2013ء کے انتخابات میں اے این پی کا مینڈیٹ چھین لیا گیا تھا:ایمل ولی

2013ء کے انتخابات میں اے این پی کا مینڈیٹ چھین لیا گیا تھا:ایمل ولی

چارسدہ (بیورو رپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جائنٹ سیکرٹری اور پی کے 18کے امید وار ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی پختون قوم کی نمائندہ جماعت ہے جو ہر محاذ پر پختون قوم کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ 2013کے انتخابات میں اے این پی کا مینڈیٹ چھین لیا گیا تھا مگر 2018کے انتخابات میں اے این پی ایک بار پھر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریگی ۔ وہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ضلعی صدر شاہ حسین کی صدارت میں منعقدہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے اجلا س سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر اے این پی کے ضلعی صدر بیرسٹر ارشد عبداللہ ، پی کے 17کے امید وار قاسم علی خان محمدزئی ، این وائی او کے مرکزی چےئرمین محسن داؤڑ ، صوبائی رہنماء گلزار خان سمیت کابینہ کے اراکین ،حلقہ پی کے 17کے یوسی صدور اور جنرل سیکرٹریز اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی ۔ اجلاس میں متفقہ طوپر عبداللہ محمد زئی کو این وائی او کا ضلعی سوشل میڈیاسیکرٹری مقرر کیا گیا ۔ اجلاس میں تنظیمی امور کے حوالے سے تفصیلی غور و حوض کیا گیا اور این وائی ا و کو مزید متحرک کرنے کیلئے لائحہ عمل وضع کیا گیا ۔ اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے اے این پی کے صوبائی ڈپٹی جنرل ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی آئندہ عام انتخابات میں بھر پور کامیابی حاصل کریگی۔ 2013کے انتخابات میں اے این پی کا مینڈیٹ چھین لیا گیا تھا مگر اس بار حالات مختلف ہے اور اے این پی کے حق میں فضا ہموار ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے ۔ تحریک انصاف عوام سے کئے گئے تمام وعدے اور دعوئے بھول کر تحت اسلام آباد اور تحت پنجاب کے حصول میں لگی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اے این پی پختونوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے جو ہر محاذ پر پختونوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ انہوں نے این وائی او پر زور دیا کہ آئندہ عام انتخابات میں این وائی ا و کا کلیدی کردار ہو گا ۔ اس لئے این وائی او کے کارکن ابھی سے آئندہ انتخابات کی تیاریاں شروع کریں ۔انہوں نے 19دسمبر کو میونسپل پارک میں منعقد ہونے والے اسفندیار ولی خان کے جلسہ عام کے تیاریوں کے حوالے سے ضروری ہدایات بھی جاری کئے ۔اس موقع پر پارٹی کے ضلعی صدر بیرسٹر ارشد عبداللہ اور این وائی او کے ضلعی صدر شاہ حسین نے بھی خطاب کیا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر