اورکزئی ایجنسی میں ٹھیکیدار کو بلا جواز تنگ کیا جاتا ہے

اورکزئی ایجنسی میں ٹھیکیدار کو بلا جواز تنگ کیا جاتا ہے

ہنگو(بیورورپورٹ)اورکزئی ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر غازی گلاب جمال کے سیکرٹری نے سرکاری سکول ٹھیکے میں کمیشن کا مطالبہ کیا۔ مطالبہ پورا نہ کرنے پر پولیٹیکل انتظامیہ نے بغیر کسی وجہ مجھے گرفتار کیا۔اورکزئی ایجنسی میں ٹھیکداروں کو بلا وجہ تنگ کیا جاتا ہے۔ٹھیکدار قاسم گل نے اے ڈی رحمان خان کے ہمراہ درنگ درہ روڈ کو کاغذوں میں مکمل کروا کر منصوبے کی رقم ہڑپ کر گئے۔ ستوری خیل درنگ درہ روڈ نہ بننے سے عوام مشکلات سے دوچار ہے۔ ان خیالات کا اظہار ستوری خیل قوم کے مشران ٹھیکدار واحد نور، ذولفہ خان، خانہ جان و دیگر نے ہنگو پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ٹھیکدار واحد نور نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گورنمنٹ ہائی سکول ستوری خیل کا ٹھیکہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد مجھے دیا گیا اور میں نے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس منصوبے کو پایا تکمیل تک پہنچایا۔ اس دوران اورکزئی ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر غازی گلاب جمال کا پرسنل سیکرٹری اعجاز شاہ مجھ سے 4 فیصد کمیشن کا مطالبہ کرتا رہا۔ جبکہ میرے انکارپر اس نے پولیٹیکل انتظامیہ کے ساتھ ساز باز کر کے مجھے گرفتار کرایا۔ اگر منصوبے میں کسی قسم کی کوئی خامی یا کوتاہی ہوتی تو محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا کام تھا کہ وہ ایکشن لیتا۔ اسی طرح اسی سکول کا چوکیدار الف خان بھی مجھ سے کمیشن کا مطالبہ کرتا رہا۔ پریس کانفرنس سے زولفہ خان نے کہا کہ درنگ درہ روڈ کا ٹھیکہ ٹھیکدار قاسم گل کے پاس ہے۔ روڈ پر ایک پیسے کا بھی کام نہیں ہوا مگر ٹھیکدار نے اے ڈی رحمان خان کے ساتھ ملکر سرکاری خزانے سے اس ٹھیکے کے لئے مختص رقم نکال کر ہڑپ کر لی ہے اور سڑک تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے مقامی افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس موقع پر خانہ جان نے کہا کہ ہمارے ستوری خیل میں پولیٹیکل انتظامیہ من پسند افراد میں ہینڈ پمپ اور دیگر سامان تقسیم کر دی ہے اور اکثر لوگوں کو نذر انداز کیا جاتا ہے۔ستوری خیل کے مذکورہ مشران نے پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے ساتھ ہونے والے زیادتیوں کا آزالہ کیا جائے اور ایجنسی میں بد عنوانی کے زریعے لوٹ مار کرنے والوں کا محاسبہ کیا جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...