سیاسی اختلافات پس پشت ڈال کر امت کا اتحاد ضروری، مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے مسلم ممالک اقتصادی دباﺅ بڑھائیں: شاہد خاقان عباسی

سیاسی اختلافات پس پشت ڈال کر امت کا اتحاد ضروری، مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے ...
سیاسی اختلافات پس پشت ڈال کر امت کا اتحاد ضروری، مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے مسلم ممالک اقتصادی دباﺅ بڑھائیں: شاہد خاقان عباسی

  

استنبول (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے فیصلے کے بعد امت مسلمہ اپنے حکمرانوں سے سوال پوچھتی ہے کہ ہم نے نہتے فلسطینی مسلمانوں کے لئے کیا کیا؟ کیا ہم اپنے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر امت کے لئے نہیں سوچیں گے؟ہمیں فوری طور پر اپنے سیاسی اختلافات بھلانا ہوں گے ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اگر امریکی صدر کے اعلان پر کوئی اقدامات نہیں اٹھاتی تو مسلم ممالک کو یہ معاملہ جنرل اسمبلی کے سامنے پیش کرنا چاہیے ، مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے مسلم ممالک کواقتصادی دباﺅ بڑھانا ہوگا۔ 

اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس میں وینزویلا کے صدر نے شرکت کی

استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے فلسطینی عوام اور ان کی جائز جدوجہد کیلئے پاکستان کی دوٹوک حمایت کا اعادہ کیا ان کا کہنا تھا  کہ فلسطینی عوام کیلئے القدس شریف کے دارالحکومت کے ساتھ ایک خود مختار ریاست کا قیام بدستور واحد روڈ میپ ہے، پاکستان امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا اپنا فیصلہ منسوخ کرے اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی تعمیل کرتے ہوئے دو ریاستی حل کا ازسرنو اعادہ کرے، مسئلہ کشمیر کے معاملہ پر بھی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا اور کشمیری عوام کی اپنی آزادی کیلئے منصفانہ جدوجہد کو دہشت گردی کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہم اپنی سیاسی، اقتصادی، مواصلاتی اور تکنیکی کمزوریوں پر قابو پائے بغیر اپنے بھائیوں کا پائیدار دفاع کرنے سے قاصر ہوں گے خواہ وہ فلسطین میں ہوں یا کشمیر میں، امید ہے کہ غم و غصہ کے اظہار کے چند مظاہرے جوں کی توں صورتحال کی قبولیت میں تحلیل نہیں ہوں گے۔ شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ او آئی سی سربراہ اجلاس امریکہ کے نظرثانی شدہ فیصلہ کو متفقہ طور پر مسترد کرے، دنیا بھر کے مسلمان انصاف اور آزادی کیلئے اکٹھے ہوں، ہمیں بین الاقوامی برادری میں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کوشش کرنے والوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا ہے۔ وزیراعظم نے القدس شریف پر او آئی سی کا غیر معمولی سربراہ اجلاس بلانے پر ترک صدر طیب اردوان اور ترکی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر معمولی وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد الاقصیٰ کی بے حرمتی کے بارے میں 1969ءکی رباط سربراہ کانفرنس نے یہ امید پیدا کی تھی کہ فلسطینی عوام سے ہونے والی ناانصافیوں اور مسلم دنیا کو درپیش تمام مسائل کے حوالہ سے مسلم امہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرتے ہوئے متحد ہو کر جواب دے گی۔

مزید : قومی /اہم خبریں