فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 299

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 299
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 299

  

عباس اجمیری صاحب مان تو گئے مگر یہ شرط رکھ دی کہ وہ بھی رتن کمار کے ساتھ جائیں گے اس لیے ان کے ٹکٹ اور طعام وقیام کا بھی بندوبست کیا جائے۔

ہم نے کہا ’’عباس صاحب۔ یہ پروگرام فنڈ کے لیے مرتّب کیا جارہا ہے اس لیے وہ لوگ کم سے کم اخراجات کرنا چاہتے ہیں اور پھر کچھ اچھّا بھی نہیں لگتا کہ ان سے ایک اور ٹکٹ اور قیام کا مطالبہ کیا جائے۔‘‘

بولے ’’میاں۔ یہ کوئی نئی بات تو نہیں ہے۔ آخر میڈم نور جہاں کے ساتھ بھی تو اعجاز صاحب اور نیلو کے ساتھ ان کی والدہ جارہی ہیں۔‘‘

ہم نے کہا ’’وہ تو خواتین ہیں۔ ان کے ہمراہ ایک نگراں کا ہونا معمول بن چکا ہے۔‘‘

انہوں نے پان کی گلوری منہ میں ڈالی اور مسکرائے پھر بولے ’’مگر میرے بغیر رتن جائے گا نہیں۔ وہ میرے ساتھ رہنے کا عادی ہے۔ میرے بغیر وہ کچھ بھی نہیں کرتا۔‘‘

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 298 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’ یہاں تک کہ لڑکیوں رومانس کے لیے بھی آپ سے اجازت لے لی ہے؟‘‘ ہم نے کہا

فاتحانہ انداز میں بولے ’’بالکل۔ جتنا بھی رومانس ہوا ہے وہ میرے علم میں ہے۔اس کی کوئی بات مجھ سے چُھپی ہوئی نہیں ہے۔ ہر بات مجھے بتاتا ہے اورہر قدم اٹھانے سے پہلے میری اشیرواد لیتا ہے‘‘ پھر وہ مسکرائے’’نہایت سعادت مند لڑکا ہے۔مجھ سے پوچھے بغیر کسی سے عشق نہیں لڑاتا ‘‘

’’ماشاء اللہ،کیسے والد ہیں یہ ‘‘ ہم نے دل ہی دل میں کہا اور چائے پی کر چلے آئے۔

ہماری خواہش یہ تھی کہ عباس صاحب خود اپنے خرچ پر ڈھاکا جائیں تو مناسب ہوگا۔ اس زمانے میں ان کا فلم ساز ادارہ ’’فلمز حیات‘‘ پورے عروج پر تھا۔ فلم سازی اور تقسیم کاری کا سلسلہ جاری تھا۔ ’’ناگن‘‘ کی کامیابی نے ان کی دھاک بٹھا دی تھی۔ خوشحالی کا دور دورہ تھا۔ اس زمانے میں ہر فلم ساز کے پاس کار نہیں ہوتی تھی مگر ان کے گھر میں تین نئی اور قیمتی کاریں تھیں۔ مختلف کہانی نویس، موسیقار اور ہدایت کار ان کے لیے کام کررہے تھے۔ وہ اس خاندان کا سنہرا دور تھا ۔ پیسے کی ریل پیل تھی۔ ان کی فلموں کے خصوصی شو میں ان کا سارا خاندان موجود ہوتا تھا جنہیں دیکھ کر بہت دل خوش ہوتا تھا۔ فارغ البال ‘ مسکراتے ہوئے چہرے۔ زیورات میں لدی ہوئی خواتین، نوکرچاکر، خدمت گار، اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ اگر وہ اپنے ذاتی خرچ پر ڈھاکا چلے جاتے بلکہ رتن کمار کے اخراجات بھی خود اپنی جیب سے ادا کردیتے تو ان کے لیے معمولی بات تھی اور اس بات کا میزبانوں پر بہت خوشگوار اثر ہوتا۔ مگر عباس صاحب نے ہماری یہ تجویز مسترد کردی اور بولے ’’بھائی آپ کا کیا جاتا ہے۔ آخر وہ لوگ کافی رقم اکٹھّی کریں گے۔ اگر تھوڑا سا خرچ کردیں گے تو کون سی قیامت آجائے گی؟‘‘

ہم نے یہ بات حمید صاحب اور خیرُالکبیر صاحب تک پہنچا دی۔ وہ لوگ میڈم نور جہاں کی شرکت کی خبر سے اس قدر خوش تھے کہ اس کے بعد ہر شرط منظور کرنے پر آمادہ تھے۔ ان کے لیے تو میڈم نور جہاں کی رضامندی ہی سب سے بڑا انعام تھی۔ میڈم نور جہاں کی وہاں پوجا کی جاتی تھی۔

میڈم نور جہاں اپنے مخصوص سازندوں کے بغیر کوئی پروگرام نہیں کرتی تھیں۔ ان کے استاد اور چار سازندے ہر گانے میں لازماً موجود ہوتے تھے۔

انہوں نے ہم سے بھی سازندوں کے بارے میں کہامگر ہم نے کہا ’’بھابھی وہ لوگ زیربار ہوجائیں گے۔ مقصد تو زیادہ سے زیادہ رقم جمع کرنا ہے۔‘‘

وہ بولیں ’’مگر میں تو دوسرے سازندوں کے ساتھ گا ہی نہیں سکتی۔ خاص طور پر ہارمونیم والا تو میرا مزاج شناس ہونا ہی چاہیے۔‘‘

ہم نے کہا ’’ڈھاکا میں بڑے بڑے اُستاد پڑے ہیں۔ کوئی نہ کوئی بندوبست ہوہی جائے گا۔‘‘

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

اعجاز نے بھی ہماری تائید کردی اس طرح یہ مسئلہ بھی حل ہوگیا۔ ڈھاکا میں تمام پروگرام مرتّب ہوچکا تھا۔ مجید صاحب نے ہم سے کہا ’’آفاقی صاحب۔ آپ بھی جانے کے لئے تیار ہوجائیے۔ آپ کا ٹکٹ بھی آرہا ہے۔‘‘

’’ہماری کیا ضرورت ہے۔ آرٹسٹ موجود ہیں۔‘‘

وہ بولے ’’ان لوگوں کو سنبھالنے اوران کے مسائل حل کرنے کے لیے آپ کا جانا ضروری ہے۔ یہ سب موڈی لوگ ہیں۔ ایسا نہ ہو وہاں عین وقت پر کوئی مسئلہ پیدا ہوجائے اور سارا پروگرام ہی خطرے میں پڑجائے۔‘‘

اس طرح ہم بھی اس قافلے میں منیجر کے طور پر شامل ہوگئے۔

ڈھاکا کا ائرپورٹ اُس زمانے میں ایک سادہ سی عمارت میں واقع تھا۔ آس پاس دور دور تک ہریالی اور سبزہ زار کا منظر نہایت خوشگوار تھا۔ یہ شہر سے کافی فاصلے پر تھا۔ایک سڑک بل کھاتی، مُڑتی مُڑاتی ، مختلف علاقوں سے گزرتی تھی اور سیدھی (یعنی توڑ موڑ کے ساتھ) شاہ باغ ہوٹل پہنچ کر دم لیتی تھی جو اُس زمانے میں ڈھاکا کا بہترین ہوٹل تھا۔ راستے میں ناریل اور بانس کے درخت، کیلے کے درخت اور دوسرے سرسبز اور قد آور درختوں کی بہار دیکھنے کے لائق تھی۔ سڑک بعض جگہ چھوٹے چھوٹے تالابوں کے پاس سے گزرتی تھی۔ انہیں بنگالی زبان میں ’’پوکر‘‘ کہتے ہیں۔ دراصل یہ گڈھے تھے جن میں بارش کا پانی اکٹھاہوجاتا تھا۔ اس میں مچھلیاں یا تو خودبخود ہی پیدا ہوجاتی تھیں یا پھر کوئی اوران میں دو تین مچھلیاں لاکر چھوڑ دیتا تھا۔ کچھ عرصے بعد یہ مچھلیاں دن دونی رات چوگنی ترقی کرتی ہوئی سینکڑوں ہزاروں کی تعداد تک پہنچ جاتی تھیں۔ یہ پوکر آس پاس کے بچّوں کی تفریح گاہ بھی تھے۔ وہ اس میں غوطے لگاتے اور تیراکی کرتے تھے۔ بڑے بوڑھے جال یا بنسی ڈال کر بیٹھ جاتے اور مچھلیاں پکڑتے رہتے تھے جو ان کے لیے خوراک کا مفت بندوبست بھی تھا۔ عورتیں ان کے اردگرد جمع ہوکر گپ شپ کرتیں۔ کپڑے دھوتیں یا پھر پینے کے لیے برتن بھر بھر کر یہ پانی لے جاتی تھیں۔ گویا یہ ’’پوکر‘‘ یا ’’پھوکر‘‘ کثیرالمقاصد تھا اور اس کے بنانے پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہوتا تھا۔گڑھے قدرتی تھے یا لوگ مٹّی کھودنے کی غرض سے یہ گڑھے بنا دیتے تھے۔ بارش آسمان سے برس جاتی تھی۔ لیجئے ’’پوکر‘‘ تیار ہے۔

یہ پتلی سی پختہ سڑک بل کھاتی ہوئی مختلف دھان کے کھیتوں، باغوں اور سبزہ زاروں کے درمیان سے گزرتی تھی۔ اس میں بعض اوقات تو اتنے زیادہ موڑ آجاتے تھے کہ دل گھبرا جاتا تھا۔ جب جنرل اعظم خان مشرقی پاکستان کے گورنر بنے تو انہوں نے اپنے خلوص اورخدمت سے لوگوں کا دل جیت لیا۔ وہ آج بھی جنرل اعظم خان کو یاد کرتے ہیں۔ کاش پاکستان کو جنرل اعظم جیسا مخلص، ان تھک اور دیانت دار حکمراں نصیب ہوجاتا تو نہ مشرقی پاکستان علیحدہ ہوتا اور نہ ہی ہمارے ملک کا یہ حال ہوتا۔ جن دنوں جنرل اعظم خان مشرقی پاکستان کے گورنر تھے اسی زمانے میں انگلستان کی ملکہ الزبتھ پاکستان کے دورے پر آنیوالی تھیں۔ انہیں مشرقی پاکستان کا دورہ بھی کرنا تھا۔ جنرل صاحب کو خیال گزرا کہ ائرپورٹ سے جو ٹیڑھی میڑھی سڑک گورنمنٹ ہاؤس اور شاہ باغ ہوٹل تک جاتی ہے اُسے کشادہ، بالکل سیدھی اور دو رویہ ہونا چاہیے۔ ملکہ کے آنے میں چھ ہفتے کا وقت تھا۔انہوں نے متعلقہ افسروں کی ایک میٹنگ طلب کی اور ان سے کہا کہ ملکہ کی آمد کے موقع پر یہ سڑک کشادہ، دو رویہ اور بالکل سیدھی ہوجانی چاہیے۔

افسروں نے حیران ہوکر ایک دوسرے کو دیکھا پھر کہا ’’ صاب۔ یہ کیسے ہونے کو مانگتا۔ اتنے تھوڑے ٹائم میں یہ کام بالکول نہیں ہونے سکتا۔‘‘

جنرل صاحب نے فرمایا ’’دیکھو بھائی۔ نہیں ہونے سکتا کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم فوجی آدمی ہیں۔ صرف ٹارگٹ مقرر کرکے اسے حاصل کرلیتے ہیں۔ کیسے ہونے سکتا اور ہونے سکتایا نہ ہونے سکتا، ہماری کتابوں میں نہیں ہے۔‘‘

جنرل صاحب نے سڑک کا تخمینہ بنوایا۔ نقشہ تیار کرایا اور دوسرے دن انجینئرز اور پی ڈبلیو ڈی کے محکمے کو حکم دیا کہ ایک مہینے کے اندر یہ سڑک گورنمنٹ ہاؤس اور شاہ باغ ہوٹل تک مکّمل ہوجانی چاہیے۔ دو رویہ سڑک کے درمیان میں گھاس کے تختے بھی ہوں اور سڑک کے آس پاس خوبصورت درخت، پودے اور پھول بھی نظر آئیں۔

جنرل اعظم میں ایک قائدانہ خوبی یہ تھی کہ وہ دوسروں کو بخوشی کام کرنے پر آمادہ کرلیا کرتے تھے۔ اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ خود جنرل صاحب بھی خاکی نیکر اور خاکی قمیض پہنے، سر پر ہیٹ رکھے وہاں کھڑے رہتے تھے یا پھر مستقل چکّر لگاتے رہتے تھے۔ دن رات کام جاری تھا۔

ہم بھی ایک بار ان ہی دنوں میں ڈھاکا گئے۔ ائرپورٹ سے شام ڈھلے ہوٹل شاہ باغ کی طرف چلے تو راستے میں سڑک تعمیر ہوتے دیکھی۔ رات کا وقت تھا اور لاتعداد مزدور گیس کے ہنڈے جلائے ان کی روشنی میں سڑک کی تعمیر میں مصروف تھے۔ ہمارے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ سڑک ایک ماہ کے اندر مکّمل کرنی ہے۔ زنرل صاحب کا حکم ہے۔(جاری ہے )

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 300 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فلمی الف لیلیٰ