2 لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والی یہ چیز دراصل کیا ہے؟ سائنسدانوں کا جواب جان کر آپ کی بھی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

2 لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والی یہ چیز دراصل کیا ہے؟ سائنسدانوں ...
2 لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والی یہ چیز دراصل کیا ہے؟ سائنسدانوں کا جواب جان کر آپ کی بھی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے نظام شمسی میں ایک عجیب و غریب چیز دیکھی جا رہی ہے جس کی شکل ایک سگار نما کیپسول کی سی ہے اور اس نے پوری دنیا کو وسوسے میں مبتلا کر رکھاہے۔اب سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اس کے متعلق ایسی بات کہہ دی ہے کہ سن کر ہر کوئی دنگ رہ گیا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق انتہائی معروف سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کی سربراہی میں کام کرنے والی سائنسدانوں کی ٹیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ عجیب الخلقت چیز ممکنہ طور پر خلائی مخلوق کا خلائی جہاز ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کیپسول نما چیز لگ بھگ 1300فٹ لمبی اور 260فٹ چوڑی ہے جو اس وقت ہمارے نظام شمسی میں 196میل فی گھنٹہ (3لاکھ16ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کر رہی ہے۔پہلی بار 15اکتوبر کو اس کا سراغ لگایا گیا تھا۔ اس وقت یہ چیز ہماری زمین سے ڈیڑھ کروڑ میل کے فاصلے پر تھی اور مخالف سمت میں مزید دور جا رہی تھی۔

’اگلے 2ماہ کے دوران پاکستان میں 5بڑے دہشتگردی کے واقعات ہوں گے‘ یہ پیشنگوئی کس نے کی؟ پاکستانیوں کے لئے انتہائی خطرناک خبر آگئی

رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کی یہ ٹیم آج امریکی ریاست ویسٹ ورجینیا کے شہر گرین بینک کے قریب دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو ٹیلی سکوپ کے ذریعے اس پراسرار چیز کا مزید معائنہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس غیرارضی چیز سے خارج ہونے والے برقی مقناطیسی سگنلز کوسننے کی کوشش کر رہے ہیں جو موبائل فون کے سگنلز سے زیادہ طاقتور نہیں ہوتے۔ یہ سگنل شہاب ثاقب جیسی غیرارضی اشیاءسے خارج نہیں ہوتے۔ اگر اس کیپسول سے سگنلز کے اخراج کا پتا چلا گیا تو یہ بات یقینی ہو جائے گی کہ یہ خلائی مخلوق کی اڑن طشتری ہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماہرین نے اس غیرارضی چیز کو Oumuamuaکا نام دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سگار نما کیپسول کسی انتہائی کثیف چیز، پتھر وغیرہ سے بنا لگتا ہے تاہم اس کادھاتی ہونا بھی خارج ازامکان نہیں۔تحقیق کار پروفیسر لوئب کا کہنا ہے کہ ”ممکنہ طور پر یہ خلائی مخلوق کا ’مدرشپ‘ (Mothership)ہے جو انتہائی تیزی کے ساتھ سفر کرتا ہے اور اس سے چھوٹے چھوٹے کئی خلائی جہاز باہر نکلتے ہیں جو نظام ہائے شمسی میں گرتے ہیں اوراپنے کسی مخصوص مشن کے لیے آزادانہ سفر کرتے ہیں۔ “

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...