کرپٹ افراد کا سوشل بائیکاٹ کرنے تک کرپشن ختم نہیں ہوسکتی

کرپٹ افراد کا سوشل بائیکاٹ کرنے تک کرپشن ختم نہیں ہوسکتی

لاہور(سپیشل رپورٹر)ملک کی ممتاز نمایاں شخصیات نے کرپشن کو ذہنی انتشار قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن کرنے کے لئے غریب ہونا شرط نہیں، ارب پتی افرادبھی ہزاروں کی کرپشن کے مرتکب ہوتے ہیں، کرپٹ افراد کا سوشل بائیکاٹ کرنے تک کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کی جانب سے اینٹی کرپشن کے عالمی دن کی مناسبت سے گزشتہ روزالحمراء میں شاندار سیمینارکا انعقادکیاگیا جس کی صدارت ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب بریگیڈیئر ریٹائرڈ مظفر علی رانجھا نے کی، نظامت کے فرائض سعدیہ اعجازنے انجام دئیے ۔ پنجاب گروپ آف کالجز کے طلبہ وطالبات نے ڈرامہ اور ملی نغمہ پیش کیاجبکہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے کرپشن کے موضوع پر ڈرامہ پیش کرکے حاضرین سے خوب داد سمیٹی، جی سی یو کی ٹیم نے ملی نغمہ بھی پیش کیا جس کو خوب سراہا گیا۔ سیمینار سے رانا اکرام ربانی، امجد اسلام امجد، اداکار شاہد، جسٹس ریٹائرڈفقیر محمد کھوکھر، میئر لاہور کرنل ریٹائرڈ مبشر نے خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ کرپٹ افراد کا سوشل بائیکاٹ کرنے تک کرپشن ختم نہیں ہوسکتی، نبی کریم کی سیرت مبارکہ سے رہنمائی لے کر خود کو کامیاب ثابت کیا جاسکتا ہے، اخلاقی اور معاشرتی کرپشن کے مقابلے میں مالی کرپشن میں اضافہ ہورہا ہے نوجوان نسل کو صاف ستھرا پاکستان دینا چاہتے ہیں، رانا اکرام ربانی نے کہا کہ محکمہ اینٹی کرپشن کی کارکردگی ماضی کے مقابلے میں موازنہ نہیں کی جاسکتی کیونکہ اب جدت اور نیا خون کرپشن کے عفریت کا مقابلہ کرنے کیلئے میدان عمل میں موجود ہے یہی وجہ ہے کہ پہلی بار عوام نے اینٹی کرپشن کے اعلیٰ افسران کو سڑکوں پر پھول اور پمفلٹ بانٹتے دیکھا، مجھے خوشی ہے کہ اب یہ محکمہ ’’ایجنسی‘‘ بننے جارہا ہے، اور ان تمام کامیابیوں کاکریڈیٹ بریگیڈیئر ریٹائرڈ مظفر علی رانجھا کو جاتا ہے۔ صدارتی خطاب میں ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب بریگیڈیئر ریٹائرڈ مظفر علی رانجھا نے کہا کہ وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کسی سیاستدان، سرکاری افسر کی سفارش نہیں کریں گے اور انہوں نے اپنا وعدہ نبھایا ہے، ہم بڑے حوصلے کے ساتھ پورے پنجاب میں بیٹھے ہوئے ہیں، میں اپنے تمام شہریوں سے کہتا ہوں کہ وہ کرپٹ بندے کا گریبان پکڑیں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

انٹی کرپشن سیمینار

مزید : صفحہ آخر