یہ کوئی نیا کھیل شروع نہیں ہوا

یہ کوئی نیا کھیل شروع نہیں ہوا
یہ کوئی نیا کھیل شروع نہیں ہوا

  

مشرق وسطی میں سازشوں کے جال اب کوئی نئی بات نہیں اور ان سے بے خبر رہ کر ان کا شکار ہو جانا بھی مسلم دنیا کی عادت بن چکی ہے۔ عراق،کویت جنگ کے ساتھ عراق ۔ایران جنگ، عراق کی بربادی ،لیبیا کی خانہ جنگی ،مصر کی حالت زار ،شام کی بربادی،افریقہ میں مسلمان ممالک پر خانہ جنگی کا عذاب، پاکستان اور ترکی جیسی مسلم طاقتوں پر گہرے وار ،یمن اور سعودی عرب کی جنگ ،قطر سعودی تنازعہ ،سعودی عرب کے مخدوش اندرونی حالات اور اب اسرائیل کے دارالحکومت کا نیا شوشہ تواتر سے ہونے والے ایسے واقعات ہیں جن کے ثمرات اب امریکہ حاصل کر رہا ہے اور مسلم دینا کو اس کے نقصانات ہمیشہ ہوتے آئے ہیں اور ہوتے رہے گے۔

سرد جنگ کے دور میں روس اور امریکہ کے لیے اسلامی ممالک کو اپنے ساتھ ملانا ایک ضرروت تھی ،اس خطرہ کا خوف پیدا کرکے دونوں سپر پاورز نے خوب مال اکٹھاکیا، کسی بھی سپرپاور کا خطرہ دکھا کر اسلحہ بھی بیچا اور خوب قرض دے کر اپنا مقروض بنا کر معاشی طور پر لوٹا بھی۔لیکن ان ممالک کو اس کا یہ فائدہ ہوا کہ ان ممالک کی افواج بہت مضبوط ہو گئیں۔عرب اسرائیل تنازعہ کے باوجود امریکیوں نے کویت،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات ،پاکستان، ترکی،بحرین،اردن،ایران اور قطر کو بھی اسلحہ فراہم کیا ۔یہ بات بہت اہم ہے کہ صرف ایران اس وقت کا علاقائی تھانیدار تھا اور اس کی افواج بہت مضبوط تھیں۔اس کے علاوہ پاکستان اور ترکی کی افواج بہت منظم اور مضبوط تھیں ۔باقی تمام خلیجی ممالک کی افواج بہت مضبوط نہ تھیں۔عراق،شام،مصر اور لیبیا روسی بلاک میں تھے ،ان ممالک کی افواج بہت مضبوط تھیں۔ یوں دنیا میں ایک بیلنس آف پاور قائم تھا لیکن ایران میں انقلاب کے بعد امریکی ایران کی اتنی بڑی فوجی قوت کو اپنی چھتری سے باہر برداشت نہیں کر سکتے تھے کیونکہ امریکی کبھی بھی کسی ملک کو اپنی محتاجی کے بغیر مضبوط نہیں ہونے دیتے ۔اسی لیے عراق کے ساتھ جنگ شروع کروا دی گئی تاکہ دونوں ملک کمزور ہو جائیں۔ افغانستان کے تنازعہ میں الجھاؤ کے بعد جونہی سوویت یونین کے ٹکڑے ہوئے اس صورتحال میں تیزی سے تبدیلی آگئی امریکہ نے ایران کو کمزور کرکے عراق کی بقایا طاقت کو ختم کرنے کے لیے کویت کا مسلہ شروع کروایا اور خلیجی ممالک کو اپنا دفاعی لحاظ سے محتاج کرکے خوب مال بنایا ۔عراق کو مکمل طور پر تباہ کروادیا اور بعد میں ملا بھی کچھ نہیں ،اس غلطی کی نذر لاکھوں مسلمان ہوگئے۔داعش کا خطرہ پیدا کیا گیا تاکہ مسلمان خوف کا شکار ہو ں۔ لیبیا کوخانہ جنگی کا شکار کرکے برباد کر دیا گیا۔

مصر میں نئی حکومت کو بنتے ہی ختم کروا دیا گیا۔ماضی میں انور سادات کو مصر کی آزادی بچانے کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں معاہدہ کرنا پڑا،پھر اسی کو مروا کر حسنی مبارک کی کٹھ پتلی حکومت بنا دی گئی تاکہ مصر امریکہ کا نام نہاد اتحادی کہلائے جب مصر کی عوام ایک آمر کو باہر کیا تو اصل عوامی حکومت کو فارغ کروا دیا گیا۔لبنانی وزیر اعظم کی قید اور ایران کے ساتھ کشیدگی، خطہ کو ہلا نے سے کم نہیں۔قطر کے ساتھ کشیدگی کو بھی ابھی زیادہ دیر نہیں گزری ۔یمن کی جنگ نے سعودی عرب میں شدید ہیجان برپا کیا۔سعودی عرب کے ایران کے ساتھ مسائل میں اضافہ ہوتاچلا گیا ۔

ترکی کو کئی مرتبہ خانہ جنگی کا شکار کروانے کی کوشش کی گئی۔پاکستان میں بم دھماکوں اور دہشتگردی نے ڈیرے ڈالے رکھے ،نااہل اور کرپٹ لوگوں نے ہا ئی جیک کئے رکھا۔افریقہ کے مسلم ممالک کی حالت تو بہت ہی افسوسناک ہے۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ٹرمپ کی آمد کے بعد سے امریکیوں کی پالیسیاں سخت ہوتی نظر آ رہی ہے صدر ٹرمپ کے داماد بھی سعودی عرب کا خفیہ دورہ کر آئے ہیں جو ظاہری طور پر کاروبار سے متعلق تھا۔ لیکن امریکہ سعودی عرب کوایران کے مقابل کرنے کا خواہش مندہے اور امریکہ کی کوشش ہو گی کہ وہ اس علاقہ میں آکر بیٹھ جائے۔اسرائیل کا یہ ڈرامہ کسی اور منظر نامے کا آغاز معلوم ہوتا ہے،اس ساری صورتحال میں تمام مسلم ممالک میں قیادت کا شدید فقدان نظر آتا ہے ۔جس کا حل نظر نہیں آرہا۔اس لئے کہ کوئی بھی اسلامی ملک تاریخ سے سبق حاصل نہیں کررہا۔اور شاید قیامت تک یہی ہوتا رہے گا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ