داعش کی نرسری کے خلاف کارروائی کی اشد ضرورت ہے، کریم بیتر

داعش کی نرسری کے خلاف کارروائی کی اشد ضرورت ہے، کریم بیتر

بغداد ( آن لائن ) عراق نے حال ہی میں دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف اپنی ممکنہ فتح کا اعلان کردیا ہے لیکن بغداد کی یہ فتح اس وقت تک کمزور اور غیر موثر رہے گی جب تک داعش کی نرسیوں کے اسباب کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔بغداد کی داعش کے خلاف ممکنہ فتح کا دارومدار جنگی ساز و سامان پر تھا جو زیادہ دیر تک دہشت گروں کو واپس آنے سے نہیں روک سکے گے۔پیرس کے ادارے انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ اسٹراٹیجک افیئرز میں علاقائی ماہر کریم بیتر نے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ ‘داعش کی نرسری کے خلاف کارروائی کی اشد ضرورت ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ‘داعش کے دہشت گروں کو جنگی محاذ پر جزوقتی شکست کا سامنا ہے لیکن جہاں ان کی آبپاری ہورہی ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے’۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عراقی حکام اہم نوعیت کے دیگر چینلجز کو نظر کررہی ہے۔کریم بیترنے واضح کیا کہ عراقی حکام کو مرکزی انتظامیہ کی طاقت کو مستحکم کرنے کے ساتھ پالیسی کی تشکیل میں کمزور برداریوں کو ہر گز نظر انداز نہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ بہت ضروری ہے کہ سماجی اوراقتصادی تعمیرنو میں درپیش مسائل کو سمجھ داری سے حل کریں اور کرپشن کے خلاف موثر اقدامات سمیت تیل کے فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو منصفانہ انداز میں تقسیم کی جائے’۔جینوا گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر محمد الدمحمدیو نے خبر دار کیا کہ عراق میں داعش کی شکست دراصل پسپائی کے برابر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘داعش کا وجود ماضی کا باب نہیں بنے گا اور وہ (داعش) مختلف تنازعات اور جنگیں کئی برسوں تک جاری رکھیں گے جس کے سدباب کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے’۔

مزید : عالمی منظر