کیا موت کی دعا مانگنے کا وقت آ گیا ہے؟

کیا موت کی دعا مانگنے کا وقت آ گیا ہے؟
 کیا موت کی دعا مانگنے کا وقت آ گیا ہے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس امر کی سند کون جاری کر سکتا ہے کہ مسلمان کون ہے۔ کیا آپ اسے مسلمان تسلیم نہیں کرتے جو کلمہ پڑھتے ہوئے اللہ عزوجل کے رب ہونے کا اعلان کرتا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا اور آخری نبی تسلیم کرتا ہے ۔

یہ بات عقیدے کی ہے اور اس کے بعد عمل آتا ہے۔ ایک شخص جو نماز اور زکوٰۃ کا منکر نہیں مگر نماز اور زکواۃ ادا بھی نہیں کرتا، اس کے بارے کیا حکم ہے۔ کیا وہ شخص محض گناہ گار ہے یاآپ اسے دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ نظرئیے یا عمل کی بنیاد پر دوسروں کو مسلمان یا غیر مسلم قرار دینے کا اختیار کس کے پاس ہے۔

کیا یہ اختیار آپ کو ریاست نے دیا ہے یادھونس کی بنیاد پر آپ نے از خود سنبھال رکھا ہے ۔ آپ جسے چاہے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہوئے مطالبہ کر دیتے ہیں کہ وہ آپ کے سامنے آ کے اپنے ایمان کی تجدید کرے چاہے کوئی آپ جیسا ہی گروہ خود آپ پر کفر کے فتوے لگا رہا ہو۔ کیا کسی بھی ریاست میں کسی بھی شہری کے لئے اس سے زیادہ توہین آمیز کوئی بات ہو سکتی ہے کہ اس کے ایمان و اعتقاد کی ٹھیکیداری کسی دوسرے کے پا س ہو ۔

میرے بہت سارے دوست کہتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں، ان کا کسی فرقے سے کوئی تعلق نہیں، انہوں نے تو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا ہے اور خود کو تفرقے میں نہیں ڈالتے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ تشریحات میں نہیں جاتے بلکہ وہ صرف اور صرف قرآن کو پکڑتے ہیں۔

میں ذاتی طور پر ان کے جذبے کی قدر کرتا ہوں مگر میرے ذہن میں سوال آتا ہے کہ اگروہ تشریحات میں کسی کی اتباع نہیں کرتے تو پھر وہ ایمان کا بنیادی جزو نماز کیسے ادا کرتے ہیں یا ادا ہی نہیں کرتے کہ قرآن پاک کے کسی بھی پارے میں نماز ادا کرنے کا طریقہ لکھا ہی نہیں ہے ۔

کیا وہ امام کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں اور اگر ہوتے ہیں تو سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں یا نہیں پڑھتے،آمین بالجہرکہتے ہیں یا نہیں کہتے، ہاتھ ناف پر باندھتے ہیں یا اوپر سینے پر رکھتے ہیں، وہ سنتوں اور نوافل کی تقسیم کیسے کرتے ہیں۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ وہ سورۃ فاتحہ پڑھتے بھی ہوں اور نہ بھی پڑھتے ہوں، وہ آمین بالجہر کہتے بھی ہوں اور نہ بھی کہتے ہوں، وہ ہاتھ ناف پر بھی باندھتے ہوں اور سینے پر بھی باندھتے ہوں اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ وہ ایک نیا مکتبہ فکر تشکیل دے رہے ہیں جس کا شائد کسی امام سے کوئی تعلق نہ ہو۔

میری معذرت قبول کیجئے گا کہ اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں آپ کو فرقہ بازی کی طرف لے جا رہا ہوں، میں تو آ پ کو کچھ حقائق بتا رہا ہوں جو شائد آپ اپنی چرب زبانی سے گول کر جاتے ہیں۔

میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ یہ ہماری مجبوری ہے کہ ہم نے پوری ایمانداری کے ساتھ جس طریقے کو درست سمجھنا ہے، اس کی اتباع کرنی ہے اور یہی ہمارا ایمان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طویل عرصے سے اب کسی ایک فرقے اور کسی ایک مکتبہ فکر کی بات نہیں کی جاتی،یہی کہا جاتا ہے کہ اپنا مسلک چھوڑ و نہیں او ردوسروں کامسلک چھیڑو نہیں۔

ایمان تو سراسرنیت اور دل کا معاملہ ہے، میں نے بہت سارے علمائے کرام سے پوچھا کہ کیا محض کلمہ پڑھتے ہوئے ایمان کا اعلان کر دینا ہی مسلمان ہونے کے لئے کافی ہے، جواب ملا، ہرگز نہیں، کہا گیا کہ اگر کوئی اعلان کرے مگر دل میں تسلیم نہ کرے تو وہ مسلمان اور ایمان دار نہیں ہے۔

میں نہیں جانتا کہ ایسی صورت میں آپ کسی کے دل میں گھس کے کیسے جان سکتے ہیں کہ اس کی نیت کیا ہے۔ یہ نیت تو ہمارا رب ہی جانتا ہے جو ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ جب آپ کسی کی نیت نہیں جان سکتے تو آپ کو اس کے الفاظ پر ہی یقین کرنا پڑے گا اور ایمان کامعاملہ بندے اور رب کے درمیان رہ جائے گا کجا یہ کہ کوئی اسلام اور ایمان کی مسلمہ اقدار کی نفی اورقرآن پاک میں طے کر دہ واضح حدودکی خلاف ورزی کر رہا ہو۔

سوال تو پھر یہی ہے کہ ایک شخص نماز نہیں پڑھتا تو وہ گناہ گار ہے یاکافر ہے۔ جواب پھر وہی ہے کہ اگر وہ نماز کا انکا ر کرتا ہے تو وہ مسلمان نہیں ہے کیونکہ مسلمان او رکافر کے درمیان فرق کرنے والی شے ہی نماز ہے لیکن اگر وہ نظریاتی طورپرمنکر نہیں مگر سست اور بے پرواہ ہے تو وہ کافر نہیں ہے اور اس کے بارے میں ا مید رکھنی چاہئے کہ وہ اپنے عمل کو درست کر لے گا مگر یہاں مسئلہ یہ ہے کہ کلمہ پڑھنے والے بار بار اعلان کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں مگر انہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا، ان کے خلاف محاذ کھولے جاتے ہیں ، معاشرے میں موجود تقسیم درتقسیم کے عمل کو آگے بڑھایا جاتا ہے، ہم سیاسی مخالفین کو سیاسی مخالف نہیں رہنے دیتے، انہیں رب کا باغی بناتے ہوئے اپنے رب سے بھی نہیں ڈرتے۔

کیا اس سے بڑا ستم کوئی دوسرا ہو سکتا ہے کہ کوئی بار بار اعلان کر ے کہ وہ مسلمان ہے، وہ اللہ عزوجل کی ربوبیت ا ور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر مکمل یقین رکھتا ہے، قرآن پاک کی ایک ایک آیت پر اس کا ایمان ہے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونابھی شامل ہے مگر اس کے باوجود ڈنڈے پکڑ لئے جائیں اور اسے اسلام کے دائرے سے نکالنے کے لئے گالیاں اور دھکے دئیے جائیں۔

میں یہاں اپنے ایمان کا بار بار اعلان کرنے کے باوجود استعفا دینے پر مجبور کر دئیے جانے والے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اورابھی تک اپنے عہدے پر موجود صوبائی وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ خان کے معاملات کا ذکر نہیں کرنا چاہتا اور چاہتا ہوں کہ اس پر میرا سچا اور انصاف پسند رب ہی فیصلہ نازل کرے۔

مسلمانوں سے ڈرتے ہوئے میں یہاں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیتالمقدس منتقل کرنے کا ذکر کرلیتا ہوں جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ ہمارے بیت المقدس کی پاک سرزمین کو ظالم اور غاصب یہودی قوم کا دارالحکومت بنانا چاہتا ہے۔

یہ پوچھا گیا کہ ہم اسرائیل سے کب لڑیں گے اور ا س کا جواب ملا کہ جب وہ اسلام قبول کر لیں گے یعنی ہم مسلمانوں کی تعریف اور تاریخ غیر مسلموں کی بجائے مسلمانوں سے ہی لڑنے کی ہے۔ ہم اللہ اللہ کے نعرے لگاتے اور رسول رسول کاورد کرتے ہوئے ایک دوسرے کو مسلمان تسلیم نہیں کرتے مگر تمام غیر مسلم ہم سب مسلمانوں کو مسلمان ہی جانتے اور مانتے ہیں۔ آہ! کیا سخت وقت آ گیا ہے کہ کافر ہونے کا الزام مولویوں اور مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ کافروں سے لیا جائے ، کافر کافر کے نعرے لگاتے علمائے کرام سے میرا انتہائی ادب اور احترام سے سوال ہے، کیا آپ وہ وقت تو نہیں لے آئے جس میں عزت اور ایمان والی موت کی دعا مانگنا جائز ہوجاتا ہے؟

مزید : کالم