ولی اللہ کی نقلیں اتارنے والا ایک بدبخت انجام کو پہنچ گیا، فقیروں کو فراڈ کہنے والے شخص کا واقعہ جو خود مذاق بن کر رہ گیا،جان کر ہر کوئی اس سے عبرت پکڑے گا

ولی اللہ کی نقلیں اتارنے والا ایک بدبخت انجام کو پہنچ گیا، فقیروں کو فراڈ ...
ولی اللہ کی نقلیں اتارنے والا ایک بدبخت انجام کو پہنچ گیا، فقیروں کو فراڈ کہنے والے شخص کا واقعہ جو خود مذاق بن کر رہ گیا،جان کر ہر کوئی اس سے عبرت پکڑے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اللہ کے بندوں کی گستاخی کرنے والے دنیا میں ہی اپنے عذاب میں مبتلا ہوجاتے اور انہین اسکی سز ملتی ہے۔کسی فقیر مجذوب کو دیکھ کر لوگ اسکو بھروپیا فراڈیہ نہ جانے کیا کچھ بک جاتے ہیں جو اللہ کو گوارہ نہیں ہوتا۔ قادری سلسلہ کے مشہور ولی اللہ حضرت شاہ سلیمان قادری ؒ جن کا مزار بھلوا ل میں واقع ہے،ان کی شان میں ایک ایسا ہی گستاخ انجام کو پہنچا تھا ۔بزرگان دین پر مشہور کتاب خزینۃ الاصفیہ میں لکھاہے کہ حضرت شاہ سلیمان قادری ؒ جذب، عشق و محبت، سکر ، حالت اور خوارق و کرامات میں بلند مقام اور اعلیٰ مرتبہ رکھتے تھے۔چار سال کی عمر میں حضرت شاہ معروف چشتیؒ کی نظر مبارک میں منظور ہوئے اور آپؒ پر سکر اور جذب کی حالت غالب ہوگئی۔ آپؒ کے والد صاحب میان منگو موضع بھلوال میں سکونت رکھتے تھے۔جن ایام میں شاہ سلیمانؒ موضع منچر میں تشریف رکھتے تھے ایک موچی کے گھر ڈیرہ کیا تھا۔ ہر وقت اور ہر حال میں مراقبہ میں سر نیچے کئے رکھتے تھے۔ایک کم بخت جولاہا اس موچی کا ہمسایہ تھا۔ وہ اپنی بدباطنی کی وجہ سے شاہ سلیمانؒ کی نقل کیا کرتا تھا، نقل کرنے کے وقت اسی طرح اپنی گردن ٹیڑھی کرکے مراقبہ میں بیٹھ جاتا اور تمسخر کیا کرتا تھا۔ ایک روز آپؒ راستے میں جا رہے تھے۔ اتفاقاً وہ جولاہا آگے سے آتا ہواملا۔ آپؒ نے اس کو مخاطب کرکے فرمایا ’’ فقیروں کی حالت کی نقل بنانا اور تمسخر کرنا اچھا نہیں ہوتا۔ ایسی حرکت سے باز آجا ورنہ سزا پائے گا‘‘

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

جولاہے نے گستاخانہ جواب دیا ’’ میں نے تمہارے جیسے کئی مکار فقیر دیکھے ہوئے ہیں،جا اپنا کام کر‘‘

حضرت شاہ سلیمان ؒ نے فرمایا’’ جس طرح میری غیبت میں تو میری حالت کی نقل کرتا ہے ایسا ہی میرے سامنے کرتاکہ میں بھی دیکھوں‘‘

وہ جولاہا بیوقوفی کی وجہ سے زیادہ گستاخ ہوگیا۔ اسی طرح دو زانو بیٹھ کر گردن ٹیڑھی کرکے مراقبہ میں سر ڈال دیا۔ اسی وقت اس کی گردن ٹیڑھی ہوگئی اور پھر تامرگ سیدھی نہ ہو سکی۔ ہر چند اس نے عذرت و معذرت کی مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔

مزید : روشن کرنیں