” میں نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سربراہ سے ملاقات کی اور ۔۔۔ “ سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے بڑا راز بے نقاب کردیا

” میں نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سربراہ سے ملاقات کی اور ۔۔۔ “ سابق وزیر ...
” میں نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سربراہ سے ملاقات کی اور ۔۔۔ “ سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے بڑا راز بے نقاب کردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ مودی کا پاکستان پر گجرات کے انتخابات میں اثر انداز ہونے کا الزام بے بنیاد ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں ہے، بھارت میں ہونے والے مختلف سیمینارز میں را کے سابق سربراہان سے بھی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں تو کیا یہ سب لوگ اس سازش میں شامل ہیں؟۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید قصوری نے مودی کے گجرات الیکشن میں پاکستان کے اثر انداز ہونے کے الزام پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت میں ایک پرائیویٹ ڈنر میں شریک تھے ۔ یہ ڈنر ایک این جی او کی طرف سے کرایا گیا تھا جس میں سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ، سابق نائب صدر حامد انصاری، سابق آرمی چیف جنرل دیپک کپوراور تین سفیر بھی موجود تھے، ڈنر کے شرکا نے پاک بھارت تعلقات پر گفتگو کی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: کانگریس پارٹی پاکستان کی ملی بھگت سے بی جے پی کو گجرات میں شکست دینا چاہتی ہے، مودی کی ہرزہ سرائی

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے پچھلے دورے میں بھارتی صدر سے بھی ملے تھے اس کے علاوہ کئی ڈنرز میں ان کی را کے سابق سربراہان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں تو کیا یہ سب لوگ مودی کے خلاف سازش میں شریک ہیں؟۔

خورشید قصوری نے کہا کہ مودی کی عجیب و غریب کہانی ہے جس کا سر پیر نہیں ہے ، انہوں نے الیکشن کی خاطر سب کچھ جائز سمجھا ہوا ہے انہوں نے سمجھا ہوا ہے کہ پاکستان کا اینگل دینے سے ووٹ پڑیں گے، اگر اس طرح لوگوں کو ووٹ ملتے ہیں تو یہ بہت ہی افسوسناک ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کے روز بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات میں الزام عائد کیا تھا کہ کانگریس پارٹی پاکستان کے ساتھ مل کر بی جے پی کو گجرات کے انتخابات میں شکست دینا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں سازش تیار کرنے کیلئے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری اور ہائی کمشنر نے مانی شنکر ائیر کے گھر پر منموہن سنگھ اور حامد انصاری سے ملاقات کی تھی۔

ویڈیو دیکھیں

مزید : اسلام آباد