بھارت کو پھر منہ کی کھانی پڑی، مسعود اظہر، لشکر طیبہ کا نام مشترکہ اعلامیہ میں شامل نہیں کریں گے: روس، چین کا اعلان

بھارت کو پھر منہ کی کھانی پڑی، مسعود اظہر، لشکر طیبہ کا نام مشترکہ اعلامیہ ...
بھارت کو پھر منہ کی کھانی پڑی، مسعود اظہر، لشکر طیبہ کا نام مشترکہ اعلامیہ میں شامل نہیں کریں گے: روس، چین کا اعلان

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دہلی(آئی این پی)چین اور روس نے بھارتی خواہش پر پانی پھیر دیا ، چین بھارت اور روس مابین دہشت گردی کے حوالے سے فیصلہ کن اور سخت ترین اقدامات اٹھانے کیلئے تعاون پر زوردیا ہے ، بھارتی خواہش کے باوجود سہ فریقی مشترکہ اعلامیہ میں مولانا مسعوداظہر اور لشکر طیبہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کی مخالفت میں بھارت کو ایک بار پھر منہ کی کھانی پڑی ہے ،نئی دہلی میں جاری کئے جانے والے سہ فریقی مشترکہ اعلامیہ میں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کی شدید خواہش کے باوجود لشکر طیبہ اور مولانا مسعود اظہر بارے کوئی لفظ بھی شامل نہیں کیا جا سکا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 700 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کے پالیسی بل پر دستخط کردیے

چینی وزیر خارجہ وانگ ای روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج مابین دہشت گردی کے حوالے سے فیصلہ کن اور سخت ترین اقدمات اٹھانے کے لئے باہمی تعاون میں فروغ کیلئے اتفاق کیا گیا لیکن مذاکرات کے مشترکہ اعلامیہ میں بھارتی حکومتی مشاورت کو رد کرتے ہوئے چین اور روس کے وزرائے خارجہ نے مولانا مسعود اظہر اور لشکر طیبہ کو دہشت گرد قرار دینے بارے کوئی بھی لفظ یا فقرہ نہیں کہا جبکہ بھارتی وزیر خارجہ کی یہ شدید خواہش تھی کہ خطے کے ان تین بڑے ممالک مابین ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کو دہشت گردی پروان چڑھانے والا ملک قراردیا جائے لیکن دونوں ممالک نے بھارت کی اس خواہش کو درخود اعتنا سمجھا۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

واضح رہے کہ مولانا مسعود اظہر کو بھارتی حکومت اپنی جانب سے بین الاقوامی دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین، روس، بھارت تعاون میکنزم کو انتہائی اہم سمجھتا ہے اور اسے امید ہے کہ تینوں ممالک اس پلیٹ فارم پر سٹریٹجک رابطے اور کمیونیکیشن کو بڑھاسکتے ہیں۔ دونوں وزرائے خارجہ نے جزیرہ کوریا کی صورتحال اور شام کے مسئلے اہم امور کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔

مزید : بین الاقوامی