وکلاء کا نیو جوڈیشل کمپلیکس میں سہولیات دینے تک احتجاج کا اعلان

وکلاء کا نیو جوڈیشل کمپلیکس میں سہولیات دینے تک احتجاج کا اعلان

ملتان (خبر نگار خصوصی) ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن ملتان کی ایکشن کمیٹی نے نیوجوڈیشل کمپلیکس میں سہولیات دینے تک عدالتوں کو دوبارہ ضلع کچہری میں منتقل کرنیکامطالبہ کرتے (بقیہ نمبر12صفحہ12پر )

ہوئے احتجاج جاری رکھتے ہوئے آج جوڈیشل کمپلیکس میں احتجاج کااعلان کیاہے جبکہ چوک کچہری پراحتجاج کے دوران ٹریفک بلاک ہونے سے شہریوں کو شد ید پریشانی کا سامنا کرناپڑاہے۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ روزڈسٹرکٹ بارکی جانب سے مکمل عدالتی بائیکاٹ کیا گیااورڈسٹرکٹ بارہال میں احتجاجی اجلاس منعقد کیاگیا۔احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈسٹرکٹ بار محمد یوسف زبیر نے کہاکہ وکلاء کو دھوکے میں رکھ کر عدالتوں کو جوڈیشل کمپلیکس منتقل کیاگیا اوروہاں پرکوئی سہولیات بھی فراہم نہیں کی گئی ہیں جس کی وجہ سے وکلاء مسائل اورپریشانی کاشکارہیں اس لئے وکلاء کوجوڈیشل کمپلیکس میں تمام سہولیات فراہم کی جائیں اوراس دوران عدالتوں کو دوبارہ ضلع کچہری منتقل کیا جائے۔ صدر ہائیکورٹ بار شیر زمان قریشی نے کہاکہ ملتان کے وکلاء نے عدلیہ کے لئے جتنی قربانیاں دیں اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ہے لیکن انہی وکلاء کوبے سروسامانی کی کیفیت میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مسائل سے دوچار کر دیاگیاہے اس لئے عدالتوں کی اس طرح منتقلی کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار سید انیس مہدی نے کہاکہ وکلاء نے نیو جوڈیشل کمپلیکس میں چیمبر،بارروم،مسجد،لائبریری ،سائلوں کے لئے انتظارگاہ اوربنیادی سہولیات کی فراہمی کے جائز مطالبات کئے ہیں اس لئے ان مطالبات کو تسلیم کیاجاناچاہیے۔ممبر پنجاب بار کونسل سید جعفر طیار بخاری نے کہاکہ ممبران پنجاب بار جوڈیشل کمپلیکس میں مسائل کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات کرے گے جس کے لئے ایگزیکٹو باڈی اپنا لائحہ عمل دے جس پر پوری طرح عمل کریں گے۔وکلاء محموداشرف خان،ریاض خان بابر،محمد حفیظ،ممتاز ملک، حبیب اللہ نہنگ،خالداشرف خان،عبدالرزا ق ڈوگر،ممتاز نور ٹانگرہ ، مرزا فرخ بیگ،عبدالستار ملک،صبیحہ رندھاوا،نشید عارف گوندل، شاہد محمود چاون،صبغت الحسنین،اظہر بلوچ،شیخ سرفراز حسین اور عمران رشید سلہری نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ جب تک وکلاء اور سائیلین کے لئے تمام سہولیات نہیں دی جائیں گی جوڈیشل کمپلیکس میں منتقل نہیں ہوں گے اورسہولیات کی مکمل فراہمی تک عدالتوں کو پرانی کچہری منتقل کیا جائے کیونکہ نیک نیتی کاامرنہیں ہونے کی وجہ سے کچہری سے عدالتوں کو راتوں رات شفٹ کیا گیا۔ اس لئے وکلاء مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت اورعدلیہ مل کر وکلاء اور سائلوں کوسہولیات فراہم کرے۔ وکلانے مزید کہاکہ اگر نیو جوڈیشل کمپلیکس میں سہولیات فراہم نہیں کی گئیں تو احتجاج کادائرہ لاہور تک وسیع کر دیا اوراس وقت تک پرامن احتجاج جاری رکھاجائیگا لیکن اگر وکلاء کے جائزمطالبات تسلیم نہیں ہوئے تو احتجاجی مظاہرے کئے جائیں اورجیل بھرو تحریک سے بھی نہیں گھبرائیں گے اس کے ساتھ نیو جوڈیشل کمپلیکس جاکر احتجاج کیاجائیگااورعدالتوں کو نیو جوڈیشل کمپلیکس سے ضلع کچہری واپس لائیں گے۔دریں اثناء اجلاس کے دوران بھی ہنگامہ خیزی رہی اور وکلاء اجلاس کے دوران باربارکھڑے ہو تے رہے ورچلو نیو جوڈیشل کمپلیکس چلو کے نعرے لگاتیرہے۔اجلاس کے اختتام پر وکلاء کی جانب سے چوک کچہری تک احتجاجی ریلی نکالی گئی اس دوران وکلاء نے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی جبکہ چوک کو چاروں جانب سے ٹریفک کے لئے بلاک کردیاگیاجس کی وجہ سے شہریوں کے ساتھ طلبہ وطالبات کو پریشانی کاسامناکرناپڑاہے۔

وکلاء احتجاج

مزید : ملتان صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...