں زخمی والے فلسطینیوں کیو طبی امداد فراہم کرنے اور اسپتالوں میں لے جارہی ہے۔ فوٹیج سے پتا چلتا ہے کہ قابض فوج نے ایک فلسطینی لڑکی کو گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئی۔ اس کی ساتھیوں نے اسے اٹھایا اور ایمبولینس میں ڈالا، اسے ابتدائی طبی امدا فراہم کی اور ایمبولینس کی مدد سے اسپتال منتقل کیا گیا ۔

مزید : عالمی منظر