وہاڑی، ڈاکٹرز کی’’مسیحائی‘‘مریض ملتان کے بجائے تھانہ دانیوال کی حوالات ریفر

وہاڑی، ڈاکٹرز کی’’مسیحائی‘‘مریض ملتان کے بجائے تھانہ دانیوال کی حوالات ...

وہاڑی(بیورورپورٹ+نا مہ نگار)ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹرز کی رحمدلی ، مسیحاؤں نے مریض کو ملتان کی بجا ئے تھانہ دانیوال کی حوالات میں ریفر کردیا ، ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ڈاکٹرز اور مریض کے ورثاء میں مبینہ تصادم ، ملتان ریفر کیے (بقیہ نمبر33صفحہ12پر )

جا نے والا مریض ورثاء کے ہمراہ دانیوال کی حوالات میں پہنچ گیا ، ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ڈاکٹر ز اور مریض کے ورثاء کے درمیان مبینہ لڑائی جھگڑا ہو گیا جس پر پو لیس تھانہ دانیوال کے ایس ایچ او بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گیا، ڈاکٹر ز صدر پی ایم اے ڈاکٹر غلام حسین آصف ، ڈاکٹر وسیم ڈھلوں ، ڈاکٹر زین ، ڈاکٹر عنایت، ڈاکٹر فہیم نعیم ودیگر نے بتایا کہ نواحی گاؤں چک نمبر188ای بی کا نثاراحمد گزشتہ آٹھ دنوں سے میڈیکل وارڈ میں داخل تھا جس کو ملتان ریفر کردیا گیا تو مریض نثاراحمد کے ورثاء نے ملتا ن جا نے کی بجا ئے ڈاکٹر فہیم نعیم اور لیڈ ی ڈاکٹر وردا سے مبینہ طور پر بد تمیزی کر تے وہئے گالی گلوچ شروع کردی ، جس پر ہسپتال میں موجود سیکورٹی گارڈ نے منع کیا تو انہیں بھی مارنا پیٹنا شروع کردیا اور بد تمیزی کرتے ہوئے اپنے دیگر ساتھی بلا لیئے ، جنہوں نے ہسپتال کے شیشے توڑ ڈالے اور ہنگامہ کھڑا کردیا واقعہ کی اطلاع پر 15نمبر پولیس کو دی جس پر ایچ ایس اور تھانہ دانیوال بھاری نفری کے ہمراہ آگیا مریض اور ورثاء کو پو لیس کے حوالے کردیا پو لیس نے ان کو گرفتار کرکے کارروائی شروع کردی جبکہ ڈاکٹروں نے فوری طور پر ہڑتال کردی اور جب تک مقدمہ درج نہ ہوا ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کردیا جبکہ حوالات میں بند نواحی گاؤں 188ای بی کے رہائشی مریض نثاراحمد نے صحافیوں کو بتایا کہ گزشتہ آٹھ دس دنوں سے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زیر علاج تھا آخر کار ڈاکٹر ز نے مجھے ملتان ریفر کردیا میرے بیٹے افتخار اور وقار اور داماد عمران اور بیٹی عشرت ہسپتال آگئے اور ڈاکٹر ز سے کا غذات لے کر ریسکیوآفس ایمبو لینس لینے چلے گئے اور میری بیوی آسیہ میرے ساتھ وارڈ میں موجود رہی جب میرے بیٹے ریسکیو آفس گئے تو انہوں نے کہا کہ ایمبولینس تب ملے گی جب متعلقہ ڈاکٹر ہمیں فون کرے گا جس پر میرے بیٹے وارڈ میں آئے تو ڈیوٹی ڈاکٹر موجود نہ تھا پھر اسکو ڈھونڈتے رہے مگر ڈاکٹر کا فی دیرتک نہ ملا اس پر وہ وارڈ میں آگئے تو ڈاکٹر فہیم نعیم مل گئے اسکو کہا کہ ریسکیوعملہ کو فون کردو تو ڈاکٹرز نے مبینہ طور پر فائل میرے داماد کے منہ پر دے ماری جس میں ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی اسکے بعد سیکورٹی گارڈز آگئے ان لو گو ں نے میرے دونوں بیٹوں کو پکڑ لیا اور مبینہ طورپرتشدد کا نشانہ بنایا اور گھسیٹتے ہو ئے لے جانے لگے تو دروازے کے شیشے ٹو ٹ گئے میری بیٹی عشرت چھڑوانے کے لیے آئی تو اسکے بھی تشدد کانشانہ بنا یا میرے داماد کو بھی مارا پیٹا جس پر بعد میں ہمیں تھانہ دانیوال پو لیس کے حوالے کردیا ، اس طرح ہم ملتان نشتر ہستپال کی بجا ئے تھانہ داینوال کی حوالات میں پہنچ گئے اس موقعہ پر صدر پی ایم اے ڈاکٹر غلام حسین آصف نے کہا کہ آئے روز ہسپتال میں لڑائی جھگڑوں کی اصل وجہ ڈاکٹرز اور سٹاف کی کمی ہے وزیر اعلیٰ پنجاب کو چاہیے کہ فی الفور سٹاف کی کمی کو پورا کیا جا ئے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...