ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ، جنوبی پنجاب میں بھی زبردست احتجاج، شدید مذمت کی گئی

ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ، جنوبی پنجاب میں بھی زبردست احتجاج، شدید مذمت کی گئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے قبلہ اول بیت المقدس کو متنازعہ ریاست اسرائیل کا درالخلافہ بنانے کے خلاف نہ صرف مسلم امہ میں شدید غم وغصہ اور دکھ کا اظہار کیا گیا ہے بلکہ دنیا بھر کے دیگر ممالک بھی اس امریکی اقدام کی نہ صرف مذمت کررہے ہیں بلکہ مطالبہ کررہے ہیں کہ یروشلم کو درالخلافہ نہ بنایا جائے جبکہ اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم کے سیکرٹری جنرل احمدابوالحفیظ نے اس فیصلے کوعالمی قوانین کے سخت خلاف قرار دیا تقریباً تمام ممالک نے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کیلئے امریکہ پر دباؤ ڈالا ہے ۔ اور اقوام متحدہ سے اپنا کردار اد اکرنے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے اس کے خلاف پاکستان بھر میں بھرپور احتجاج کیا گیا ہے خصوصاً جنوبی پنجاب میں تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں نے اس اقدام کے خلاف یک زبان ہوکر احتجاج کیا ہے اور امریکی صدر نے اس فیصلے کی سخت مذمت کی ہے ۔

پاکستان پیپلز پارٹی 15دسمبر کو ملتان میں ایک بڑے جلسہ عام کا انعقاد کرنے جارہی ہے جس میں سابق صدر آصف علی زرداری ، چیئرمین بلاول بھٹو اور سید یوسف رضا گیلانی سمیت متعدد مرکزی اور مقامی رہنما خطاب کریں گے اس کیلئے بھرپور انداز میں تیاریوں کا آغاز شروع کردیا گیا ہے اور جلسے کیلئے قلعہ کہنہ قاسم کو منتخب کیا ہے واضح رہے کہ یہ وہ جگہ جہاں پر تحریک انصاف کے جلسہ کے اختتام پر 8قیمتی جانیںٰ ضائع ہوئیں تاہم پیپلز پارٹی اسی جگہ جلسہ کرے گی جس کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں اور تشہیر ی کام شروع کردیا گیا ہے ہولڈنگز بینرز ، سٹیمرز اخبارات میں اشتہارات اور سب کے بڑھ کر الیکٹرانک میڈیا پر بھی اپنی کارکردگی پر مشتمل پیکیج اشتہارات کی صورت میں چلائے جارہے ہیں اب اس تمام تر کوشش کے باوجود جلسہ کیسا ہوتا ہے اس کا فیصلہ تو 15دسمبر کو ہوگا لیکن پیپلزپارٹی کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو ملتان آئے تھے انہوں ںے میاں عبداللہ ارائیں کے گھر قیام کیا تھا اور ان کا جلسہ اس وقت کسی سواری کی فراہمی کے باوجود تاریخی تھا ۔ اب اگر پارٹی شرکا جلسہ کو سواری اور کھانا بھی فراہم کررہی ہے تو جلسہ کی تعداد کم از کم دس گنا زیادہ ہونا چاہیے کیونکہ آباد ی بھی تو20گنا بڑھ چکی ہے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا نقطہ نظر بہت مختلف ہے ان کا کہنا ہے کہ ہم ملتان کے جلسے کو سائنسی اندا ز میں کامیاب کر ؁۷ٍﷺ گے اور یہ حکمت عملی عام انتخابات میں بھی ہوگی ۔ اب یہ حکمت عملی کیا ہوگی اس کیلئے وہ خود ہی بتا سکتے ہیں البتہ جنوبی پنجاب پر پارٹی نے توجہ زیادہ مرکوز کرلی ہے اور تقریباً40ایکڑ کے لگ بھگ رقبہ واقع بہادر پور بوسن روڈ پر بلاول ہاؤس کی تعمیر دن رات جاری ہے اور آصف علی زرداری کا دعوی ہے کہ وہ جنوری 2018میں ملتان بلاول ہاؤس میں بیٹھ کر جنوبی پنجاب کی سیاست کریں گے۔ پیپلز پارٹی ملک بھر میں آئندہ انتخابات میں کلین سویپ کرے گی ۔ اس قسم کا دعویٰ تو تحریک انصاف بھی کرتی پھر رہی ے کیونکہ ان کے چیئرمین عمران خان آج کل مختلف حوالوں سے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ جنوبی پنجاب میں اپنے امیدواراں کیلئے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کیلئے کیا نعرہ لگانا چاہیے ظاہر ہے کہ ان کے خیر خواہوں نے انہیں وہی نعرہ لگانے کا مشورہ دیا جو باقی سیاسی جماعتیں گزشتہ 30سال سے یہاں لگاتی پھر رہی ہیں کہ ہم اقتدار میں آکر جنوبی پنجاب کو صوبے کا درجہ دلائیں گے ۔ لیکن عمران خان کے ایڈوائزر نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ اگر وہ اس نعرے کو اپنے منشور میں شامل کر بھی لیں تو بھی انہیں اسمبلی میں قانون سازی کیلئے جانا پڑے گا۔ نعرہ منشور میں شامل کرنے سے بہترہے کہ اسی اسمبلی سے کچھ نہ کرالیا جائے اگر بل پاس ہوجاتا ہے تو تحریک انصاف کی جیت کو کوئی روک نہیں سکتا بلکہ کلین سویپ ہوسکتا ہے اور اگر بل ناکام ہوتا ہے تو پھر بھی تحریک انصاف کا بھرم قائم رہے گا اور انہیں اس لئے ریکارڈ ووٹ پڑیں گے وہ بل اسمبلی میں لے کر آئی اور دوبارہ بھی لائیگی ۔ لیکن جو جماعتیں اس کی مخالفت کریں گی اس کا کیا ہوگا ان کا اندازہ ان سیاسی جماعتوں کو 2018کے انتخابات میں ہوجائے گا۔ ادھر سیاسی حالات اس طرح ہوچکے ہیںٰ کہ تحریک انصاف کے وفد نے تو مخدوم شاہ محمودحسین قریشی کی قیادت میں عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری سے ملاقات کرکے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفصیلات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کے مطالبہ کی حمایت کردی ہے ۔ چلو یہاں تک تو بات سمجھ آتی ہے کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک شانہ بشانہ کنٹینر دھرنے میں ساتھ ساتھ رہے۔

ملتان ترقیاتی ادارہ نے ایک طویل عرصہ کے بعد جنوبی بائی پاس کے قریب ایک رہائشی سکیم کا اعلان کیا تھا جس میں اس علاقے کے چھوٹے بڑے تمام زمین داروں کی زمین ادارے کے قوانین کے تحت حاصل کرلی تھی اس وقت جب کالونی کا کام شروع ہوا اور زمین کی ایکوئرنگ شروع ہوئی تو متعدد ’’طاقت ور ‘‘ مقامی سیاست دانوں نے اپنی اپنی اراضی اس سکیم سے مستثنیٰ کروالی لیکن چھوٹے زمیندار جو بیشتر چند ایکڑوں کے مالک تھے اور اپنی گزر اوقات اس سے کرتے تھے ادارے کے قانون کی گرفت میں آگئے نسیم مائی نے ایک مرتبہ پھر احتجاج کیا لیکن ماضی کی طرح اس کی کوئی نہ سنی گئی آخر تنگ آکر اس نے ایم ڈی اے آفس کے سامنے دھرنا دے دیا جہاں سے اسے مقامی پولیس اٹھا کر لے گئی اور ڈرا دھمکا کر دوڑا دیا لیکن نسیم مائی اپنے خاوند اور بیماربیٹی کے ہمراہ پریس کلب کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گئی جس کی خبریں اخبارات اور ٹیلی ویژن پر چلیں تو وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے انہیں مقامی انتظامیہ کے توسط سے لاہور طلب کرلیا اور ان سے ملاقات میں یقین دلایا کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا ۔ اور ساتھ ہی انہیں گرفتار کرنے والے ڈی ایس پی انسپکٹر سمیت تین مزید پولیس اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کردیا اور سابق ڈی سی او ملتان نسیم صادق پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی وہ معاملے کی چھان بین کرے یہ سنگل رکنی کمیٹی واپس جاچکی ہے اور جو خبر شائع ہوئی ہے اس کے مطابق ایم ڈی اے حکام سے نسیم مائی کی زمین مذکورہ کالونی سے نکالنے سے صاف انکار کردیا ہے البتہ اب کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق کروڑوں روپے کی اس اراضی کی قیمت مبلغ 29لاکھ روپے دینے کی ’’فراخدلانہ‘‘ آفر دی ہے ۔ البتہ وزیراعلیٰ پنجاب سے ایک سوال ہے کہ اگر انہیں معلوم تھا کہ وہ ان معاملات میں بیوروکریسی کا کچھ نہیں کرسکتے تو انہوں نے نسیم مائی کو لاہور بلا کر حوصلہ کیوں دیا اور پھر ان پانچ پولیس اہلکاروں کا اب کیا قصور رہ گیا ہے کہ انہیں سرکاری ملازمت سے برخاست کردیا حالانکہ ملتان ترقیاتی ادارہ کے کرتا دھرتا توحضرات کا بال بھی بیکا نہیں ہوا ترقیاتی ادارہ ملتان کے معاملات کو محض ایک مرتبہ دیکھ لیں کہ وہاں کتنی نسیم مائیوں کے گل کھلے ہوئے ہیں ۔

مزید : ایڈیشن 1