مائنس زرداری پیپلز پارٹی کا کوئی فارمولا اس وقت زیر غور نہیں

مائنس زرداری پیپلز پارٹی کا کوئی فارمولا اس وقت زیر غور نہیں

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

کیاحالات اب اس نہج پر آگئے ہیں کہ یہ فیصلہ بھی عمران خان کریں گے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت آصف علی زرداری کے پاس ہونی چاہئے یا نہیں؟ وہ اگر یہ کہتے ہیں کہ زرداری کی موجودگی میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں ہوسکتا تو کیا انہیں یقین ہے کہ موجودہ حالات میں زرداری کے بغیر بھی پیپلز پارٹی کا کوئی تصور ہے؟ اگر وہ یہ سوچتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ سیاست کی حرکیات کو اس طرح نہیں سمجھتے جس طرح ایک سیاستدان خصوصاً زرداری کے مقابلے میں سیاست کرنے والے کو سمجھنا چاہئے، اس وقت پیپلز پارٹی جو کچھ بھی ہے جہاں ہے اور جیسی ہے یہ آصف زرداری کی پارٹی ہے اور آج کی پوزیشن یہ ہے کہ بلاول بھٹو کو پارٹی کی قیادت بھلے سونپ دی گئی ہے اور وہ اس کے چیئرمین بھی ہیں لیکن آج تک انہوں نے پارٹی کے اندر کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا جس پر جناب زرداری کی چھاپ واضح اور بدیہی طور پر نظر نہ آتی ہو۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ چیئرمین نے ایک فیصلہ کیا ہو اور شریک چیئرمین نے اس کی توثیق کردی ہو، یا پھر آخرالذکر نے فیصلہ کرکے چیئرمین کی مُہر لگوالی ہو، لیکن یہ ہو نہیں سکتا کہ بلاول کوئی ایسا فیصلہ کرلیں جو آصف زرداری نہ چاہتے ہوں اسلئے جو لوگ یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ اب بلاول کا سکہ چلے گا اور زرداری ’’مائنس‘‘ ہوجائیں گے انہیں نہ تو پارٹی کی اندرونی صورتِ حال کا علم ہے اور نہ ہی وہ اس سحر سے آزاد ہوسکے ہیں جو پارٹی پر بے نظیر بھٹو کے دور میں موجود تھا، پیپلز پارٹی اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین بظاہر دو الگ الگ جماعتیں ہیں لیکن ہر چند کہیں کہ یہ دو ہیں یہ ایک ہی جماعت کے دو رخ ہیں، پارلیمنٹریشن بنانے کی ضرورت اس وقت محسوس کی گئی تھی جب 2002ء کے الیکشن میں بے نظیر بھٹو کی قیادت والی پیپلز پارٹی کو الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا تھا۔ مخدوم امین فہیم اس کے پہلے چیئرمین تھے لیکن فیصلے بے نظیر بھٹو ہی کرتی تھیں، انتخابی ٹکٹ بھی انہی کی مرضی اور منشا سے جاری ہوتے تھے، یہاں تک کہ جب 2002ء کے انتخابات کے بعد جنرل پرویز مشرف نے مخدوم امین فہیم کو وزارتِ عظمیٰ کی پیش کش کی تو بھی مخدوم صاحب بے نظیر کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے، اسی لئے جنرل کو بعد ازاں پیپلز پارٹی کے منتخب ارکان کا ایک گروہ پارٹی سے الگ کرنا پڑا جس نے راؤ سکندر اقبال کی قیادت میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت میں شمولیت اختیار کی، اگرچہ یہ تاثر بھی دیا جاتا رہا کہ یہ اقدام بے نظیر بھٹو کی مرضی سے اٹھایا گیا ہے، لیکن بے نظیر بھٹو نے کبھی اس اقدام کی سرعام توثیق نہ کی، مخدوم امین فہیم کے بعد اب آصف علی زرداری پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے چیئرمین ہیں۔ جس پیپلز پارٹی کے آصف زرداری شریک چیئرمین ہیں کیا اگلا الیکشن یہ پارٹی لڑے گی یا وہ جماعت جس کے وہ چیئرمین ہیں یہ فیصلہ ابھی نہیں ہوا، لیکن دونوں صورتوں میں پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کا ہی نام ہے۔ اب آصف علی زرداری کو کیا پڑی ہے کہ وہ عمران خان کو خوش کرنے کے لئے دونوں پارٹیوں سے الگ تھلگ ہوجائیں، ویسے یہ سوال اہم ہے کہ کہیں دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد کی بات چل بھی رہی ہے یا نہیں، یہ تاثر در اصل اس وقت گہرا ہوا جب دونوں جماعتوں نے عوامی تحریک کے مطالبات کی حمایت کردی حالانکہ قمر زمان کائرہ واضح کرچکے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے صرف ماڈل ٹاؤن کے مسئلے پر عوامی تحریک کی حمایت کی ہے، دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی اتحاد بننے نہیں جارہا لیکن بعض حلقوں نے فرض کرلیا ہے کہ عوامی تحریک کے قائد جو دھرنا دینے جارہے ہیں اس میں دونوں جماعتیں ان کے دائیں بائیں ہوں گی اور باقی جماعتیں بھی ان کی گاڑی کے پائیدان پر کھڑی نظر آئیں گی، ایسا نہیں ہے اور یہ سوچنے والے عوامی تحریک کی سیاست کا کوئی شعور نہیں رکھتے، یہ درست ہے کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے 2014ء میں اکٹھے دھرنا دیا تھا اور ایک مرحلے پر یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ دونوں جماعتیں اکٹھے وزیراعظم ہاؤس کی جانب بڑھنے لگی ہیں لیکن تھوڑے ہی دنوں میں اس تاثر کی نفی ہوگئی پھر ڈاکٹر طاہر القادری 76 روز کے بعد دھرنا ختم کرکے کینیڈا چلے گئے۔ عمران خان ان کے بعد بھی دھرنے پر بیٹھے رہے اور اعلان کرتے رہے کہ انہیں ایک سال بھی کنٹینر پر بیٹھنا پڑا تو بیٹھیں گے، ناکام دھرنے کے بعد انہوں نے اسلام آباد لاک ڈاؤن کا پروگرام بنایا تو انہوں نے ڈاکٹر طاہرالقادری کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی جو انہوں نے قبول نہیں کی اور طرح دے گئے کیونکہ وہ لندن میں ہونے والے فیصلوں سے مطمئن نہیں تھے اور ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے طے شدہ امور کی مخالفت کی ہے، لاک ڈاؤن بھی ناکام ہوگیا تو عمران خان سپریم کورٹ چلے گئے جہاں انہیں کامیابی حاصل ہوگئی اس دوران دونوں پارٹیوں میں کبھی کوئی قابلِ ذکر رابطہ دیکھنے میں نہیں آیا، اب اگر ڈاکٹر طاہر القادری کے دائیں آصف زرداری اور بائیں عمران خان کھڑے ہوتے ہیں تو اتحاد کا تاثر تو بنے گا۔ لیکن یہ یقینی نہیں کہ ایسا ہوگا بھی یا نہیں، بے نظیر بھٹو سے پہلے بیگم نصرت بھٹو پارٹی کی چیئرمین تھیں لیکن جب وہ ان کی جگہ چیئرمین بن گئیں تو پھر پارٹی کے اندر حکم بے نظیر بھٹو کا چلنے لگا تھا۔ بلاول کی پوزیشن اپنی والدہ کی طرح نہیں ہے وہ ایسے چیئرمین ہیں جو اپنے والد کے بغیر سیاست میں آگے نہیں بڑھ سکتے اور نہ آصف زرداری نے انہیں اتنی آزادی دی ہوئی ہے کہ وہ انہیں نظر انداز کرکے آزادانہ فیصلے کرتے رہیں، اسلئے تحریک انصاف خاطر جمع رکھے، پیپلز پارٹی میں مائنس زرداری کوئی فارمولا فی الحال زیر غور نہیں ہے۔

مائنس زرداری

مزید : تجزیہ