برفباری ،لینڈ سلائیڈنگ وادی لیپا کی 80ہزار آبادی کا زمینی رابطہ کٹ گیا

برفباری ،لینڈ سلائیڈنگ وادی لیپا کی 80ہزار آبادی کا زمینی رابطہ کٹ گیا

مظفرآباد(بیورورپورٹ)آزاد کشمیر میں طویل ترین خشک سالی کے دوسرے مرحلے میں ہونے والی شدید بارشوں ، برفباری ، لینڈ سلائیڈنگ سے وادی لیپہ کرناہ کی تقریباً 80 ہزار آبادی جملہ زمینی راستوں کی بندش سے 4 ماہ کیلئے جیل میں قید ہونے کی طرح زندگیاں بسر کرنے کی سال ہا سال پرانی روایات پر مجبور ہو گئی ۔دارالحکومت مظفرآباد سے 100 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع حسین ترین وادی کے لوگ اب موسم بہار تک نہ اپنے پیاروں کے جنازوں کو کندھا دے سکیں گے اور نہ شادی بیاہ یا کسی بھی دکھ سکھ میں شریک ہو سکیں گے ۔وادی لیپہ کرناہ سے ریشیاں ، لمنیاں تک ٹنل کی تعمیر کے وعدے محض طفل تسلیاں اور شیخ چلی کے خواب بن کر رہ گئے ۔ تعلیمی اداروں سمیت سرکاری محکموں میں حاضری نہ ہونے کے برابر ، طبعی سہولیات کا فقدان ، راشن کی قلت ، عصر حاضر کی سہولیات سے محرومیاں وادی میں بسنے والے غیور خود دار ، ذہین تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے نسل در نسل منتقل ہونے لگیں۔ عوام علاقہ وادی لیپہ کرنا ہ نے ٹنل کی تعمیر کے لئے فنڈز مختص کر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر خان کی جانب سے آزاد کشمیر میں چار انتخابی حلقے بنانے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وادی لیپہ کو اپنے وعدے کے مطابق اسمبلی میں آضافی نشست دینے کے لئے آئینی پیکج میں شامل کرنے کا پرزور مطالبہ کررکھا ہے ۔گزشتہ روز برفباری ، لینڈ سلائیڈنگ ، بارشوں سے پیدا ہونے والی تشویش صورتحال پر عوام کو درپیش مسائل پر دونوں حکومتوں کی توجہ دلاتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی سیکرٹری ریکارڈ شوکت جاوید میر نے کہا کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے چرچے کیے جارہے ہیں تحفظ جنگلی حیات کے لئے بھی قوانین بنائے گئے ہیں مگر وادی لیپہ کرنا ہ کے جرات مند عوام کے انسانی حقوق حکمرانوں کی آنکھوں سے کیوں اوجھل ہو جاتے ہیں یہ ہمارا تمام وعدے اور اعلانات کرنے والوں سے متفقہ سوال ہے ۔شوکت جاوید میر نے کہا کہ 7 ارب روپے وفاقی حکومت نے 3 سال قبل وفاقی حکومت نے اپنے بجٹ میں مختص کرنے کے لئے قومی اسمبلی کی بجٹ تقریر کے دوران خوشخبری سنائی تھی لیکن جب عمل درآمد کی باری آئی تو محض لاف زنی ، چرب زبانی کے علاوہ کچھ بھی نہیں نکلا جبکہ بجٹ تمام فورمز سے منظور ہو کرجب فاء جب پلاننگ کمیشن میں پہنچی تو سلیمانی ٹوپی پہن کر کچھ شخصیات نے اس کو التواء میں رکھنے کا انتخابی جواز پیش کیا جن کے ناموں کا انکشاف شوائد کے ساتھ پیش کرنا میرے فرائض میں شامل ہے ہم کسی پر تنقید نہیں کرتے مگر یہ حقیقت ہے کہ لیپہ کرناہ کے لوگوں کی حق تلفی کرنے کے لئے ناانصافی کی تمام حدود و قیود کو پاؤں تلے روند دیا گیا جبکہ پیلزپارٹی کی حکومت نے لیپہ ٹنل کی فیزیبلٹی کے لئے ساڑھے تین کروڑ روپے کورئین کمپنی کو پہلے سال میں ہی ادا کر دئیے تھے سابق وزراء اعظم پاکستان اعلان کرکے سیاسی فائدے حاصل کرتے رہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی لیپہ سے جنگلات کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے قومی خزانے میں جمع ہوتے ہیں باقی معدنیات اور معمول کے ریونیو کے علاوہ مسلمہ اصولوں کے مطابق آمدن کا پچیس فیصد آمدن حاصل ہونے والے علاقہ پر خرچ کیا جاتا ہے لیکن اس کے بھی برعکس آمدن تو حاصل کی جارہی ہے لیکن خرچ کرنے کے وقت نو لفٹ کا نو فنڈز نو رائٹس کی سرخ جھنڈی دکھا دی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی لیپہ کا مرکزی بازار ایک سال قبل جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا تھا جس میں 70 سے زائد دکانیں ، 6 مکان ، ہزاروں ٹن غلے سے بھرا راشن ڈپو ، ریسٹ ہاؤس ، گاڑیاں موٹر سائیکل مکمل جل جانے سے اربوں روپے کا تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑا وہاں بھی حکومت نے بوگس اعلانات کئے اور اونٹ کے منہ میں زیرے کی مانند امداد جو آفات سماوی میں دی جاتی ہے وہی دی گئی ۔ اور بہادر افواج پاکستان نے آتش زدگی کے ایک روز بعد ہی ایک کروڑ نقد امداد تعمیراتی کاموں میں معاونت اور روز مرہ کی ضروریات پورا کرنے میں مثالی کردار ادا کیا ہے جس کے لئے آج بھی ان کے شکر گزار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کرناہ کے عوام بالعموم اور نوجوان نسل بالخصوص ٹنل تعمیر کے لئے فیصلہ کن تحریک میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو جائیں اس سے قبل ہم وزیراعظم راجا فاروق حیدر خان سے ایک نمائندہ وفد کے ساتھ ملاقات کر کے حتمی دو ٹوک چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر کے جواب لیں گے جس کے بعد اپنے حقوق کے لئے قربانیوں کا آغا ز میں اپنے آپ سے کروں گا تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے خوشحالی پیدا ہو سکے ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن بنا کرندامت ، احساس محرومی اور بے توقیری کا کلچر ختم کیا جاسکے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول