مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لئے امریکی چودھراہٹ قبول نہیں، القدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دیا جائے :طیب اردگان

مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لئے امریکی چودھراہٹ قبول نہیں، القدس کو فلسطین کا ...
مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لئے امریکی چودھراہٹ قبول نہیں، القدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دیا جائے :طیب اردگان

  

استبول (ڈیلی پاکستان آن لائن)ترک صدر طیب اردگان نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ بالخصوص فلسطین میں امن عمل کی کوششوں میں امریکی چودھراہٹ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے، القدس کواسرائیل کا نہیں بلکہ فلسطین کا دارالحکومت قرار دیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے خلاف ترکی میں اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی ) کے ہنگامی اجلاس کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔استنبول میں او آئی سی اجلاس میں 57 اسلامی ممالک کے سربراہان اور ان کے نمائندے شریک ہیں جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل دہشتگرد ریاست ہے مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرناعالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ہم آزادفلسطینی ریاست کے مطالبے سے کبھی دستبردارنہیں ہونگے،رجب طیب اردوان نے کہا کہ،مقبوضہ بیت المقدس پرامریکی فیصلہ انتہاپسندوں کے مفادمیں ہے، امریکی فیصلہ اسرائیل کے دہشتگردی اقدامات پرتحفہ ہے اور امریکی فیصلے کوصرف اسرائیل کی حمایت حاصل ہے،انہوںنے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس پرامریکی فیصلہ اخلاقیات کی اقدار کے منافی ہے،اسرائیلی فوج فلسطینی بچوں کوبھی شہید کررہی ہے،فلسطین کے رقبے میں نمایاں کمی آرہی ہے، اسرائیل قابض اور دہشت گرد ریاست ہے ۔

ترک صدر کی اپیل پر بلائے جانے والے او آئی سی کے اجلاس میں فلسطینی صدر محمود عباسی، اردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم، پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، آذربائیجان کے صدر الہام الیو، ایرانی صدر حسن روحانی اور بنگلہ دیش کے صدر عبدالحامد سمیت 22 اسلامی ممالک کے سربراہان اور 25 ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شریک ہیں۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں