سینیٹ سے حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم میں رکاوٹ انتخابی تاخیر کا باعث ہو گی

سینیٹ سے حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم میں رکاوٹ انتخابی تاخیر کا باعث ...

یہ سطور شائع ہوں گی تو کراچی میں ایم ایم اے کی بحالی کے لئے اجلاس شروع ہونے والا ہو گا۔ سندھ کی سطح پر حروں کے روحانی پیشوا اور مسلم لیگ فنکشنل کے صدر پیر پگارو کی سربراہی میں ایک اتحاد قائم ہو چکا ہے،جس نے حال ہی میں سکھر میں ایک کامیاب شو آف پاور بھی کیا تھا، مگر سوال دوسرا ہے کہ جب تک سینیٹ سے تازہ مردم شماری کے عبوری نتائج کے تحت حلقہ بندیوں کے لئے آئینی ترمیم کی منظوری نہیں ہوتی، تو انتخابات وقتِ مقررہ پر ہوں گے کیسے؟ ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی ہر جگہ زیر بحث موضوع یہی ہے، سنجیدہ فکر حلقوں کی فکر مندی یہ ہے کہ سینیٹ سے آئینی ترمیم کی منظوری میں تاخیر سے انتخابات تاخیر یا التوا کا شکار ہو جائیں گے،جس کی ذمہ داری سینیٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں پر ہو گی۔

سینیٹ کے ارکان کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پارٹی سیاست اور پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر آئین پر عمل درآمد کے لئے قانون سازی کریں، کیونکہ وزیراعظم بننے کے لئے قومی اسمبلی کی اکثریت کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ سینیٹ میں چاروں صوبوں کو مساوی نمائندگی حاصل ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ، جس پارٹی کی قومی اسمبلی میں اکثریت ہو اس پارٹی کی سینیٹ میں بھی اکثریت ہو، جیسا کہ اس وقت وفاق میں حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) سینیٹ میں اکثریت سے محروم ہے،جہاں خدشہ آئینی بحران پیدا ہونے کا ہو وہاں سینیٹ کے ارکان سے بجا طور پر یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ وقتی سیاسی مصلحتوں اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر آئینی بحران پیدا نہ ہونے دینے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔بدقسمتی سے سینیٹ آئینی ترمیم کی منظوری نہیں دے سکا،جس سے نت نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سینیٹ میں آئینی ترمیم کی منظوری نہ ہونے دینے کے طرزِ عمل پر نظرثانی کرے،بروقت انتخاب کا انعقاد حکومت کے ساتھ ساتھ پوری پارلیمینٹ اور پارلیمینٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ بعض مواقع پر سیاسی رہنماؤں کی وقتی ضرورتوں اور گروہی مفادات کے تابع سیاسی فیصلوں نے ملک اور ملکی سیاست کو ہمیشہ ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے، جس سے احتراز ملک کے مفاد میں بھی ہے اور خود سیاست دانوں کے مفاد میں بھی ہے، بروقت انتخاب کا انعقاد سیاسی عمل پر یقین رکھنے والی تمام قوتوں کے مفاد میں ہو گا، اس سے انحراف کا سارا فائدہ وہ قوتیں اٹھائیں گی،جنہوں نے ’’موب کریسی‘‘، ’’دھرنا کریسی‘‘ کی سیاست کی پشت بانی کی ہے اور جو ’’ریموٹ‘‘ کے ذریعے سیاست اور سیاسی عمل کرنے کی خواہش مند ہیں۔

’’ریموٹ‘‘ کنٹرول کی سیاست کے مضمرات یہ قوم پانچ عشروں سے زیادہ عرصے سے بھگت رہی ہے، اسی نے مُلک کو دو لخت کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اس طرزِ عمل سے نکلنے کی بنیادی ذمہ داری ان سب قوتوں کی ہے جو سیاسی عمل پر یقین رکھتی ہیں، سیاسی عمل انتخابی عمل کے تسلسل سے مشروط ہے اس کا تسلسل تب ہی ممکن رہے گا۔ جب حکمران اور حزب اختلاف ہر معاملے میں آئین کو بالادست تسلیم کریں گے اور اپنی خواہشوں پر آئین کی خواہش کو مقدم رکھیں گے۔ جمہوریت محض انتخاب میں کامیابی حاصل کر لینے کا نام نہیں ہے، اس کے لئے لازم ہے کہ منتخب ہونے والوں کا تعلق حزبِ اقتدار سے ہو یا حزب اختلاف سے ہو، اپنے طرزِ سیاست کو آئین کے تابع اور قانون کے مطابق بنائیں، جس طرح حکمرانوں پر پابندی ہے کہ وہ اندازِ حکمرانی میں ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر آئین کے طے کردہ پیرا میٹر کے اندر رہ کر پارلیمینٹ کے پاس کردہ قواعد و ضوابط کا لحاظ رکھیں۔اِسی طرح آئین پاکستان پارلیمینٹ کے ہر رکن کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی آئینی عمل کی راہ میں نہ خود رکاوٹ بنے اور نہ ہی کسی دوسرے کو بننے دے۔بروقت انتخابات کا انعقاد آئین کا لازمی تقاضہ ہے، جس کے بروقت انعقاد میں رکاوٹ سینیٹ سے نئی حلقہ بندیوں کی ترمیم کی منظوری میں تاخیر سے پیدا ہو رہی ہے، پیپلزپارٹی کے اپنے حلقوں میں اس پر خاصی تشویش پائی جاتی ہے،جس کا اظہار یہ حضرات آف دی ریکارڈ گفتگو میں کرتے ہیں، مگر آن ریکارڈ گفتگو پر بوجوہ لب کشائی کرنے سے قاصر رہتے ہیں، بعض رہنما برملا آن ریکارڈ بھی اس طرزِ عمل پر ناپسندگی کا اظہار کر چکے ہیں،قومی سیاست کو وقتی ضرورتوں اور گروہی مفادات کے تابع سیاسی اور غیر سیاسی فیصلوں نے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا بھی ہے، ہماری قومی سیاست کا ایک بڑا المیہ یہ بھی رہا ہے کہ ہماری ملک گیر قومی سیاست کی دعویدار جماعتوں کا وجود عملاً صوبوں کی حدود میں مقید ہو رہا ہے۔مسلم لیگ (ن) اس وقت جس بحران سے دوچار ہے یا کر دی گئی ہے اس سے نبرد آزما ہونے میں جن مشکلات کا سامنا ہے اس کا ایک سبب سندھ جیسے صوبے میں 2013ء میں مسلم لیگ(ن) کے ساتھ کھڑے رہنے والوں کو پیپلز پارٹی کے ساتھ مفاہمتی سیاست کی خاطر بے یارو مددگار چھوڑ کر بھول جانا ہے۔ مسلم لیگ(ن) قومی اسمبلی میں اپنی واضح اکثریت برقرار رکھنے میں تو ضرور کامیاب ہے،مگر چاروں صوبوں میں عوامی سطح پر اپنے لیڈر کا اس طرح دفاع کرتی نظر نہیں آتی جیسے اپنے پاور بیس پنجاب میں کرتی نظر آ رہی ہے، حالانکہ سندھ میں2013ء کے عام انتخابات میں اسے قابلِ ذکر ووٹ بھی ملے تھے۔اگر میاں نواز شریف اپنے ہارنے والے امیدوار کو بے یارو مددگار نہ چھوڑتے تو پنجاب کے بعد صوبہ سندھ میاں نواز شریف کے دفاع میں پیش پیش نظر آتا۔

ذوالفقار علی بھٹو (مرحوم) کی پارٹی نے 1970ء کے انتخابات میں مشرقی پاکستان میں اپنا کوئی امیدوار کھڑا کیا تھا اور نہ ہی مشرقی پاکستان میں اپنی جماعت کا کوئی تنظیمی نیٹ ورک بنایا تھا۔1970ء کے انتخاب میں پیپلزپارٹی واضح اکثریت سے صرف پنجاب میں کامیاب ہوئی تھی۔ صوبہ سندھ میں اسے حکومت بنانے کے لئے پیر پگارو کی حمایت سے کامیاب ہونے والے جام صادق کے پانچ ساتھیوں کو توڑ کر پیپلزپارٹی میں شامل کرنا پڑا تھا۔ بلوچستان میں ایک نشست بھی نہیں ملی تھی اور صوبہ خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی میں ایک نشست اور صوبائی اسمبلی میں دو نشستیں حاصل کرپائی تھی،مگر بھٹو(مرحوم) نے اپنے ہارنے والے امیدواروں کو بے یارو مدد گار نہیں چھوڑا تھا، اِس لئے سقوط ڈھاکہ کے بعد موجودہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے مقبول عام لیڈر بنے اور ان کی جماعت چاروں صوبوں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر اُبھری۔ 1988ء کے بعد اگرچہ پیپلزپارٹی پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں قومی جماعت کے طور پر اور سندھ میں سندھی بولنے والوں کی جماعت کے طور پر ردعمل کا اظہار کرتی ہے،مگر آج بھی قومی سیاست میں اس کی افادیت یہی ہے کہ وہ چاروں صوبوں میں ووٹ بنک رکھنے والی جماعت ہے، پاکستان جس طرح کی خارجی اور داخلی مشکلات کا شکار ہے ، اس سے نبرد آزما ہونے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ سیاسی جماعتیں مکالمہ کا آغاز کریں۔ملک گیر سیاست کی دعویدار جماعتیں چاروں صوبوں میں اپنا ووٹ بنک بھی بڑھائیں اور تنظیمی نیٹ ورک بھی۔ سیاسی جماعتیں توانا ہوں گی تو سیاسی عمل میں رخنہ اندازی مشکل ہو جائے گی، قومی سیاست کی حامل جماعتوں کی اہمیت آج کے حالات میں اس لئے بھی اشد ضروری ہو گئی ہے کہ ایک بار پھر فرقہ وارانہ، مسلک کی بنیاد پر انتخابی سیاست پر لشکر کشی کرنے کے نعرے لگائے جانے لگے ہیں۔زبان اور نسل کی بنیاد پر سیاست نے جس طرح سندھ کو تباہ و برباد کیا۔اسی طرح فرقہ اور مسلک کی بنیاد پر سیاست سے بھی کوئی خیر برآمد نہیں ہو گی۔

مزید : ایڈیشن 1