ربّ نے بنائی جوڑی

ربّ نے بنائی جوڑی
ربّ نے بنائی جوڑی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان مُسلم لیگ کو پانامہ لیکس سے بے پناہ نقصان پہنچاہے لیکن ختم نبوت کے قانون کو چھیڑ نے کی پاداش میں مُسلم لیگ ن کو جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اُس کی مثال نہیں ملتی۔ اپوزیشن نے ختم نبوت کو ایشو بنا کر مُسلم لیگ ن کی حکومت کو گرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ابھی تک اِس منصوبے کے نتائج حزبِ اختلاف کے لئے اچھے برآمد ہوئے ہیں۔ مُسلم لیگ کے اراکین اسمبلی کے استعفوں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ مُسلم لیگ ن کی قیادت بھی اتنی کمزور نہیں ہے کہ یک لخت ہی شکست مان لے گی۔ مُسلم لیگ کے پاس مسند اقتدار ا بھی تک موجود ہے۔ حکومت کے تما م وسائل، اختیارات اور مراعات پاس ہونے کی وجہ سے وُہ کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے بہتر پوز یشن میں ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری اور ذاتی خزانہ بھی موجود ہے۔ لہذا مُسلم لیگ ن کی حکومت کو گرانے میں اپوزیشن کو وقت لگے گا۔ان تمام سہولتوں سے قطع نظر یہ بات ماننی پڑے گی کہ نو از شریف اور شہباز شریف پاکستانی بلخصوص پنجابی سیاستدانوں کے مزاج سے اچھی طر ح سے واقف ہیں۔ وہ روٹھے ہوئے سیاستدانوں کو منانے اور رجھانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔دونوں بھائیوں میں خوبیاں بھی ایک دوسرے سے مُختلف ہیں۔ لیکن یہ خوبیاں ایک دوسرے کی کمیوں کو سیلقے سے پورا کرنے کے لئے کلید ی کردار ادا کر رہی ہیں۔ربّ ان کی جوڑی خوب بنائی ہے۔ چھوٹے میاں صاحب میں انتظامی صلاحتیں بڑے میاں صاحب کے مقابلے میں زیادہ ہیں جبکہ بڑے میاں صاحب میں سیاسی چالوں کو جلد ی سمجھنے کی صلاحیت بدرجہ اُتم موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کی کامیاب جوڑی سے مُسلم لیگ ن کی حکومت ابھی تک قایم ہے۔ لیکن بد قسمتی سے شہباز شریف صاحب آ جکل زیر عتاب ہیں۔ حالات اُنکے قابو سے باہر ہوتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ پانامہ لیکس میں اُن کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے ۔ تاہم حدیبیہ کیس میں وہ بُری طرح ملوث ہیں۔ شریف خاندان کا کلیدی فرد اور مُلک کے بڑے صوبے کا وزیر اعلٰی ہونے کے باعث ہمشیہ خبروں میں رہتے ہیں۔ وُہ ابھی تک پانامہ لیکس سے بچے ہوئے تھے لیکن وُہ سانحہ ماڈل ٹاؤن مین اپنی عزت سادات گنوا چُکے ہیں۔ میاں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کی میاں شہباز شریف میاں نواز شریف کے جانشیں ہونگے اور میاں نواز شریف نے خود بھی کئی دفعہ اِس بات کا ا ظہار کیا تھا لیکن تمام قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوئیں۔ جناب شاہد خاقان عباسی صاحب مسند اقتدار پر براجمان ہوگئے۔ اسکو نیرنگی سیاست کہا جائے یا قسمت کا کھیل! فیصلہ قارئین پر چھوڑا جاتا ہے۔

پاکستان کی سیاست پر اگر بے لاگ تبصرہ کیا جائے تو دو نام معتبر ہیں جو مُلک کی ترقی میں کلید ی کردار ادا کرسکتے ہیں عمران خان اور شہباز شریف۔ غیر جانبدارانہ رائے یہ ہے کہ دونوں ہی شخصیتیں عوام میں مقبول ہیں اور دونوں کا دامن کرپشن سے ا بھی د اغدار نہیں ہوا۔ الزامات کی بات اور ہے۔ لیکن ابھی تک عدالتوں سے کسی کو بھی مجرم قرار نہیں دیا گیا۔ دونوں ہی مُلک میں تبدیلی کے خواہاں ہے۔ قوم اور مُلک کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ مزاج کے اعتبار سے گو فرق اور تفاوت موجود ہے لیکن دونوں ہی عوام کی خلوص نیت سے خدمت کرنا چا ہتے ہیں۔میاں نواز شریف مزاج کے اعتبار سے معتدل ہیں۔ اداروں کیساتھ بنائے رکھنے کی پالیسی کو پسند کرتے ہیں۔ مسائل کو حل کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ عمران خان مُلک میں تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں۔ مُلک میں کرپٹ نظام حکومت میں نئی، معنی خیز اور قابل عمل اصلاحات لانا چاہتے ہیں۔ مزاج اور زُبان کے تیز ہیں۔ وُہ مُلک اور قوم کے لئے بہتر نظام کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ اُنکا بڑا پن ہے کہ وُہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے میں بالکل محسوس نہیں کرتے۔ اُنکے سیاسی مخالفین اُنکو یو ٹرن لینے کا اکثر طعنہ دیتے ہیں۔ لیکن ہم سجھتے ہیں کہ وُہ مُلک اور قوم کی بہتری کو ا پنی شخصیت سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ یہ اُنکی کمزوری اگر ہے بھی تو اتنی بڑی نہیں کہ اُنکی کردار کُشی کی جائے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ مرکز میں عمران خان اور پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت ہو۔ گو آ گ پانی کا میل مُشکل ہے۔ لیکن سیاست میں کُچھ بھی ہو سکتا ہے۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

شہباز شریف کے بارے میں اخبارات میں کئی قسم کی چہ مگوئیاں کی جاتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ نواز شریف تو اپنے چھوٹے بھائی کو وزیر اعظم بنانے کے تیار تھے لیکن کلثوم نواز اور مریم نواز کی مخالفت کی وجہ سے نواز شریف کو اپنا فیصلہ اچانک بدلنا پڑا۔ اس فیصلے کے حق میں کئی دلیلیں دی گئیں تھیں کہ خاندانی ر قابتوں کی و جہ سے کلثوم نواز اور مریم نہیں چاہتیں کہ شہباز شریف کا خاندان وزیر اعظم ہاؤس میں قبضہ کرلے۔ پھر یہ خبر بھی گردش میں تھی کہ مریم نواز وزیر اعظم کی خالی سیٹ پر الیکشن لڑیں گی۔ لیکن اُنکو ٹکٹ نہیں دیا گیا اور قرعہ فال کلثوم نواز کے نام پر نکلا۔ عام خیال تھا کہ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شریف حلقہ ایک سو بیس میں ا نتخابی مہم چلائیں گے لیکن عین وقت پر مریم نواز کو مہم کا انچاج بنا دیا گیا۔ حمزہ شریف کی اچانک لندن روا نگی اور مسلسل خاموشی نے حالات کا رُخ موڑ دیا۔ یار لوگ بے پر کی اُڑانے لگے کہ شریف خاندان کا بٹوار ہ نزد یک ہے۔ دونوں بھائیوں کے اختلافات اس نہج تک پہنچ چُکے ہیں کہ اب دونوں کا ساتھ چلنا ناممکن ہے۔ بعض حلقوں نے یہ افواہ بھی پھیلائی کہ لندن میں خاندانی طور پر طے ہوا ہے کہ مریم نواز سیاست میں نواز شریف کی جگہ سیاست میں اہم کردار ادا کریں گی جبکہ خاندان کے بزنس کے امور چلانے میں حمزہ شریف کلیدی کردار ادا کریں گے ۔ حسن اور حسین نواز حمزہ شریف کے بزنس میں اُنکے معاون ہونگے۔مختصر یہ کہ جتنے مُنہ اُتنی باتیں۔ لیکن عوام نے دیکھا کہ ابھی تک دونوں بھائی ایک ساتھ ہیں او ر آئندہ بھی ایک ساتھ ہی رہیں گے۔ نظریاتی اختلافات ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ ممکن نہیں کہ چھوٹا بھائی بُرے وقت میں اپنے بڑے بھائی کو چھوڑ دے یا اقتدار کی خاطر بھائی سے بیوفائی کرے۔ دونوں کا سو چنے کا ڈھنگ علیحدہ ہے لیکن دونوں ایک دوسرے کوبچانے کے لئے ہمہ وقت تیار اور مستعد رہتے ہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ