موسم نے انگڑائی لی، تیز بارش،برف باری، موسم سرد ہوگیا، سیاسی ماحول بدستور گرم

موسم نے انگڑائی لی، تیز بارش،برف باری، موسم سرد ہوگیا، سیاسی ماحول بدستور ...

اسلام آباد راولپنڈی اور گردونواح میں ہونیوالی بارش اور ملکہ کوہسار مری ودیگر بالائی علاقوں میں برفباری سے سردی میں اضافہ ہوگیا ہے خشک سردی کا خاتمہ ہوگیا ،ایک طرف سرد موسم نے معمولات زندگی کو درہم برہم کیاہے تو دوسری جانب فاٹا اصلاحات کا بل حکومت کی جانب سے واپس لیے جانے پر سیاسی جماعتیں سخت ردعمل ظاہرکررہی ہیں،قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات بل پیش نہ ہونے پر فاٹا ارکان اور اپوزیشن کی جماعتوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا، اجلاس کے دوران فاٹا ارکان سمیت اپوزیشن ارکان نشستوں پر کھڑے ہوگئے، شدید نعرے بازی کی، سپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں،’’گو ایف سی آر گو‘‘ اور ’’فاٹا اصلاحات بل ایجنڈے سے کیوں نکالا‘‘ کے نعرے لگائے، فاٹا ارکان پارلیمنٹ نے کارکنوں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہربھی شدیداحتجاج کیا، شاہ جی گل آفریدی اور شہاب الدین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی داخلی دروازے پر کھڑے ہوکر راستہ بندکردیا۔جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں اور فاٹا ارکان پارلیمنٹ کے کارکنوں کے درمیان شدید تلخ کلامی بھی دیکھنے میں آئی فاٹا اراکین کی جانب سے مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی،عبدالقادر بلوچ کیخلاف نعرے بازی کی گئی ،جب کہ گو ایف سی آر گو کے نعرے بھی لگائے گئے،اس موقع پر شاہ جی گل آفریدی کاکہناتھا کہ آج ہمارے لئے خوشی کا دن تھا مگر افسوس کہ راتوں رات ہمارے اوپر ڈرون سے بھی بڑا حملہ ہوا، یہ حملہ صرف قبائلیوں پر نہیں بلکہ پاکستان پر ہوا ہے۔ مسلم (ن) کے رکن قومی اسمبلی شہاب الدین نے کہا کہ رات کو فاٹا اصلاحات کا بل ایجنڈے میں تھا۔ لیکن آج غائب ہے۔ قبائل کو بغاوت اور الگ ریاست بنانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ہمیں جائز حقوق نہیں دیئے جا رہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنماؤں سید خورشید شاہ،شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ فاٹا اصلاحات بل کو ایجنڈے کا حصہ نہ بنانا پارلیمنٹ کی تاریخ کا افسوسناک واقعہ ہے،ہم فاٹا عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، اگر کوئی ٹیکنیکل غلطی ہوئی ہوتی تو بتایا جاتا،حکومت دباؤ کا شکار ہے، پارلیمنٹ کے ساتھ جو مذاق کیا جا رہا ہے وہ قابل افسوس ہے،اگر یہ بل ایجنڈے پر نہیں آیا تو ہم بیٹھ کر طے کریں گے کہ اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا،پوری حکومت نے دو شخصیات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور فاٹا اصلاحات کے سامنے دیوار کھڑی کر دی ،حکومت کی نیت درست نہیں تھی، انہوں نے عارضی سیاسی ناٹک رچایا،حکومت کی اصلیت کھل کر سامنے آ گئی ہے ۔ شاہ محمود قریشی کاکہنا تھاکہ حکومت کے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تھی ، 2 مارچ کو کابینہ نے فاٹا اصلاحات کو منظور کیا،6مارچ کو سیکرٹری سیفران نے اس کی منظوری دی، آج تک وہ سمری ایوان صدر نہیں پہنچی فاٹا کے لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے، رات کو ہمیں خوشخبری سنائی گئی کہ ہم سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک نافذ کرنے کیلئے تیار ہیں، ہم نے یہ بھی کہا کہ اگر فاٹا کا انضمام کرنا ہے تو آرٹیکل 106میں بھی ترمیم کرنا ہو گی، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کاکہناتھاکہ فاٹا اصلاحات کا بل آج کے ایجنڈے میں آنا چاہیے تھا، عبدالقادر بلوچ نے مجھ سے رابطہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم یہ بل لا رہے ہیں، اپوزیشن کی کیا رائے ہے، ہم نے کہا کہ ضرور لائیں۔ بل کو ایجنڈے کا حصہ نہ بنانا پارلیمنٹ کا افسوسناک واقعہ ہے ۔

امریکی صدر ٹرمپ کے یروشلم سے متعلق فیصلے پر فلسطینی عوام سے اظہاریکجہتی کیلئے پیر کو سینیٹ اجلاس کا ایجنڈ اموخر کر دیا گیا، سینیٹ نے امریکی صدر کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کے فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسکی بھرپور مذمت کی،اراکین سینٹ کا کہنا تھا کہ یروشلم میں سفارتخانہ کھولنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اسرائیل کے ناجائز قبضے کو جائز قراردینے کی کوشش ہے ،مشرق وسطیٰ اور فلسطین میں ناانصافی ہوئی، امریکہ کا معاشی بائیکاٹ کیا جائے، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان مضحکہ خیز ہے ، اسرائیل، امریکہ، بھارت ٹرائیکا پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہے، ٹرمپ کے فیصلے سے یروشلم اور بیت المقدس کبھی بھی اسرائیل کا نہیں ہوسکتا۔اجلاس میں امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی کے حوالے سے سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے تحریک پیش کی ، جس پر چیئرمین میاں رضا ربانی کاکہنا تھا کہ قواعد کو معطل کر کے آج کے پورے اجلاس میں صرف اسی تحریک پر بحث ہوگی ، جس پر انہوں نے قائد ایوان راجہ ظفرالحق اور قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کی مشاورت سے باقی ایجنڈا مؤخر کردیا سینیٹر فرحت اللہ بابر کاکہنا تھا کہ اسلامی اتحاد واقعی اگر ایران کے خلاف نہیں ہے تو آج اس ایوان سے یہ آواز اٹھنی چاہیے کہ یہ دہشت گردی کی سب سے بڑی واردات ہے اور دہشتگردی کے خلاف بننے والے اتحاد کو اس کیخلاف کارروائی کرنا ہوگی ، اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں اپنے سابق آرمی چیف کو واپس بلانا ہوگا ۔ حکومت پاکستان کیلئے یہ چیلنج ہے اور وزیراعظم کو آکر اس ایوان کو بتانا ہوگا اور اس اتحاد سے دستبرار ہوناہو گا۔

سینیٹر رحمان ملک کاکہنا تھا کہ ڈونلڈٹرمپ اپنے ملک میں جوکر مشہور تھا مگر اب وہ جوکر پن کر کے پوری دنیا میں اختلافات کی بنیاد رکھ رہا ہے، ذوالفقار علی بھٹو کو مسلم امہ کے اتحاد کی بناء پر مارا گیا،سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی فلسطینیوں کے حق میں آوازاٹھاتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے معاملے پر پاکستان کو اپنا قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، یہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے ہمیں یورپی یونین اور اقوام متحدہ میں بھی بات کرنا ہوگی۔سینیٹر عثمان کاکڑکاکہناتھاکہ امریکی سامراج کی مدد اسلام کے نام پر کی گئی ۔اسلامی اتحاد کا امام آج بھی ڈونلڈٹرمپ ہے ، ٹرمپ کے فیصلے سے یروشلم اور بیت المقدس کبھی بھی اسرائیل کا نہیں ہوسکتا مگر اسلامی اتحاد کی خاموشی کو یاد رکھا جائے گا ٹرمپ نے یہ جرات اسلامی ملکوں کی مشاورت سے کی ہے ۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر سحر کامران امریکی سفا رتخانے کی یروشلم منتقلی اور فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے فلسطینی جھنڈے کی شال پہن کر ایوان بالا آئیں انکا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ عالمی دہشتگرد ہے،یروشلم فلسطین ہے اور رہیگا،یہ مسلمانوں کی جگہ ہے اور رہیگی ۔

آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس میں وزیرخزانہ اسحاق ڈارکو اشتہاری قرار دیدیا گیا ، نیب کی درخواست پر اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کا محفوظ فیصلہ سنایاگیا۔عدالت نے اسحاق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی کو ملزم پیش کرنے کا آخری موقع دیتے ہوئے قرار دیا کہ تین روز میں ملزم کو پیش نہ کرنے کی صورت میں جائیداد قرق کرلی جائے گی۔ عدالت نے ضابطہ فوجداری کے تحت ملزم کی عدم حاضری پر ٹرائل آگے بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے چودہ دسمبر کو اسحاق ڈار کے خلاف نیب سے شہادتیں طلب کرلیں۔ اسحاق ڈار کی نئی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی وکیل صفائی نے بتایا کہ ان کے موکل کی ایم آر آئی کا انتظار تھا، سینے میں اب بھی تکلیف ہے جب کہ دل کی شریان میں بھی معمولی سا مسئلہ ہے۔احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسزکی سماعت انیس دسمبرتک ملتوی کردی گئی،لندن فلیٹس اورالعزیزیہ اسٹیل ملزریفرنسز میں استغاثہ کے گواہوں کے بیانات اوروکیل صفائی کی جرح مکمل ہوگئی، لندن فلیٹس ریفرنس میں نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر عدالت میں پیش ہوئے، آئندہ سماعت پر فلیگ شپ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ آفاق احمد کا بیان قلمبند کیاجائے گا۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...