’پولیس سٹیشن میں زبردستی میرا حمل ضائع کیا گیا اور مجھے جیل میں ڈال دیا گیا، جہاں سکیورٹی اہلکاروں نے کتوں کو۔۔۔‘ خاتون نے رونگٹے کھڑے کر دینے والی کہانی بیان کردی

’پولیس سٹیشن میں زبردستی میرا حمل ضائع کیا گیا اور مجھے جیل میں ڈال دیا گیا، ...
’پولیس سٹیشن میں زبردستی میرا حمل ضائع کیا گیا اور مجھے جیل میں ڈال دیا گیا، جہاں سکیورٹی اہلکاروں نے کتوں کو۔۔۔‘ خاتون نے رونگٹے کھڑے کر دینے والی کہانی بیان کردی

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی کوریا نے عالمی سپرطاقت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو تگنی کا ناچ تو نچا رکھا ہے لیکن اس کے عوام کی حالت زار کے متعلق گاہے ایسی کہانیاں منظرعام پر آتی رہتی ہیں جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اب ایسی ہی ایک دردناک کہانی شمالی کوریا سے بھاگ کر جنوبی کوریا پہنچنے والی لڑکی نے گزشتہ دنوں اقوام متحدہ میں سنائی ہے۔ ’جی ہیون اے‘ نامی اس لڑکی نے بتایا کہ ”میں نے تین بار شمالی کوریا سے بھاگ کر چین کے راستے جنوبی کوریا پہنچنے کی کوشش کی لیکن ہر بار میں چین میں پکڑی جاتی اور وہ مجھے واپس شمالی کوریا بھیج دیتے۔ چوتھی بار میں کامیاب رہی اور جنوبی کوریا پہنچ گئی۔ شمالی کوریا میں مجھے ایک لیبر کیمپ میں رکھا گیا تھا جہاں ہم سے جبری مشقت کروائی جاتی تھی۔ جب میں تیسری بار چین میں پکڑی گئی تو وہاں ایک شخص کے ساتھ میرے تعلقات قائم ہو گئے اور میں حاملہ ہو گئی۔ جب مجھے واپس بھیجا گیا تو اس وقت میں تین ماہ کی حاملہ تھی لیکن واپس پہنچتے ہی شمالی کورین حکام نے زبردستی میرا اسقاط حمل کروا دیا کیونکہ وہ مخلوط النسل بچوں کو اپنے ملک میں پیدا نہیں ہونے دیتے۔ جو خاتون بھی چین یا کسی اور ملک سے حاملہ ہو کر واپس پہنچتی ہے اس کا حمل ضائع کروا دیا جاتا ہے۔“

’یہ3 نسلیں خدا کو نہیں بنانی چاہیے تھیں، یہ یہودی‘ صدام حسین اپنی ٹیبل پر ہمیشہ یہ تختی رکھتے تھے، یہودیوں کے علاوہ 2 دوسرے نام کونسے تھے؟ جان کر آپ ہکے بکے رہ جائیں گے

ہیون کا کہنا تھا کہ ”لیبر کیمپ میں میں نے بہت اذیت ناک زندگی گزاری، جہاں ہم سے دن بھر جبری مشقت کروائی جاتی تھی۔ وہاں کئی حاملہ خواتین بھی اس اذیت سے دوچار تھی جو دن بھر کام کرتیں اور رات کو درد کے باعث ان کی چیخیں سنائی دیتیں۔ ان میں سے اکثر کے بچے دنیا میں آنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔وہاں کئی حراستی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں جہاں ملک سے بھاگنے کی کوشش کرنے والوں اور دیگر افراد کو قید کیا جاتا ہے۔ ان جیلوں میں قید ہونے والوں کو کئی کئی دن تک خوراک میسر نہیں آتی۔ ان میں سے اکثر فاقوں سے مر جاتے ہیں اور حکام ان کی لاشیں اپنے سراغ رساں کتوں کے آگے ڈال دیتے ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے کتوں کو ان افراد کی لاشیں نوچتے اور کھاتے دیکھا ہے۔“رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے جی ہیون اے نے چینی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شمالی کوریا سے فرار ہو کر آنے والے باشندوں کو واپس بھیجنا بند کریں۔ اس نے دنیا سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ واپس بھیجے جانے والے شمالی کورین شہریوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے جدوجہد کریں کیونکہ فرار ہوتے پکڑے جانے والے شخص کی زندگی وہاں اجیرن بنا دی جاتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...